کورونا کی نئی لہر، بائیس لاکھ یورپی موت کا شکار ہوسکتے ہیں،عالمی ادارہ صحت

128

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں یورپ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافے کےباعث 7 لاکھ  افراد موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔جبکہ رواں موسم سرما میں  ہلاکتوں کی تعداد 22 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ادارے کا کہنا ہے  31 مارچ 2022 تک 53 میں سے 49 ممالک میں انتہائی نگہداشت یونٹس میں  مریضوں کا انبار لگنے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔

دوسری جانب عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرانس کے وزیراعظم ژان کاسٹیکس کورونا میں مبتلا ہو گئے حالانکہ ژاں کاسٹیکس نے کورونا کی ویکسینیشن مکمل کر لی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یورپ میں کیسز میں اضافہ پابندیوں میں نرمی اور ڈیلٹا ویرینٹ کے اثرات اورسماجی فاصلے جیسے اقدامات میں کمی کے نتیجے میں ہوا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ہفتے کوویڈ 19 سے ہونے والی اموات یومیہ2100 سے بڑھ کر گزشتہ ہفتے  4,200 تک پہنچ گئی ہیں۔رواں صورتحال میں ۔کورونا کی 5 ویں لہر کے بعد یورپی یونین نے حفاظتی تدابیر پر غورشروع کردیا ہے.یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کو ہم آہنگ کرنے اور کورونا وائرس کے کیسز جن میں حال ہی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کی وجہ سے سیر و سفر سے متعلق قوانین پر نظر ثانی کرنے کی جارہی ہے۔سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یورپی یونین میں کووِڈ 19 کے کیسز میں اضافے اور مختلف سطحوں پر رکن ممالک کی جانب سے سخت کیے گئے اقدامات کے حوالے سےباہمی روابط پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امور صحت کی ذمہ دار یورپی یونین کمیشن کی رکن سٹیلا کیریاکیدس نے سیشن میں اپنی تقریر میں کہا ہے کہ “ہمیں اس معاملے پر تضادات سے  بچنا ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ  “ڈیجیٹل کوویڈ سرٹیفکیٹ” ایپلی کیشن ایک ایسا عنصر ہے جو تمام رکن ممالک کو متحد کرتا ہے،کہ اس ہفتے کمیشن یورپی یونین کی حدود  میں موجودہ سفری قوانین میں وبا کی نئی صورتحال کے مطابق ترامیم  کرے گی۔ڈیجیٹل کوویڈ سرٹیفکیٹ کو یکم جولائی سے نافذ کیا گیا تھا ۔یورپی یونین نے 19 اگست کو ترکی کے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کو تسلیم کیا تھا۔

یورپی یونین میں منظور شدہ سرٹیفکیٹ بائیون ٹیک فائزر۔ ماڈرنا، آسڑا زینیکا ، جانسن اینڈ جانسن ویکسین پر محیط ہے۔وہ لوگ جو آخری خوراک کے بعد 2 ہفتے گزار چکے ہوتے  ہیں، عام طور پر ان کے لیے اضافی ٹیسٹ یا سفر پر پابندیاں عائد نہیں ہوتیں۔