مظاہرین پر فائرنگ کیخلاف سید عبدالرشید کا سندھ اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس

99

کراچی (اسٹاف رپورٹر)رکن سندھ اسمبلی اور جماعت اسلامی کے رہنما سید عبد الرشید نے جمعرات کو سندھ اسمبلی کی کارروائی کے دوران اپنے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے لیاری میں کے الیکٹرک کے خلاف حالیہ احتجاج کے موقع پر فائرنگ کے واقعہ پر توجہ دلائی۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی عدم فراہمی پر احتجاج جاری تھا کہ گولیاں چلائی گئیں۔اس موقع پرایک 11سالہ بچے کو4 گولیاں لگیںجبکہ دوسرا بچہ پائوں میں گولی لگنے کی وجہ سے معذور ہوگیا ہے، اس بچے کی جگہ کوئی رکن اسمبلی ہوتا، ریٹائرڈ جج یا ریٹائرڈ جنرل ہوتا تو اب تک گولیاں چلانے والے گرفتار ہوچکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کو 48 گھنٹے ہوگئے ہیں اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ اس واقعے پر رینجرز ، پولیس ، کے الیکٹرک کے افسر سب سے رابطہ کیا گیا میں نے امتیاز شیخ سے بھی رابطہ کیا،گولیاں چلنے کے بعد بجلی بحال ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ وہاںکیمرے لگے ہوئے ہیں جن کی مدد سے فائرنگ کرنے والوں کی شناخت ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پورے علاقے میں مشتبہ افراد گھوم رہے ہیں۔امتیاز شیخ نے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے کے الیکٹرک کے دفتر پر حملہ کیا جس پرکے الیکٹرک کے گارڈنے ہوائی فائرنگ کی۔اس دوران 2 موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی جس سے 3 افراد زخمی ہوگئے۔اس واقعے پرایف آئی آر درج ہوگئی ہے۔کراچی الیکٹرک والے بتا رہے ہیں کہ 8 ارب کے بل لیاری میں ہیں۔ہم ایک میٹنگ بلائیں گے اس کا کوئی حل نکلے۔بجلی فری تو نہیں ملے گی۔دریں اثنا سندھ اسمبلی نے اپنے اجلاس میں جمعرات کو کئی ترمیمی بلوں کی منظوری دے دی جبکہ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی محمد حسین کی ایک تحریک استحقاق کو خلاف ضابطہ قرار دیکر مسترد کردیا گیا۔ایوان نے اپنی کارروائی کے دوران سندھ فوڈ ترمیمی بل، ایجوکیشن سٹی ترمیمی بل اورسندھ مائنز اینڈ منرلز گورننس بل 2021ء ء￿ کے علاوہ پارلیمانی امور اور انسانی حقوق پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کی بھی منظوری دے دی۔ ڈپٹی اسپیکر نے محمد حسین کی تحریک استحقاق کو خلاف ضابطہ قرار دیکر مسترد کردیا۔بعدازاں ایوان کی کارروائی کوجمعہ کی دوپہر2بجے تک ملتوی کردیا گیا۔