نیب ترمیمی بل پردستخط ۔الیکٹرونک مشین سے متعلق بل توثیق کیلیے صدر کو ارسال ،الیکشن کمیشن کا فنڈ ز کیلیے حکومت کو خط

91

اسلام آباد(آن لائن+صباح نیوز)قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین سے متعلق الیکشن دوسرے ترمیمی بل 2021ء کو دستخطوں اور توثیق کے لیے صدر مملکت عارف علوی کو بھجوا دیا ہے اور رواں ہفتے ہی اس بل کے قانون بننے کا قوی امکان ہے۔ قومی اسمبلی کے حکام کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاس ہونے والے دیگر 32 بلز بھی مرحلہ وار صدر مملکت کو بھجوائے جارہے ہیں، ان بلز کو وزارت پارلیمانی امور کے ذریعے بھجوایا جارہا ہے تا کہ یہ ایکٹ کی شکل اختیار کر کے قانون بن جائے،الیکشن دوسرے ترمیمی بل 2021ء کے تحت آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین استعمال کرنا اور سمندر پار پاکستانیوں کو ای ووٹ کا حق دینا شامل ہے ،اسی طرح ضابطہ فوجداری کے قانون میں بھی ترمیم کی گئی ہے ،صدر کے دستخطوں سے یہ تمام قوانین فوری نافذ العمل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 33 بلز پاس کیے گئے تھے جن کی اپوزیشن نے شدید مخالفت کی تھی اور ایوان سے واک آئوٹ کیا تھا جس کے بعد حکومت باآسانی ان بلز کو پاس کرانے میں کامیاب ہوگئی تھی ۔علاوہ ازیںصدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب(ترمیمی)بل2021ء کی منظوری دے دی۔صدرمملکت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ترمیمی)بل2021ء اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (دوسری ترمیم)بل2021ء کی بھی منظوری دی ہے۔صدر کی توثیق کے بعد تینوں بل ایکٹ بن گئے ۔ایوان صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدر مملکت نے تسنیم سلطانہ اور محبوب علی دایو کی احتساب عدالت کے جج کے طور پر تعیناتی کی بھی منظوری دیدی ہے ۔ تسنیم سلطانہ کراچی جب کہ محبوب علی دایو حیدر آباد احتساب عدالت کے جج ہوں گے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکومت کو الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کے لیے فنڈز جاری کرنے کے لیے خط لکھا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے سے متعلق خط لکھ دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے وزارت پارلیمانی امور سے معاملہ متعلقہ حکام تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ ای وی ایم اسٹوریج کے لیے حکومت کو کوہسار بلاک میں2فلور مختص کرنے کی بھی تجویز دے دی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر آئندہ عام انتخابات اکتوبر 2023ء میں ہوں گے اور ہمیں ان23ماہ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اہم اقدامات کرنے ہیں، الیکشن کمیشن کو8لاکھ سے زاید الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کی اسٹوریج کے لیے ویئر ہائوس درکار ہوگا جب کہ ڈیٹا سینٹر، کنٹرول سینٹر، جدید لیب، پرنٹنگ اور ٹریننگ سیشنز کے لیے بھی عمارت درکار ہوگی لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود پلاننگ کمیشن نے عمارت کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ضروری انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے فنڈز میں تاخیر سے پہلے ہی وقت کاضیاع ہوچکا ہے، پلاننگ کمیشن اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون میں عمارت کی تعمیر کے لیے فوری فنڈز جاری کرے اور وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس عمارت کی تعمیر کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے، ویئر ہائوس بروقت تعمیر نہ ہونے کے خدشے کے پیش نظرحکومت کسی سرکاری عمارت میں جگہ مختص کرے۔ وزارت پارلیمانی امور کے مطابق آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن 8لاکھ سے زاید الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں خریدے گا جب کہ الیکشن کمیشن کو الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کی اسٹوریج کے لیے3ایکڑ زمین درکار ہوگی۔ادھروفاقی حکومت نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے آرڈیننس جاری کردیا ،پولنگ الیکٹرونک ووٹنگ مشین سے ہوگی۔ آرڈیننس کے مطابق اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات میں آئی ووٹنگ بھی ہوگی۔ میئر اسلام آباد کی کابینہ 12 رکنی ہوگی۔ میئر اسلام آباد کا انتخاب براہ راست اور 4 سال کے لیے ہوگا۔ میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کے ارکان کی تعداد 70 ہوگی۔ ترقیاتی کام، تعلیم، بنیادی صحت، پبلک ٹرانسپورٹ ایم سی آئی کے حوالے کیے گئے ہیں ۔ پارکس، واٹر سپلائی، صفائی کا نظام اور اسٹریٹ لائٹس بھی ایم سی آئی کے حوالے ہوں گے۔ ہر نیبرہڈ کونسل 20 ہزار آبادی پر مشتمل ہوگی۔ 10رکنی نیبرہڈ کونسل میں 5جنرل رکن ، ایک خاتون، ایک مذہبی رکن شامل ہوگا۔ نیبرہڈ کونسل میں خواتین کی 2، سینئر سٹیزن اور یوتھ کا ایک ایک نمائندہ ہوگا۔