اسٹیٹ بینک کی خود مختاری سے معیشت برباد ہورہی ہے ،این ایل اایف

94

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی رہنما اور امیدار برائے چیئرمین یوسی106میاںاعجازحسین نے کہا ہے کہاکہ آئی ایم ایف کی شرائط قبول کرنا ملک کی آزادی وخودمختاری کو دائو پر لگانے کے مترادف ہے، مہنگائی کا مزید طوفان اور ملک عملی طور پر عالمی مالیاتی اداروں کا غلام بن جائے گا،ہر ماہ پیٹرولیم لیوی میں 4روپے اضافہ، بجلی کی قیمتوں میں 4.75روپے اضافے کی نیپرا تجویز اور اسٹیٹ بینک کی خود مختاری سے ملک مزید غلامی کی زنجیروں میں جکڑ جائے گا جبکہ عوام جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھو ں مارے ہوئے ہیں ان کی زندگی اجیرن ہو جائے گی، سود ومالیاتی اداروں سے نجات کے بجائے ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت سودی معیشت کو فروغ اور ملک وقوم کو زنجیروں میں جکڑے میں مصروف ہے۔انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری اور آئی ایم ایف کے ماتحت کرنے سے ملکی معاشی حالت مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے، اب پاکستانی قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کی معاشی خودمختاری کو گروی رکھنے سے بچانے کے لیے موجودہ حکمرانوں سے نجات کے لیے باہر نکلنا ہے یا مزید مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی چکی میں پستے رہنا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا مطلب عالمی مالیاتی اداروں کے لیے محض ایجنٹ بننے کے مترادف ہوگا، اسٹیٹ بینک کی جانب سے حالیہ شرح سود میں اضافے کے فیصلے سے پہلے ہی ملک میں مہنگائی کی نئی لہر آچکی ہے، آئی ایم ایف سے سخت ترین شرائط پر معاہدے کے باوجود حکمران انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ خوشی کے شادیانے بجانے میں مصروف ہیں جبکہ ساڑھے 3 سو ارب کی ٹیکس چھوٹ واپس، بجلی، پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی کرکے پہلے ہی مہنگائی کے مارے ہوئے عوام کی جیبوں سے ہر ماہ مزید 60ارب روپے نکالے جائیں گے جبکہ اگلے ماہ منی بجٹ کی بھی نوید سنائی جارہی ہے، ملک کے عوام جو پہلے ہی قہرناک مہنگائی سے بدترین حالات کا سامنا کررہے ہیں مزید مہنگائی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس وقت ملک ایک آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی بحران سے دوچار ہے۔ حکومت کرپشن مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ نت نئے آڈیو وڈیو اسکینڈلز نے ملک میں انارکی پھیلا دی ہے جس سے قومی سلامتی بھی خطرات سے دوچار ہے۔