نسلہ ٹاور کو کراچی کا بنیادی مسئلہ سمجھ کر حل کیا جائے،حافظ نعیم الرحمن

408
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نسلہ ٹاور کی انہدامی کارروائی کے دوران متاثڑین سے اظہارہمدردی اور میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ آج نسلہ ٹاور پر نہیں بلکہ یہاں کے متاثرین اوران کے بچوں کے مستقبل پر ہتھوڑے مارے جارہے ہیں،کراچی میں ناجائز تعمیرات کرانے والوں کے خلاف کیوں کاروائی نہیں ہوتی ؟،نسلہ ٹاور کوکراچی کا بنیادی مسئلہ سمجھ کر حل کیا جائے اور بنی گالہ وحیات ریجنسی ہوٹل کی طرح دیکھا جائے ، 3سال گزرگئے اسلام آباد میں حیات ریجنسی ہوٹل کا آج تک تفصیلی فیصلہ نہیں آیا جبکہ نسلہ ٹاور منہدم کرنے کے حوالے سے روزبیانات آتے ہیں،نسلہ ٹاور اورحیات ریجنسی ہوٹل کے 3 رکنی بینچ میں جسٹس اعجاز الحسن بھی شامل تھے، انہوں نے حیات ریجنسی ہوٹل کے حوالے سے جو فیصلہ کیا وہ نسلہ ٹاور کے حوالے سے کیوں نہیں کرتے؟چیف جسٹس ایسے فیصلے نہ کریں کہ جس سے کراچی کے عوام ان کے مقابلے میں آجائیں ۔ہم چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں کہ نسلہ ٹاور کے انہدام کو فوری روکا جائے ،کراچی میں قائم تمام غیر قانونی عمارات کو منہدم کرنے سے قبل متاثرین کومعاوضہ اورمتبادل دیاجائے ،میں بطور امیرجماعت اسلامی کراچی متاثرین کے ہمراہ عدالت عظمیٰ جاؤں گا اور کراچی کے 3 کروڑ سے زاید شہریوں کا مقدمہ لڑوں گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نسلہ ٹاور کی انہدامی کارروائی کے موقع پرمتاثرین کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امرا کراچی برجیس احمد ، ڈاکٹر اسامہ رضی ، محمد اسحاق خان ،راجا عارف سلطان، عبدالوہاب ،سیکرٹری کراچی منعم ظفر خان ،ڈپٹی سیکرٹریز کراچی عبد الرزاق،راشد قریشی ،انجینئر عبدالعزیز ،یونس بارائی ،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ،پبلک ایڈ کمیٹی کے سیکرٹری نجیب ایوبی ودیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ ہم اپیل کرتے ہیں معزز عدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے لارجر بینچ قائم کیا جائے اور 1947ء سے لے کر آج تک تمام تعمیرات کے حوالے سے کاغذات سامنے لاکر حقائق سامنے لائے جائیں۔ جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ہے کہ شہر کی تمام ناجائز تعمیرات گرائی جائیں لیکن اس سے قبل شہریوں کو ان کا معاوضہ دیا جائے ،بلڈرز مافیا سے پیسے دلانا ریاست اور عدالتوں کا کام ہے ،سندھ حکومت دو رنگی اور منافقت چھوڑدے، نسلہ ٹاور کے متاثرین کو ان کا معاوضہ دیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس انصاف کی بات کرتے ہیں تو بتائیں کہ 6سال سے کے الیکٹرک کے خلاف پٹیشن موجود ہے اس پر کیوں کوئی کارروائی نہیں کی جاتی؟کے الیکٹرک ایک مافیا کی طرح کراچی کے 3 کروڑ سے زاید شہریوں پر مسلط ہے ، حکومتی نمائندے عدلیہ کے چیمبر میں جاکر کے الیکٹرک کو ریلیف دلاتے ہیں،کراچی کی آدھی گنتی کردی گئی ، مردم شماری کے حوالے سے کیسز موجود ہیں، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کراچی کے مسائل کے حل کے حوالے سے کمیٹی بنائیں اور خود براہ راست اس کمیٹی کی سربراہی کریں، سندھ حکومت نے نسلہ ٹاور کی بجلی ، پانی کا کنکشن منقطع کر کے متاثرین کو نکلنے پر مجبور کردیا، نسلہ ٹاور کے متاثرین نے تمام تر واجبات ادا کرنے کے بعد جگہ لی تھی پھر کیوں انہیں معاوضہ نہیں دیا جارہا ،نسلہ ٹاور کے متاثرین متوسط طبقے سے وابستہ شہری ہیں ،ایک ہی ملک میں 2قانون اور2 آئین نہیں چلیں گے ۔