پٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال

105

پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں جمعرات 25 نومبر سے پٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ پٹرول کے ڈیلرز حکومت سے مطالبہ کررہے تھے کہ ان کے منافع کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔ پٹرول پمپ کے مالکان کی تنظیم نے 5 نومبر کو ہڑتال کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے موخر کردیا ہے، حکومت اور پٹرولیم ڈیلر کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ حکومت نے یقین دہائی کرادی تھی کہ ان کے مطالبات تسلیم کرلیے جائیں گے۔ پٹرولیم ڈیلرز نے کافی عرصے قبل حکومت کو خبردار کردیا تھا کہ ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ ہڑتال پر مجبور ہوجائیں گے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پٹرولیم ڈیلرز کو خبردار کیا کہ اگر ملک میں پٹرول پمپ بند کیے گئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اوگرا کے خبردار کرنے کے باوجود پورے ملک میں پٹرول پمپ بند کردیے گئے۔ جس نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ پورا ملک توانائی کے بحران کا شکار ہے۔ گیس کی قلت کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو سی این جی کی فراہمی محدود کردی گئی ہے۔ پٹرول اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پٹرول پمپ کی بندش قومی معیشت کو مفلوج کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور پٹرول ڈیلر دونوں کو ذمے دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اپنے مطالبات منوانے کے لیے عوام کو تکلیف دینا معقول راستہ نہیں ہے۔ اگر پٹرول فروخت کرنے والے پمپ کے مالکوں کو کم منافع مل رہا ہے تو اس کے ذمے دار شہری نہیں ہیں۔ پٹرول کی رسد بحال رکھنا حکومت کی بھی ذمے داری ہے جس میں وہ ناکام رہی ہے۔