فوجی حکومتیں اور بلدیاتی انتخابات

189

سول حکومتیں اور بلدیاتی انتخابات کے عنوان سے جو مضمون آپ نے پڑھا ہوگا اس میں سول حکومتوں کا اپنے ادوار میں بلدیاتی انتخاب نہ کرانے کی ایک اہم وجہ ضبط تحریر میں آنے سے رہ گئی تھی وہ یہ کہ ٹائون اور سٹی ناظم کے پاس فنڈز ہوتے ہیں یہ کونسل میں سالانہ بجٹ منظور کراتے ہیں ان کے اپنے آمدنی کے ذرائع ہوتے ہیں اسی طرح ٹائون کی سطح پر بھی آمدنی کے ذرائع ہوتے ہیں اور ان کو خرچ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوتا ہے۔ یو سی کو سٹی کونسل اور ٹائون دونوں بالائی اداروں سے ترقیاتی مدات میں فندز ملتے ہیں ملنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ نقد ناظم یو سی کو دیے جاتے ہیں بلکہ یہ رقوم بجٹ میں مختص Allocate ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے بلدیاتی اداروں کے یو سی، ٹائون سٹی ناظمین اور کونسلروں کا عوام سے رابطہ رہتا ہے اور عوام بھی اپنے گلی محلوں کے مسائل کے لیے ان سے رابطہ رکھتے ہیں۔ اب جس سیاسی پارٹی کی مرکز اور صوبوں میں حکومتیں ہوتی ہیں وہ ان بلدیاتی اداروں کے مالی وسائل پر خود اپنا قبضہ جمائے رکھنا چاہتی ہیں اس لیے وہ بلدیاتی انتخابات سے گریز کرتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ فوجی حکومتیں کیوں پابندی سے بلدیاتی انتخاب کرواتی ہیں؟ پہلی بات تویہ کہ سول حکومت کو ختم کرکے جو فوجی حکمران برسر اقتدار آتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ عوام مقامی سیاست میں متحرک ہوجائیں اور مرکزی سیاست سے ان کی توجہ ہٹی رہے دوسری بات یہ کہ فوجی حکمران چاہتے ہیں عوام کے گٹر پانی سیوریج، صحت و صفائی کے مسائل ان کے دروازے پر ہی حل ہو جائیں، تاکہ عوام مطمئن رہیں فوجی حکمرانوں کے ذہن میں یہ انجانا خوف ہر وقت رہتا ہے کہ وہ چونکہ سیاسی جماعت کی قانونی حکومت کو معزول کر آئے ہیں اس لیے وہ معزول جماعت کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی وقت ان کے خلاف عوامی تحریک نہ شروع کردے اور ان کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں اس لیے وہ پہلی فرصت میں بلدیاتی انتخاب کا اعلان کردیتے ہیں تاکہ عوام نچلی سطح کے انتخاب میں مصروف ہوجائیں اور سیاسی جماعتیں فوجی حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلانا چاہیں تو انہیں عوام کی طرف سے کوئی حوصلہ افزاء جواب نہ مل سکے۔ پھر اکثر ایسا بھی ہوتا ہے یہ فوجی حکمران ان بلدیاتی اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں، اس میں ان کو بہت زیادہ کامیابی تو نہیں ملتی لیکن ان کے خلاف عوامی سطح پرکوئی تحریک بھی منظم اور فعال نہیں ہو پاتی۔
1958جب جنرل ایوب خان مارشل لا لے کر آئے تو پہلے چار سال تک تو وہ ملک میں اصلاحات کرتے رہے دودھ کی دکانوں ہوٹلوں اور چائے خانوں میں جالیاں لگ گئیں دودھ میں پانی کی مقدار کم بلکہ ختم ہی ہو گئی ایک طرح سے وہ فوجی انقلاب اپنی اصلی شکل میں انقلاب لگتا تھا۔ پھر 1962میں ایوب خان نے دستور بنایا قوم اس دستور کے سخت مخالف تھی اسی طرح ایوب خان جب اقتدار سے گئے تو ساتھ ہی ان کا دستور بھی چلا گیا اسی دستور کے تحت جنرل ایوب خان نے ملک میں عام انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا یہ انتخاب ایک طرح سے عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کا مجموعہ تھے پورے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے چھوٹے حلقہ انتخاب بنائے گئے ہزاروں کی تعداد میں بی ڈی ارکان منتخب ہوئے اس انتخاب کے نگران ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان صاحب کو الیکشن جتوادیا وہ تمام بی ڈی ارکان جن میں اکثریت تو فاطمہ جناح اور ان کا ساتھ دینے والی جماعتوں کی تھی یہ ایک طرف عوام کے مقامی بلدیاتی مسائل کے حوالے سے عوامی نمائندے تھے دوسری طرف وہ صدارت کے براہ راست انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج بھی تھا ان بی ڈی ارکان نے صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالا اور امید تھی فاطمہ جناح جیت جائیں گی اس لیے کہ فاطمہ جناح کے حامی بی ڈی ارکان کی تعداد ایوب خان سے زیادہ تھی لیکن نتیجہ جنرل ایوب خان کی جیت کی شکل میں سامنے آیا۔
1977 میں جب جنرل ضیاء الحق بھٹو کو معزول کرکے برسر اقتدار آئے تو پہلے تو انہوں نے 90دن میں انتخاب کرانے کا وعدہ کیا اس انتخابی مہم میں پی پی پی کے انتخابی جلسے قومی اتحاد کے جلسوں سے بڑے ہونے لگے تو جنرل ضیاء کے ہاتھ پائوں پھول گئے انہوں نے انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے اور کہا کہ پہلے احتساب پھر انتخاب ہوگا بھٹو صاحب کو گرفتار کرلیا گیا۔ اپریل 1979 میں بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی گئی جنرل ضیاء کو یہ خدشہ ہوا کہ کہیں عام انتخاب کا مطالبہ زور نہ پکڑ جائے انہوں نے اسی سال ستمبر میں بلدیاتی انتخاب کرانے کا اعلان کردیا۔ ستمبر 1979 میں پورے ملک میں پہلے بلدیاتی انتخابات ہوئے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے جماعت اسلامی کامیاب ہوئی عبدالخالق اللہ والا سے سخت مقابلے کے بعد جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی میئر منتخب ہو گئے ایک طویل عرصے کے بعد ملک میں بلدیاتی سرگرمیاں بحال ہوئی تھیں کراچی میں افغانی صاحب نے شہر میں بہت تیزی سے جو ترقیاتی کام کرائے اس کی مثال نہیں ملتی لوگوںکو نئی سڑکیں صاف ستھری گلیاں سیوریج لائنوں کی مضبوطی اور صاف پانی کی فراہمی سے عام لوگوں کو پہلی بار واقفیت ہوئی اس لیے وہ تھوڑی دیر کے لیے عام انتخابات کو بھول گئے یہی ضیاء صاحب چاہتے تھے فوجی حکمران یہی چاہتے ہیں کہ عوام کے مسائل ان کے دروازے پر ہی حل ہو جائیں تو حکومت کے خلاف کسی مہم کا منظم ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر ستمبر 1983میں دوسرے بلدیاتی انتخابات ہوئے شہر کراچی سے دوبارہ جماعت اسلامی پہلے سے زیادہ تعداد میں اپنے کونسلروں کو جتانے میں کامیاب ہوگئی اور اس طرح دوبارہ عبدالستار افغانی شہر کراچی کے میئر بن گئے۔ اب ضیاء صاحب کو خیال ہوا کہ کہیں عام انتخاب کا مطالبہ زور نہ پکڑ جائے اس لیے انہوں نے 1985میں پورے ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر عام انتخاب کرا دیے اب ان بلدیاتی اداروں کو ضیاء صاحب نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا کہ ملک کے تمام بلدیاتی اداروں سے متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کروائی جانے لگی کے جنرل ضیاء الحق کو تاحیات ملک کا صدر بنادیا جائے ایسی ہی ایک قرارداد خاتون کونسلر گوہر اعجاز نے کونسل سیکشن میں جمع کرایا اس قرار داد کو افغانی صاحب نے ایوان میں لانے سے روک دیا کونسلروں کے اجلاس میں گوہر اعجاز نے افغانی صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ جس شخص کے دیے ہوئے اختیار کے تحت آپ اس سیٹ پر بیٹھے ہیں اسی فرد کے بارے میں آپ نے قرارداد روک دی افغانی صاحب نے جواب دیا کہ جس فرد کے دیے ہوئے اختیار کے تحت میں یہاں بیٹھا ہوں اسی کے دیے ہوئے اختیار کے تحت میں نے اس قرارداد کو روکا ہے۔ ضیاء صاحب کے نزدیک یہ ناقابل معافی جرم تھا موٹر وہیکل ٹیکس کے حصول کے لیے جب افغانی صاحب کی قیادت میں 150سے زائد کونسلروں نے دفعہ 144 کا لحاظ کرتے ہوئے بلدیہ کراچی کی بلڈنگ سے اسمبلی حال تک مارچ کیا تو میئر افغانی سمیت سو سے ز ائد کونسلروں کو گرفتار کرلیا گیا اور بلدیہ کراچی کو توڑدیا گیا، جماعت اسلامی کے مقابلے میں ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دی گئی پھر اگلے بلدیاتی انتخاب میں کراچی شہر سے ایم کیو ایم کو کامیاب کرادیا گیا۔
پھر جب جنرل مشرف نے نواز شریف کو معزول کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو انہوں نے ایک نئے انداز میں بلدیاتی اسٹرکچر بناکر انتخاب کروایا پھر شہر کراچی سے جماعت اسلامی کامیاب ہوئی نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ سٹی ناظم منتخب ہوئے انہوں نے شہر کراچی میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے پانچ ارب روپے کے بجٹ کو 45ارب روپے تک پہنچا دیا دوسری دفعہ کے انتخاب میں ایم کیو ایم کامیاب ہوئی اور مصطفی کمال سٹی ناظم بنائے گئے انہوں نے بھی شہر کراچی کی ترقی کے لیے دن رات کام کیا جنرل ایوب ہوں یا جنرل ضیاء الحق یا جنرل مشرف فوجی حکمرانوں کی فکر یکساں ہوتی ہے کہ مرکزی سطح کی سیاست کو غیر فعال کرکے گلی محلوں کی بلدیاتی سرگرمیوں کو بحال رکھا جائے یہ ہماری فوجی حکمرانوں کی کیمسٹری ہے۔