دُ عا

222

 

دعا انسانیت کے لیے ایک بڑا عطیہ خدا وندی اور انعام ربانی ہے، اس میں انسان کو مساوات کا عظیم سبق ملتا ہے، انسان کو اپنے خالق ومالک، الہ واحد احکم الحاکمین سے قرب کا احساس پیدا ہوتا ہے، اسے اپنے رب سے مناجات وہم کلامی کا شرف حاصل ہوتا ہے، اس کے لیے نہ وقت کی قید ہے اور نہ کسی خاص جگہ کا تعین، اس سے ہٹ کر کہ وقت اور جگہ کا تعین اپنا اثر اس طور پر دکھایا بھی کرتے ہیں کہ اللہ کو صاف ستھری جگہ پسند ہے تو جو جگہ جتنی صاف ستھری ہے، اللہ نے اس کو دوسری جگہوں پر فوقیت دے دی، جیسے بیت اللہ شریف (کعبہ مشرفہ) اور اس کے قریب کی جگہیں وغیرہ اور بعض اوقات جس کو اللہ نے دوسرے اوقات پر فضیلت دی، جیسے شب قدر، جمعے کی خاص ساعت، رات کا آخری حصہ وغیرہ، لیکن اس میں بھی جو اثر تعلق مع اللہ دکھاتا ہے وہ اثر سب پر بھاری پڑتا ہے، اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ مانگا جائے اور یہ سمجھ کر مانگا جائے کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے، جو اس کے دل ودماغ میں ہے۔ اور وہ سب سننے والا ہے، جو اس کی زبان پر ہے۔ وہ قریب ہے، مانگنے والے کو دیتا ہے، دیتے وقت وہ مانگنے والے کی مصلحت اور فائدہ کو دیکھتا ہے، کبھی وہ ہی دے دیتا ہے جو اس نے مانگا اور کبھی وہ اس کے عوض کوئی تکلیف وپریشانی کو دور کر دیتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں آئی تھی او رکچھ چیزیں وہاں دے گا جب مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور اس وقت اسے یہ تمنا ہوگی کہ اس کی ساری مانگیں آج کے ہی دن پوری کی جائیں۔
اسی طرح اللہ کو یہ پسند ہے کہ ہر چیز اسی سے مانگی جائے اور ہر ضرورت اسی کے سامنے رکھی جائے اور اس کو یہ پسند ہے کہ اس سے بلا استحقاق مانگا جائے، بڑی سے بڑی چیز مانگی جائے، مگر ایسی چیز مانگنا پسند نہیں جس میں دوسرے انسان کا نقصان ہو او راپنی ذات کا فائدہ، یہ حسد کی ایک قسم ہے، جسے حرام کیا گیا ہے کہ دوسرے کو جو نعمت اور فضل ملا ہو وہ اس سے چلا جائے اور اسے مل جائے، اس کو یہ پسند ہے کہ آدمی جو خیر اپنے لیے مانگ رہا ہے، اس میں دوسرے کو بھی شریک کرے اور اس پر تو وہ بہت خوش ہوتا ہے کہ خیر دوسرے کے لیے پہلے مانگ لے تو مانگنے والے کی یہ مانگ اس کے لیے جلدی پوری ہوتی ہے، اپنے لیے اور اپنے ساتھ دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا اس کی پسندیدہ دعا ہے اور ایسی دعا جس کی نہ صرف تعلیم دی گئی، بلکہ اس سورۃ کو کم از کم پنج وقتہ نمازوں میں ہر رکعت میں پڑھا جانا تھا، اس دعا کا پابند کر دیا، آدمی سمجھ کر اس دعا کو ان اوقات میں ہی پڑھ لیا کرے تو دوسروں کا بہی خواہ بنے بغیر نہیں رہ سکتا، وہ دعا یہ ہے: ’’ہمیں سیدھی راہ دکھا…الخ
قرآن مجید میں اور بھی جامع دعائیں سکھلا دی گئی ہیں اور پھر پیغمبر انسانیت سیّد محمد رسول اللہؐ نے دعاؤں کا ایک ذخیرہ امت کے لیے چھوڑا ہے، جس میں اس کی دینی ودنیوی ضروریات کی تکمیل کے ساتھ، انسانیت کی فلاح وبہبود اور حاکم و رعیت کے مفادات کا لحاظ، عمر کے مختلف مراحل کا خیال، زندگی کے نشیب وفراز کا دھیان اور انفرادی واجتماعی انسانی فکر نمایاں ہوتی ہے، حیرت ہوتی ہے کہ رسول اللہؐ نے دعاؤں کے اندر بھی انسانی حقوق کا کس باریک بینی سے نہ صرف خیال رکھا، بلکہ امت کو ان حقوق کی طرف دعاؤں کے ذریعے سے بھی توجہ دلائی ہے۔