انڈونیشیا کی آئینی عدالت کا متنازعہ لیبر قوانین میں ترمیم کا حکم 

104

انڈونیشیا کی آئینی عدالت نے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے سے جڑے قوانین کو مشروط طور پرغیرآئینی قرار دیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ دو سال کے اندر اندران میں ترمیم لائے۔

گزشتہ برس منظور کیے گئے نئے لیبر قوانین پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ ان کی وجہ سے ملازمین کے حقوق میں کمی کے علاوہ ماحولیاتی تحفظ کے شعبے کو بھی نقصان ہوگا۔

انڈونیشیا کے چیف جسٹس انورعثمان نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر اگلے دو برسوں میں حکومت ان قوانین میں ترمیم نہیں کرتی، تو یہ قوانین مکمل طور پر غیرآئینی سمجھے جائیں گے۔