جمہوریت کے ساتھ ناانصافی

192

فی زمانہ پوری دنیا میں جمہوریت کو قابل عمل اور مقبول ترین نظام سمجھا جاتا ہے۔ ہر طرف جمہوریت کا چرچا ہے جن ملکوں میں وحدانی طرز حکومت ہے، وہ بھی جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں اور جہاں پارلیمانی نظام ہے وہ بھی جمہوریت کے گن گا رہے ہیں۔ غرض کہ جمہوریت کا جادو ہر طرف سرچڑھ کر بول رہا ہے لیکن دیکھا جائے تو جمہوریت کے ساتھ کوئی بھی مخلص نہیں ہے کہ وہ مختلف قسم کے طبقاتی، گروہی، نسلی اور مسلکی تعصبات میں گھرے ہوئے ہیں، جب ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا وقت آتا ہے تو عوام صحیح فیصلہ نہیں کرپاتے اور تعصبات کا شکار ہوجاتے ہیں یا دھوکا کھا جاتے ہیں اور مخلص، دیانتدار اور باکردار نمائندے منتخب نہیں کرپاتے۔ اس طرح جمہوریت ہچکولے کھانے لگ جاتی ہے۔ جو لوگ عوام کو فریب دے کر حکمرانی کے منصب پر فائز ہوتے ہیں ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ حکمرانی ان کی ہر حال میں قائم رہے اور کوئی اسے چیلنج نہ کرنے پائے۔ اس مقصد کے لیے وہ منتخب پارلیمانی ادارے کو مفلوج کردیتے ہیں، اپوزیشن کی آواز کو غیر جمہوری حربوں سے دبائو دیتے ہیں اور پارلیمنٹ کو بلڈوز کرکے اپنی مرضی کے قانون بنانے لگتے ہیں۔
دنیا کے بیش تر جمہوری ملکوں میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جہاں جمہوریت کا یہ ڈراما بڑی کامیابی سے کھیلا جارہا ہے۔ ابھی چند روز پہلے یہاں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا اور اس میں قانون سازی اس طرح ہوئی جیسے بازی گر اپنے کرتب دکھاتے ہیں۔ نہ کسی بل پر بحث ہوئی، نہ اپوزیشن کو اظہار رائے کا موقع دیا گیا۔ ارکان احتجاج کرتے رہے اور اسپیکر شور شرابے کے دوران بلوں کی منظوری دیتے رہے۔ اس طرح دیکھتے دیکھتے 33 بل قوانین کا درجہ اختیار کرگئے۔ حکومت انہیں انتخابی اصلاحات کا پیکیج قرار دے رہی ہے۔ اگر یہ انتخابی اصلاحات ہیں تو ان پر کھل کر بحث ہونی چاہیے تھی اور اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جانا ضروری تھا۔ یہ کیسی اصلاحات ہیں جن کی نام نہاد منظوری نے پوری قوم میں ایک بے یقینی اور بے اعتمادی کی فضا پیدا کردی ہے۔ انتخابی اصلاحات کے اس متنازع پیکیج میں سب سے اہم معاملہ الیکٹرونک ووٹنگ کا ہے۔ عمران خان اگلے انتخابات ووٹ کی پرچی کے بجائے الیکٹرونک مشین کے ذریعے کرانا چاہتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ووٹ کی پرچی میں بہت دھاندلی ہوتی ہے، عوام کا مینڈیٹ چرالیا جاتا ہے۔ ای ووٹنگ کے ذریعے اس دھاندلی اور چوری کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا اور ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کا کلچر فروغ پائے گا۔ اگر عمران خان ای ووٹنگ کے بارے میں اتنے ہی پُراعتماد ہیں تو قانون سازی میں اس دادا گیری کیا کی ضرورت تھی۔ وہ ایوان میں اس بل پر کھل کر بحث کی اجازت دیتے، اپوزیشن کا نقطہ نظر سنتے اور دلائل سے اس کا رد کرتے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ای ووٹنگ میں بھی ٹیکنیکل فراڈ ممکن ہے اور عوام کا مینڈیٹ چوری کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان اور ان کے وزیروں، مشیروں کو بتانا چاہیے کہ اس فراڈ کو روکنے کے لیے کون سی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی اور کس طرح اس کا سدباب ممکن ہوسکے گا؟
پارلیمانی ماہرین کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کی روایت ہی غلط ہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کسی اہم قومی یا بین الاقوامی مسئلے پر اتفاق رائے کے لیے بلایا جاتا ہے یہ قانون سازی کا فورم ہی نہیں ہے۔ قوانین کے مسودے یعنی بل قومی اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، ان پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ پھر حامی ارکان کی تعداد زیادہ ہو تو بل منظور کرلیے جاتے ہیں اور دوسرے مرحلے میں اگر سینیٹ بھی ان بلوں کی منظوری دے دے تو انہیں قوانین کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ بصورتِ دیگر معاملہ لٹک جاتا ہے۔ عمران خان نے پارلیمانی جمہوریت کا یہ صاف، سیدھا اور مقبول راستہ اختیار کرنے کے بجائے مشترکہ اجلاس کا جو شب خون مارا اس نے سارے عمل ہی کو مشکوک بنادیا ہے۔ اگر اپوزیشن اس قانون سازی کے خلاف عدالت میں چلی گئی تو وہاں حکومت کی وہ بھند اڑے گی کہ الامان والحفیظ۔
تاریخ کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ اس سے کسی نے سبق نہیں سیکھا اور حکمرانوں نے اپنے پیش رئوں کے انجام سے عبرت حاصل نہیں کی۔ پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر آنے والا حکمران جانے والے حکمران سے زیادہ برا ثابت ہوا۔ ہم زرداری اور نواز شریف کو روتے تھے کہ یہ ملک لوٹ کر کھا گئے۔ ان حکمرانوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی تھی، ان کے دور میں پارلیمنٹ ربر اسٹیمپ بن کر رہ گئی تھی اور پوری دنیا میں پاکستان کا وقار خاک میں مل گیا تھا، اب جو صاحب تین سال سے اقتدار میں ہیں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ برسراقتدار آتے ہی صورت حال کو تبدیل کردیں گے۔ لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لے آئیں گے۔ وطن عزیز میں حقیقی جمہوریت قائم کریں گے۔ پارلیمنٹ کو اس کا جائز مقام دیں گے۔ وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج بھرتی کرنے کے بجائے مختصر اور باصلاحیت کابینہ سے کام چلائیں گے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خودکشی کرنے کو ترجیح دیں گے اور اپنے وسائل سے قومی معیشت کو بحال کریں گے۔ عوام کی زندگی میں آسانیاں لائیں گے اور انہیں جان لیوا مہنگائی سے نجات دلائیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کا نمونا بنائیں گے۔ لیکن گزشتہ تین سال کے دوران ان کے یہ سارے دعوے ہوا میں اُڑ گئے ہیں اور ان کی حکومت سابقہ تمام حکومتوں سے زیادہ نااہل اور بدتر ثابت ہوئی ہے۔ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ نواز شریف اور زرداری کی حکومتیں ملک کا سنہری دور محسوس ہوتی ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جس طرح ارکان پارلیمنٹ کو ہانک کر ایوان میں لایا گیا اور ان سے 33 قوانین پر انگوٹھے لگوائے گئے اس نے ماضی کے تمام غیر جمہوری ہتھکنڈوں کو مات کردیا ہے۔ آئندہ کیا ہوگا۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ بات طے ہے کہ موجودہ حکمران ٹولے نے پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کو تاریک کردیا ہے اور لوگ اپنی بقا کے لیے کسی غیر جمہوری سیٹ اپ غور کرنے لگے ہیں۔ یہ جمہوریت کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہے۔