مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشتگردی جاری،مزید 3 نوجوان شہید

103

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزنے مزید3کشمیری نوجوانوں کوشہید کردیا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسزنے ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین کشمیری نوجوانوں کوسرینگرمیں جعلی مقابلے میں شہید کیا۔قابض بھارتی فوجیوں نے علاقے کی ناکہ بندی کردی۔سرچ آپریشن کے نام پربھارتی فوجی گھروں میں گھس کرکشمیریوں کوہراساں کررہے ہیں۔سرینگراوردیگرعلاقوں میں موبائل اورانٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی
ہے۔قبل ازیں مقبوضہ کشمیر میں 1989سے ابتک 2300سے زائد خواتین کوشہید،11ہزارسے زائد کی بے حرمتی کی گئی۔ کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے میں کہا گیا ہے بھارت نے کشمیری خواتین کے تقدس اورعصمت کو پامال کرنے کیلیے اپنے فوجیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1989سے اب تک مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں نے 2ہزار3سوسے زائد کشمیری خواتین کو شہید اور11ہزار246سے زائد کی بے حرمتیاں کی ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 30برس سے جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کے دوران 22ہزار 936سے زائد کشمیری خواتین بیوہ ہوگئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت خواتین کی عصمت دری کو مقبوضہ علاقے میں ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور کشمیری خواتین کو ان کے پیاروں کی دوران حراست جبری گمشدگیوں کے ذریعے ذہنی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بھارتی فوجی کشمیریوں کی تذلیل کیلیے خواتین کوروزانہ کی بنیاد پر جنسی طور پر ہراساں کر رہے ہیں۔دریں اثناء غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے سروں پر لاٹھی یا بندوق رکھ کر جموںوکشمیر پر اپنا غیر قانونی تسلط جاری نہیں رکھ سکتی۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے بانہال کے گائوں نیل میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی طاقتور قوم نے بندوق کے زور پر لوگوں پر حکومت نہیں کی اور بھارت بھی کشمیریوں کے سروں پر لاٹھی یا بندوق رکھ کرمقبوضہ علاقے پر اپنا قبضہ برقرارنہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے کہاکہ امریکا جیسی عالمی طاقت بھی فوجی طاقت کے بل پر افغانستان پر حکومت کرنے میں ناکام رہی اور آخر کاراسے وہاں سے جانا پڑا۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے دفعہ 370کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کیا کیونکہ کشمیری عوام اپنی شناخت اور عزت ووقارکی واپسی چاہتے او روہ بھی سود سمیت واپسی چاہتے ہیں۔