جماعت اسلامی کا چانڈکا میڈیکل کالج واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ

76

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری کاشف سعید شیخ نے چانڈکا میڈیکل کالج ہاسٹل نمبر 2میں چوتھے سال کی طالبہ نوشین کاظمی کی موت کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے طالبات کے لیے مقتل گاہ بنتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے والدین میں سخت تشویش پائی جاتی ہے، ایک جانب سرداری نظام اور وڈیرہ شاہی کی وجہ سے پہلے ہی طالبات کی شرح خواندگی کم ہے، آئے روز خواتین اور لڑکیوں کے قتل،اغوا اور زیادتیوں کے واقعات رونما ہورہے ہیں تو دوسری جانب اعلیٰ تعلیمی اداروں سے بھی وقفے وقفے سے طالبات کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے، اس سے پہلے میرپورماتھیلو سے تعلق رکھنے والی نمرتا کماری اور نائلہ رند ایسے ہی بدبودار نظام کا شکار ہوچکی ہیں جن کے لواحقین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا ہے، ایسے واقعات سندھ حکومت اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے لمحہ فکر ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اگر نمرتا کماری اور نائلہ رند کے کیس کی شفاف تحقیقات ہوتی تو آج نوشین کاظمی کی لاش پنکھے سے نہ لٹک رہی ہوتی، متوفیہ کی گردن پر تشدد کے نشانات اور پیر ٹیبل پر لگے ہوئے تھے جس سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے، جن اداروں میں ہماری بہنیں اور بیٹیاں ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے جاتی ہیں وہاں سے ان کی لاشیں مل رہی ہیں ، نوشین شاہ کا قتل خودکشی ہے یا قتل اس کی اعلیٰ عدالتی کمیشن کے ذریعے شفاف تحقیقات کی جائیں ، اگر خودکشی ہے تو اس کے اسباب کیا ہیں اور جن لوگوں نے اس معصوم لڑکی کو اپنی جان لینے کے لیے مجبور کیا انہیں قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک گہری سازش کے تحت سندھ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو طالبات کے لیے مقتل گاہ بنایا گیا ہے، طالبات کو ہراسمنٹ سمیت جنسی بلیک میلنگ کے ذریعے پریشان کرنا عام بات بن چکی ہے، افسوس کی بات ہے کہ سندھ حکومت خواتین اور طالبات کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، جماعت اسلامی متاثرہ خاندان کے ساتھ دکھ کی اس گھڑی میں ساتھ کھڑی ہے ہم انصاف کے لیے ہر فورم پر بھرپور ساتھ دیں گے۔