گٹرلائن بیٹھ گئی ہے

271

عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں محترم چیف جسٹس گلزار احمد کی آواز مکے اور مدینے کہ اعلیٰ عدلیہ سے لے کر زیریں عدلیہ تک تمام جج صاحبان پوری تندہی سے کام کررہے ہیں، لوگوں کو انصاف فراہم کرہے ہیں سوال یہ ہے کہ جنہیں انصاف فراہم کیا جارہا ہے، پاکستان کے عوام اور وہ سائلین عدالتوں کی راہداریوں میں جن کے بال سفید ہوجاتے ہیں بقول علی احمد کرد ’’ہر پیشی پر جو ایک داغ سینے پر لے کرجاتے ہیں‘‘، انہیں اس بات کی کیوں خبر نہیں۔ عدالتی نظام کی عالمی رینکنگ کرنے والوں کو کیوں پتا نہیں جنہوں نے رول آف لا یا قانون کی بالادستی کے حوالے سے 130 ممالک کی فہرست میں پاکستان کو 126ویں نمبر پر رکھا ہے یعنی وہ ممالک جو اپنے عوام کو انصاف مہیا کرنے میں پست ترین سطح پر ہیں پاکستان ان میں بھی نیچی سے نیچی حالت پر ہے سوائے چار ممالک کے، اور پھر خود ریاست پاکستان کو اس کا کیوں علم نہیں جو برباد ہوتی جارہی ہے اور اس بربادی کی وجہ؟ ایک حکایت سن لیجیے: ایک توتے اور توتی کا گزر کسی جنگل سے ہوا۔ دیکھا ہر طرف بربادی ہی بربادی ہے، درخت اور پودے سوکھے ہوئے، گھاس جلی ہوئی، پھولوں اور پھلوں کا کہیں پتا نہیں، ہوا میں تازگی اور نہ خوشبو۔ توتے نے توتی سے کہا ’’ضرور اس جنگل میں کسی اُلّو کا بسیرا ہے۔ اُلّو جہاں بسیرا کرلیتے ہیں وہ جگہ برباد ہوجاتی ہے‘‘۔ ایک اُلّو قریب ہی شاخ پر بیٹھا یہ سب سن رہا تھا۔ وہ ان دونوں کے پاس آیا اور بولا ’’زہے نصیب آپ میرے جنگل میں تشریف لائے۔ کیا ہی خوش بختی ہوگی اگر رات کا کھانا میرے گھر تناول فرمائیں‘‘۔ توتے اور توتی کو کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ انہوں نے خوشی خوشی دعوت قبول کرلی۔ رات کو دعوت میں الّو نے دونوں کی خوب خاطر تواضع کی۔ کھانے کے بعد جب توتا اور توتی واپس جانے لگے تو اُلّو ان کی راہ میں حائل ہوگیا اور توتے سے بولا ’’تم توتی کو کہاں لے کر جارہے ہو۔ یہ تو میری بیوی ہے‘‘۔ توتے نے حیرت سے کہا ’’یہ کیسے ممکن ہے؟ تمہاری جنس الگ ہماری جنس الگ۔ یہ توتی تم اُلّو، یہ تمہاری بیوی کیسے ہوسکتی ہے؟‘‘ اُلّو نے کہا ’’فضول بک بک نہ کرو۔ توتی میری بیوی ہے۔ اگر تم نے مزید حجت کی تو میں معاملہ اعلیٰ عدالت میں لے جائوں گا‘‘۔ معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔ محترم جج صاحب نے دونوں طرف کے دلائل سنے، گواہوں کے بیانات لیے اور دوتین دن بعد فیصلہ سنایا کہ ’’توتی الو کی بیوی ہے‘‘۔ توتے نے حیرت سے فیصلہ سنا اور روتے ہوئے عدالت سے تنہا جانے لگا۔ اُلّو پھر اس کی راہ میں حائل ہو گیا اور بولا ’’اکیلے کہاں جارہے ہو، توتی کو تو ساتھ لیتے جائو‘‘۔ توتا بولا ’’عدالت نے فیصلہ سنادیا ہے توتی تمہاری بیوی ہے‘‘۔ اُلّو نے کہا ’’نہیں! توتی تمہاری بیوی ہے اور تمہارے ساتھ ہی رہے گی۔ میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں اُلّو کا بسیر کرنے سے برباد نہیں ہوتیں، بستیاں تب برباد ہوتی ہیں جب وہاں سے انصاف اٹھ جائے‘‘۔
پاکستان کی عدالتوں میں عام آدمی کو کس کس طرح ذلیل اور بے عزت کیا جاتا ہے، کس کس طرح دھکے کھلا ئے جاتے ہیں۔ اس کا کسی کو احساس نہیں۔ ہمارا عدالتی ضمیر اتنا گہرا دفن ہوچکا ہے کہ اس کی واپسی کی کوئی امید نہیں۔ عدالتی کارروائی طویل، تکالیف سے پُر، بے یقین اور بے مقصد التوا کا شکار تو رہتی ہی ہیں لیکن اب عدالت تک پہنچنا اتنا مہنگا ہوگیا ہے، وکلا کی فیسیں اتنی بھاری ہوگئی ہیں کہ ان کی ادائیگی عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان کے ضابطہ قانون کے مطابق رشوت جرم ہے عدالتوں کو دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس ملک میں ایسا کوئی قانون موجود ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام کی شفافیت، قابلیت اور اہلیت پر بھروسا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کان بند، آنکھیں بینائی سے محروم، حواس مختل اور ضمیر مردہ ہوچکا ہو۔ پاکستان کی عدالتیں نظریاتی تو کیا، کہنے کو بھی آزاد نہیں رہتیں جب اسٹیبلشمنٹ ان پر اثرانداز ہونے لگتی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کئی ماہ پہلے اپنی ایک رپورٹ میںکہا تھا کہ پاکستان کی عدلیہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے زیر اثر ہے۔ حکومت پاکستان نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا لیکن اس رپورٹ کے اثبات میں اب ثبوتوں کا وہ تواتر ہے کہ کوئی دن نہیں جاتا کہ اس حوالے سے میڈیا پر شور اٹھا ہوا نہ ہو۔ تازہ شور سابق چیف جسٹس سابق نثار کی آڈیو ٹیپ کا ہے جس میں وہ نواز شریف اور مریم نواز کو سزائیں دینے کے حوالے سے بات کررہے ہیں۔ اگرچہ احمد نورانی نے امریکا کے معتبر فورنزک ماہرین سے آڈیو چیک کرائی ہے جنہوں نے ہر اعتبار سے آڈیو کو اوریجنل قراردیا ہے لیکن فرض کریں آڈیو جینوئن نہیں ہے پھر بھی اس تاثر کا آپ کیا کریں گے جو اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر اسٹیبلشمنٹ کے تعلق اور دبائو کے حوالے سے ہر زبان پر جاری ہے۔
آڈیو لیک سے پہلے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کا بیان حلفی، اس سے پہلے مرحوم جج ارشد ملک کی وڈیو ٹیپ اور اس سے بھی پہلے جسٹس شوکت عزیز کے انکشافات، یہ کوئی صحافی، اپوزیشن سیاستدان یا عام آدمی نہیں بقول مولانا فضل الرحمن گھر کی گواہیاں ہیں۔ معاملہ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے جائز یا ناجائز بے دخلی کا نہیں رہا ہے ان انکشافات نے ملک کے معتبر ترین اداروں عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سب کی ساکھ کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اب نہ عدلیہ کوئی مقدس ادارہ ہے، نہ فوج اور اس کے ادارے اور نہ حکومت۔ جب یہ صورتحال ہوتو پھر ریاستیں اپنا وجود کھودیتی ہیں۔ چیف جسٹس گلزار نے علی احمد کرد کی تقریر کے جواب میں کہا کہ عدلیہ کو بدنام نہ کریں، کسی میں جرأت نہیں کہ وہ ہم پردبائو ڈال سکے۔ جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو لیک سے ان کی ذات بھی زیر بحث آگئی ہے کیو نکہ وہ خود اس بنچ کا حصہ تھے اور جسٹس اعجاز الاحسن نگراں جج تھے جس نے پاناما کیس میں نواز شریف کو گھر بھیجا۔ جس طرح جسٹس ثاقب نثار سے لے کر اعلیٰ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت اس کا نوٹس لینے سے گریز کررہی ہیں، اس کی عدالتی تحقیق پر تیار نہیں اس کے بعد کون یقین کرے گا کہ نواز شریف کو دی گئی سزا شفاف تھی اور ججوں نے کسی بھی دبائو سے آزاد ہوکر یہ فیصلہ دیا ہے۔
جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو لیک کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ محترم جج کس کے حکم پر یہ سب کچھ کررہے تھے۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب سب کے پاس ہے۔ ایک واقعہ سن لیجیے۔ عدالت عظمیٰ جونیجو حکومت کی بحالی کا فیصلہ سن رہی تھی۔ جنرل ضیا شہادت پاچکے تھے۔ دوران سماعت عدالت عظمیٰ اشارہ دیتی ہے کہ جو نیجو صاحب کو بلایا جائے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان سے یہ وعدہ لے کر کہ وہ جلد انتخاب کرادیں گے ان کی حکومت بحال کردی جائے گی۔ انہیں تلاش کرکے رجسٹرار کے کمرے میں بٹھادیا جاتا ہے۔ عدالت میں چائے کا وقفہ ہوتا ہے۔ عدالت دوبارہ بیٹھتی ہے اور حیرت انگیز طور پر اور خلاف توقع جونیجو صاحب کو فراموش کردیا جاتا ہے۔ مصدقہ روایت ہے کہ چائے کے وقفے میں آرمی چیف کا ایک پیغامبر وقت کے چیف جسٹس سے ملتا ہے۔ انہیں کوئی اشارہ دیتا ہے اور جونیجو حکومت کی بحالی کا فیصلہ ختم کردیا جاتا ہے۔ جنرل وحید کاکڑ کہا کرتے تھے ’’میں اپنی چھوٹی انگلی بھی کھڑی کردوں تو ملکی معاملات کو جو رخ چاہوں دے سکتا ہوں‘‘۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس چھوٹی انگلی پر اب خلق خدا کی انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔
عدالتیں محض لوگوں کے درمیان تنازعات کا فیصلہ نہیں کرتیں بلکہ اپنے فیصلوں سے ملک وقوم کی تاریخ بناتی ہیں، ان کے مقدر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ خوف خدا سے عاری اس نظام میں عدالتیں بیش تر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتیں بلکہ طاقتور افراد، طبقوں اور اداروں کے حق میں فیصلے دیے جاتے ہیں۔ جس وقت ہم یہ سطریں لکھ رہے ہیں گھر کی گٹر لائن بند ہے۔ دیر سے سوئپر (بھنگی کہیں تو برا مان جاتا ہے) کھولنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہم نے کھڑکی سے جھانک کر پوچھا ’’ہاں بھئی کیا رہا‘‘ جواب آیا ’’صاحب جی گٹر لائن بیٹھ گئی ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ لائن بدلی کرنی پڑی گی‘‘۔ پتا نہیں سوئپر کے کہے ہوئے یہ جملہ ہم نے یہاںکیوں لکھ دیے؟ ان جملوں کا اس کالم سے کیا تعلق ہے؟