قوم کی آخری اُمید جماعت اسلامی

232

میرا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں میں لکھاری اور سماجی اسکالر ہوں مجھے صرف عوامی مسائل کے حل سے دلچسپی ہے۔ میں ایک عام آدمی ہوں اور عام آدمی ہمارے ملک میں سب سے زیادہ مسائل شکار پاکستان کی عمر خیر سے 74 برس ہوگئی مگر عوام کی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی، کسی بھی سیاسی پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو دیے ہوئے اپنے منشور پر کام نہیں کیا۔ پی پی پی یا بھٹو صاحب کا ایک نعرہ جس کے پیچھے عوام اُن کے دیوانے ہوگئے تھے وہ تھا۔ روٹی، کپڑا اور مکان کیا قوم کو روٹی، کپڑا اور مکان ملا۔ مجھے ایک ایسا غریب دکھا دو جس کو روٹی، کپڑا اور مکان حکومت نے دیا ہو۔ سندھ کارڈ استعمال کرنے والی پارٹی تو سندھ کے لوگوںکے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی۔ اندرون سندھ کے لوگوں کا حال تو دیکھیں مگر افسوس اُن کو جئے بھٹو کے سوا اور کوئی نظر نہیں آتا مگر اب وہاں پر تبدیلی نظر آنے لگی ہے۔ عوام حکومت سندھ سے بدظن ہوتے جارہے ہیں۔ دوسری جماعت مسلم لیگ (ن) جس کا مرکز پنجاب ہے۔ اُس نے عوام کو کیا دیا آج بھی پنجاب کے گائوں میں جا کر دیکھ لیں آپ کا دل رو پڑے گا مگر افسوس کہ پنجاب کے عوام کا دماغ بھی سندھ کے عوام کی طرح ہے۔
ہم ملک کے مفاد میں کیوں نہیں سوچتے۔ ہمارے ملک میں تو باری باری کی سیاست چلتی ہے۔ میثاق جمہوریت بنایا جاتا ہے اور آپس میں طے کرلیا جاتا ہے کہ پہلے 5 سال مجھے ملک کو تباہ کرنا ہے باقی جو بچے گا وہ اگلے 5 سال میں تم پورا کرلینا۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ہمارے ملک کو مل کر تباہ کیا ہے۔ وزیراعظم جس بات کا رونا روتے ہیں وہ بالکل درست ہے۔ پاور سیکٹرز کے سابق حکومتوں کے معاہدے دیکھ لیں تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ 20 سے 25 سال کا IPP سے معاہدہ کیا، مال کمایا اب قوم کو کبھی بھی کم قیمت پر بجلی ملی ہی نہیں سکتی، موجودہ حکومت یہ معاہدے توڑ بھی نہیں سکتی اگر ایسا کرے گی تو IPP کی نام نہاد کمپنیاں انٹرنیشنل کورٹ میں مقدمہ کردے گی اور پھر موجودہ حکومت کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ عوام کے پاس سوچ و فکر نہیں ہے اس کو تو اتنا مسائل میں الجھا دیا گیا ہے کہ وہ آٹا، دال، چینی، اسکول کی فیس، ڈاکٹر کی فیس، بجلی کا بل، گیس کا بل کے چکر میں لگایا ہوا ہے اور حکمرانوں کے انویسٹرز عیاشی کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، پی ٹی آئی سمیت کوئی جماعت ایسی نہیں ہے کہ جس میں انویسٹرز موجود نہ ہوں، یہ جو عارضی بحران آتے ہیں کبھی چینی پر، کبھی آٹے پر، کبھی تیل پر، کبھی سبزیوں پر یہ کیوں آتے ہیں اور ان کو کون لے کر آتا ہے۔ جی ہاں یہ انویسٹرز مافیا ہے جو الیکشن کے زمانے میں پارٹیوں پر پیسہ لگاتی ہے اور پارٹی کا سربراہ بھی ان کے آگے مجبور ہوجاتا ہے۔ جس طرح سے آج ہمارے ایماندار وزیراعظم مجبور نظر آتے ہیں۔ اُن کی پارٹی میں انویسٹرز کی تعداد زیاد ہے۔ خیر اب بات کرتے ہیں جمہوریت کی جو سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
الحمدللہ ہم سب مسلمان ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام کو قرار دیا جاتا ہے جب کہ طاقت کا سرچشمہ صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے جس پر جماعت اسلامی عمل کرتی ہے، اگر اصلی جمہوریت کو دیکھنا ہے تو جماعت اسلامی کے منشور کو پڑھیں یہ ہماری کم عقلی ہے کہ ہم ایماندار قیادت کو پسند نہیں کرتے۔ بات کرتے ہیں جماعت اسلامی کی۔ مولانا مودودیؒ صاحب نے عین اسلامی اصولوں پر اس جماعت کی بنیاد ڈالی۔ یہ ملک کی واحد جماعت ہے جو شخصی اجارہ داری سے پاک ہے، اتفاق سے میں لاہور کسی کام سے گیا تو دل نے کہا کہ اچھرہ چلتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں، میں مولانا صاحب کی رہائش گاہ پر پہنچا تو نہ کوئی گارڈ نہ پولیس، میں دروازے سے اندر داخل ہوا تو مجھے دو کچی قبریں نظر آئیں وہاں موجود ایک آدمی نے بتایا کہ ایک قبر مولانا صاحب کی دوسری اُن کی بیگم کی، میں نے فاتحہ شروع کی، فارغ ہوا تو مولانا کے صاحب زادے بھی آگئے۔ فاروق حیدر مودودی صاحب سے تعارف ہوا وہ اپنے ساتھ گھر کے اندر لے گئے، تھوڑی گفتگو کے بعد اُٹھ کر چلے گئے، واپس چائے اور دیگر لوازمات کی ٹرے ساتھ لے کر آئے، بہت سادہ طبیعت کے قابل انسان۔ یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ نہ کوئی مزار، نہ کوئی چادر، سب اسلامی حکم کے مطابق کچی بغیر نشان کی قبر۔ کتنے عظیم انسان تھے ساری زندگی دین اسلام کے لیے کام کیا، جیل گئے، سزائے موت کا اعلان تک ہوا مگر اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جماعت اسلامی ایک باعمل جماعت ہے، اس وقت جماعت اسلامی ہے جو بین الاقوامی سطح پر امت مسلمہ کو درپیش مسائل اور دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک مکمل نظام کے ساتھ سیاسی پارٹی ہے، میں ہمیشہ اپنی عوام سے یہ بات کہتا ہوں کہ ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کو آزما کر دیکھ لیا ایک مرتبہ جماعت اسلامی کو بھی موقع دیا جائے۔ ان شاء اللہ یہ اللہ والوں کی جماعت ہے جو آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔