کرپشن کے خلاف تاریخی جدوجہد

224

پاکستان میں کرپشن کے بیج آمریت کے ادوار میں بوئے گئے۔ ان غیر آئینی اور غیر قانونی حکومتوں نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے رشوت، پرمٹ اور پلاٹ کے ساتھ ساتھ با اثر اشرافیہ کے ذمے بینکوں کے واجب الادا اربوں روپے کے قرضے معاف کیے اور بدعنوانی سے کمایا کالا دھن سفید کرنے کے لیے صوابدیدی اقدامات کیے۔ آمریت کا سورج غروب ہونے کے بعد سیاسی اور جمہوری حکومتوں میں مالیاتی کرپشن کا دور 1988ء سے شروع ہوا۔ منی لارنڈنگ، کِک بیکس، بے نامی جائدادوں اور ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاحیں پہلی مرتبہ سُنی گئیں۔ 1990ء اور 1996میں بے نظیر بھٹو اور 1993ء میں نواز شریف کی حکومتیں کرپشن کے الزامات پر برطرف کی گئیں۔ سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد ؒ نے بدترین کرپشن کے خلاف 27 اکتوبر 1996ء اسلام آباد میں تاریخی دھرنا دیا۔ حکومت ِ وقت نے مظاہرین پر زبردست تشدد کیا، آنسو گیس کے 2500 شیل فائر کیے اور پُر امن مظاہرین پر گولی چلائی جس کے نتیجے میں تین کارکن شہید ہوئے جبکہ قاضی حسین احمدؒ سمیت متعدد سیاسی رہنما اور کارکنان زخمی ہوئے۔
1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے جمہوریت پر شب خون مارا تو وہ زیادہ عرصہ تک سیاسی حرکیات کا سامنا نہ کر سکے چنانچہ اُنہوں نے اپنی آمریت بچانے کے لیے سیاسی جماعتوں میں بیٹھے بے ضمیر اور مفاد پرست سیاستدانوں اور مافیاز کے ساتھ سازباز کی، اُن کے ذمے بینکوں کے اربوں روپے کے قرضے معاف کرنے کے علاوہ سویلین اور غیر سویلین مشیروں کو کرپشن کرنے کی کھلی چھوٹ دیدی۔ اسی زمانے میں لینڈ مافیا کو بھی ریاستی عناصر کا تحفظ ملا۔ سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے ہوئے اور نجی سوسائٹیاں وجود میں آگئیں۔ کالا دھن سفید کرنے کے لیے رئیل اسٹیٹ اور پرائیویٹ بینکوں کے کاروبار کو پھیلایا گیا جس سے مصنوعی معیشت وجود میں آئی، بڑے بڑے فارم ہاؤسز بنے اور لوٹی گئی قومی دولت بیرونِ ملک منتقل ہوگئی۔ اور اس طرح سرمایہ دار اشرافیہ میں کئی نئے خاندان شامل ہو گئے جو ایوبی آمریت میں 22 ہوا کرتے تھے۔ اگرچہ 8 ویں آئینی ترمیم کا سہارا لے کر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں کو (کرپشن کے الزامات پر) برطرف کیا گیا مگر ملزمان پر مقدمے چلے اور نہ ہی کرپشن ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائے گئے۔ اگر کچھ احتساب کے ادارے قائم بھی ہوئے تو اُسے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا کمزور فیصلوں سے قومی مجرموں کو کچھ عرصہ بعد کلین چٹ دے دی گئی۔
جماعت اسلامی نے کرپشن کے خلاف مسلسل ملک گیر تحریکیں چلائیں اور عوام کے ہر طبقے میں شعور اور آگہی پیدا کی جس کے نتیجے میں ’’کرپشن فری پاکستان‘‘ آج پوری قوم کا مطالبہ بن گیا ہے۔ مارچ 2016ء میں جب کرپشن نے سیاسی اور معاشی نظام کو بری طرح جکڑلیا تو جماعت اسلامی نے ایک مرتبہ پھر کرپشن کے خلاف بھرپور ملک گیر تحریک چلائی اور پشاور سے کراچی تک ٹرین مارچ کیا۔ یہ تحریک زوروں پر تھی کہ یکم مئی 2016ء کو پاناما پیپرز منظر عام پر آگئے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پاناما اسکینڈل میں ملوث 436 افراد کے خلاف کارروائی کے لیے ’’عدالت عظمیٰ‘‘ سے رجوع کیا۔ عمران خان اُس وقت اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے تھے اور تحریک انصاف اسمبلیوں سے استعفا دینے کا اعلان بھی کر چکی تھی۔ پے در پے ناکامیوں کے بعد عمران خان بھی بالآخر عدالت عظمیٰ پہنچ گئے۔ عدالت عظمیٰ میں ’’پاناما پیپرز‘‘ سے ’’اقامہ‘‘ نکل آیا اور 28 جولائی 2017ء کو نوازشریف کو نااہل قرار دے دیا گیا جبکہ پاناما پیپرز میں ملوث 436افراد کے خلاف جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت غیر معینہ عرصے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ جماعت اسلامی نے اس کا تعاقب جاری رکھا اور 4 نومبر 2017ء کو عدالت عظمیٰ کو ایک اور درخواست دی گئی کہ پاناما کیس کی سماعت شروع کی جائے۔ علاوہ ازیں ہر عوامی فورم سے بھی بار بار مطالبہ کیا گیا کہ عدالت ِ عظمیٰ پاناما کیس کی سماعت شروع کرے مگر کیس چلا اور نہ ملزم انصاف کے کٹہرے میں لائے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی وفاقی وصوبائی کابینہ میں شامل مافیاز نے شہہ پاکر اودھم مچایا اور کرپشن دن دگنی رات چوگنی ترقی کر گئی اور اِن مافیاز نے کرپشن کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے پہلے کرپشن چھپ کر کی جاتی تھی مگر پھر ڈاکوؤں کی طرح کی جانے لگی۔ ان مافیاز نے عوام اور قومی خزانے کو چینی بحران میں 184 ارب روپے، آٹا؍ گندم بحران میں 220 ارب روپے، پٹرول بحران میں 25 ارب روپے، توانائی بحران میں 350ارب روپے اور ایل این جی بحران میں 100 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا۔ اپنی حکومت بچانے کے لیے عمران خان نے نہ صرف مافیاز کو کھلی چُھوٹ دی بلکہ سرکار ی خزانے سے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز دے کر اپنے ہی ارکانِ پارلیمنٹ کی وفاداری کو یقینی بنایا جس سے ثابت ہو گیا کہ پی ٹی آئی حکومت بھی ماضی کی کرپٹ حکومتوں کا تسلسل ہے۔ آج حال یہ ہے کہ وزیراعظم بدعنوان وزیروں اور مشیروں کے ہاتھوں اتنا مجبور ہیں کہ اپنے اقتدار کی خاطر مافیاز کو ختم کرنے کی جرأت نہ معاشی اور سیاسی بحرانوں کو ختم کرنے کی اہلیت پیدا کرسکے۔ قوم کو آئی ایم ایف کے (قرضوں کے) جال میں پھنسانے کے بعد مہنگائی کے بم برسا برسا کر روند ڈالا۔ اُن کی دیدہ دلیری دیکھیے کہ دوست ممالک سے بحیثیت وزیراعظم لیے گئے قیمتی سرکاری تحائف کی تفصیلات دینے سے بھی انکاری ہوگئے۔ اُن کی حکومت نے غریبوں کے گھر اور کاروبار مسمار کردیے مگر اپنی رہائش گاہ بنی گالا کی غیر قانونی تعمیرات کو ریگولرائز کروالیا۔ آج ایک جانب ملک کا معاشی بحران گہرا ہو گیا ہے تو دوسری طرف اخلاقی بحران نے بھی سر اُٹھا لیا ہے۔
معاشی اور اخلاقی بحران کے دوران 3اکتوبر 2021ء کو ’’پنڈ ورا پیپرز‘‘ میں پاکستان کی اُن 700 شخصیات کے نام سامنے آگئے جنہوں نے اپنی غیرقانونی دولت چھپانے اور ٹیکس سے بچنے کے لیے بیرون ملک آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔ ان میں ماضی کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی مخلوط وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے وزراء کے علاوہ بڑی سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنما، اعلیٰ سول اور غیرسول افسران، سرمایہ دار، بینکار اور لینڈ مافیا کے نام شامل ہیں۔ جماعت اسلامی نے 8 نومبر 2021ء کو ایک مرتبہ پھر عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے اور استدعا کی ہے کہ پاناما لیکس اور پینڈورا لیکس میں ملوث 436 اور 700 افراد کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائیں، بیرونی ممالک سے عوام کی لُوٹی گئی دولت کو واپس لایا جائے اور جو لوگ قومی دولت لوٹنے اور آف شو کمپنیوں میں چھپانے میں ملوث ہیں، سے پوچھا جائے کہ بیرون ملک چھپائی گئی رقم کہاں سے آئی؟ اُن سے بھی منی ٹریل مانگی جائے، جیسے دوسروں سے مانگی جاتی ہے۔
عمران خان کا مطالبہ تھا کہ احتساب کا آغاز موجودہ وزیراعظم سے کیا جائے۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ احتساب کا آغاز وزیراعظم عمران خان کی موجودہ پی ٹی آئی حکومت ہی سے کیا جائے جس نے قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس میں باربار ترمیمات کر کے ’’احتساب سب کا‘‘ کے مطالبے سے دستبرداری اختیار کر کے احتساب کے تابوت میں کیل ٹھونک دی اور میگا اسکینڈلوں میں ملوث وفاقی و صوبائی وزراء، سیاست دانوں اور غیر سویلین عناصر کو تحفظ دیدیا۔
اب عوام کا عدالت عظمیٰ سے مطالبہ ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور احتساب کے دیگر اداروں کے متنازع اور بے وقعت ہونے کے بعد ایسا احتسابی نظام قائم کرے جو ہر قسم کے حکومتی اور ریاستی دباؤ سے آزاد ہو، لوٹی گئی قومی دولت قومی خزانہ میں واپس لانے کا طریقہ کار وضع کرے اور معاشی دہشت گردوں سے غریب قوم کی جان چھڑائے۔