بنگلا دیشیوں کا حسینہ شیخ کے منہ پر طمانچہ

368

بنگلا دیشی اور پاکستانی ٹیم کے درمیان دوسرے میچ جس میں پاکستان ٹی ٹوئنٹی کے بعد بنگلا دیشی تماشائیوں اور عوام کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان بنگلا دیش مسلمان بھائی بھائی پاکستان جیت سی آمی بنگلا دیشی جیت سی (ترجمہ: بنگلا دیش اور پاکستان مسلمان بھائی بھائی ہیں اور پاکستان کی جیت بنگلا دیش کی جیت ہے) یہ سب کچھ بنگلا دیشی وزیر ِ اعظم حسینہ شیخ کے منہ پر عوام کا بھر پور طمانچہ جنہوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جانب سے پریکٹس کے دوران پاکستان کا جھنڈا نصب کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ جس کے بعد بنگلا دیش کے سیکولر حکمرانوں نے ایک طوفان بپا کر رکھا تھا اور اس بات پر بنگلا دیش میں بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس پر بحث ہو رہی ہے۔ جس کا جواب عوام نے دے دیا کہ ان کو پاکستانی عوام کی جیت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ ٹیم گزشتہ چند مہینوں سے پریکٹس سیشن میں جھنڈا لگاتی رہی ہے۔ پریکٹس کے دوران پاکستان کا جھنڈا لگانے کا سلسلہ ثقلین مشتاق نے شروع کیا ہے، بنگلا دیش میں میرپور کے کرکٹ اکیڈمی گراؤنڈ میں جھنڈا لگانے پر سوشل میڈیا میں کئی ناقدین نے پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں تاریخی تناؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پریکٹس کے دوران جھنڈا لگانے کا مقصد ایک ’سیاسی پیغام‘ دینا ہے۔ تاہم کئی لوگ کھیل ہی کے موڈ میں رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن بنگلا دیشی عوام نے ان تمام سوالوں کا جواب بنگلا زبان میں دے دیا ہے اور حسینہ شیخ سمجھ بھی گئی ہوں گی۔
یہ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان نے ایسا پہلی مرتبہ نہیں کیا ہے، ستمبر میں نیوزی لینڈ کے پاکستان کے دورے میں بھی پریکٹس کے دوران فیلڈ میں پاکستان کا جھنڈا لگایا گیا تھا۔ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے میڈیا ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا مینیجر ابراہیم بادیس نے بی بی سی بنگالی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس عمل کو ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق نے متعارف کروایا تھا۔ اس سے پہلے پاکستان کے انڈر سکسٹین اور انڈر نائنٹین ٹیموں کی پریکٹس کے دوران بھی پاکستان کا جھنڈا لگایا جا چکا ہے اور سب کچھ ایک عام سی بات ہے لیکن بنگلا دیشی حکومت میں موجود بھارتی لابی کے ارکان پاکستان کے خلاف اس طرح کی حرکتوں سے یہ ثابت کر نے کی کوشش کرتے ہیں پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں کشیدگی اپنی پوری انتہا تک پہنچ چکی ہے، لیکن یہ بات آج بھی دونوں ممالک کے عوام اپنی ریاستوں کو بتا رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مذہب ہی وہ واحد راستہ ہے جو ان دو حصوں کو جوڑ سکتا ہے ’اسی لیے دونوں ممالک میں تاریخ ایسے پڑھائی جائے جس سے ایک مذہبی شناخت پیدا کی جا سکے۔ لیکن دونوں ہی ممالک میں اس طرح کی صورتحال کا فقدان ہی نہیں قحط ہے اور سیکولرز اور اسلام دشمنوں کی بھر مار ہے‘‘۔
بنگلا دیش کے قیام کو اب 50 سال بیت گئے ہیں مگر آج بھی وہاں کی ریاست سے یہی آواز اُٹھتی ہے کہ پاکستان بنگلا دیشی عوام سے معافی مانگے۔ بنگلا دیش پاکستان پر جنگی جرائم کے علاوہ دیگر الزامات بھی عائد کرتا رہا ہے جس کی تردید ریاست پاکستان کی جانب سے تواتر سے آتی رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھارتی دباؤ کے باعث آ ج بھی بنگلا دیش میں ہندو لابی کا مکمل طور پر کنٹرول ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی نصاب میں ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں نصاب کی کتابوں میں اس موضوع کا تفصیل سے ذکر نہ ملنے پر جہاں ماہرین تنقید کرتے ہیں وہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’ہر ریاست اپنا فرض سمجھتی ہے کہ اپنے شہریوں کی پرورش ایک خاص بیانیے کے تحت کرے اور اس تناظر میں شاید پاکستان واحد یا انوکھی ریاست نہیں جو ایسا کرتی ہے۔ وفاق پاکستان کے ’دائیں بازو‘ کی علٰیحدگی کو آخر پاکستان کے تعلیمی نصاب میں کیسے پیش کیا جاتا ہے؟
پاکستان کے نجی اسکولوں اور او لیول میں پڑھائی جانے والی ’پاکستان ا سٹڈیز‘ کی کتاب میں پاکستان کے اس وقت مشرقی اور مغربی حصوں میں پیدا ہونے والی رنجشوں کا گو کہ تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے لیکن سرکاری اور نجی نصاب میں مشترکہ چیز یہی ہے کہ آج بھی بنگلا دیش کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو بڑی حد تک نصاب میں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی کے کبھی 14 اسباب پڑھائے گئے تو کبھی نو اور یہ چھوٹی موٹی تبدیلیاں سیاسی ادوار اور بدلتی حکومتوں کے ساتھ دیکھنے کو ملتی رہیں۔
پاکستان میں نویں جماعت کے طلبہ کو علٰیحدگی کی وجوہات میں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ نوجوان بنگالی شہریوں کے ذہنوں کو زہریلا کرنے میں ہندو اساتذہ کا ایک بہت اہم کردار تھا اور ساتھ ہی ساتھ یہ پاکستان کی بدقسمتی تھی کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے بعد کوئی ’محب وطن مسلمان لیڈر‘ نہیں آیا۔
ہمارے ہاں بنگالیوں کے بارے میں تصور یہی تھا کہ یہ بھوکے بنگالی، پانچ پانچ فٹ قد کے کمزور لوگ ہیں اور مغربی پاکستان والے بڑی اعلیٰ نسل کے لوگ ہیں جس کے باعث ان کے ساتھ ماضی میں ایک حقارت کا انداز رکھا گیا۔ جس طرح آج بھی ملک کی اشرافیہ اور چند ریاستی ارکان عوام میں اسی طرح کا تصور پیش کر کے اپنا ’’اُلو‘‘ سیدھا کر نے میں مصروف ہیں۔ یہ سب کچھ صرف پاکستان میں نہیں بنگلا دیشی ریاست بھی اقتدار میں رہنے کے لیے کر رہی ہے لیکن ’’نوجوان بنگالی شہریوں کے ذہنوں‘‘ میں ماضی کی نفرت کا دور دور تک پتا نہیں ہے اور بنگالی شہری آج بھی اسلام اور پاکستانیوں سے محبت کرتے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد اور ان کے والد شیخ مجیب الرحمان دونوں ہی بنگلا دیشی عوام کی آواز اور دل کی دھڑکن سننے سے یکسر محروم رہے ہیں۔ بنگالیوں کے دل اور دماغ دونوں پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں اور 50سال بیتنے کے بعد بھی بنگالی پاکستانی عوام کو اپنا بھائی تصورکرتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔