جماعت اسلامی یوتھ آزادکشمیر کا 28نومبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف احتجاج

102

جماعت اسلامی یوتھ آزادکشمیر نے 28نومبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف احتجاج،

اسلام آباد مارچ میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اٹھائیس نومبر کو آزادکشمیر کے تمام اضلاع سے ہزاروں نوجوان اور افراد اس مارچ میں شرکت کرکے اس حکومت کے خلاف عدم اعتماد کریں گے، یہ اعلان گزشتہ روزجے آئی یوتھ آزادکشمیر کے مرکزی صدر خالد زیدی، امیر جماعت اسلامی ضلع پونچھ زاہد رفیق، صدر جے آئی یوتھ پونچھ قاضی نثار، جنرل سیکرٹری پونچھ تنویر اسلم، محمد انور امیر حلقہ تین پونچھ ، سہراب حسین صدر یوتھ حلقہ چار پونچھ، کاشف قدیر صدر حلقہ پانچ پونچھ، سردار شہزاد نائب صدر پونچھ، آصف قاضی صدر بزنس فورم پونچھ، عمیر افراز صدر بزنس فورم پونچھ ڈویژن اور دیگر نے غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ میں پریس کانفرنس میں کیا،

ان عہدیداران نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے اور ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کو جو طوفان برپا کیا ہے اس سے غریب آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے ، مہنگائی کے بم نے غریب سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا ہے اور یہی صورت حال برقرار رہی تو مستقبل قریب میں حالات قابو میں نہیں رہیں گے، مہنگائی کے باعث مائیں اپنے بچے فروخت کرنے پر مجبور ہیں، قتل، ڈکیتی کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں، غریب خود کشی پر مجبور ہو رہے ہیں، اگرعوام اس صورت حال میں باہر نہ نکلے تو پھر مہنگائی کا طوفان آئے گا اس میں غریب اور متوسط طبقات کے لوگ ریت کی طرح بہہ جائیں گے، پٹرول، آٹا، گھی، چینی، دال، سبزی فروٹ سمیت دیگر اشیائے خوردنی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں، حکومت نے غریبوں کی روزی چھیننے کے علاوہ ان پر تعلیم کے دروازے بھی بند کر دئے ہیں، حکومت کی انہی ناانصافیوں، ظلم و جبر کے خلاف جماعت اسلامی یوتھ نے اسلام آباد مارچ کا اہتمام کیا اور اٹھائیس نومبر کو عوام باہر نکلیں اور ہمارا ساتھ دیں تاکہ اس حکومت کو اپنے اصل ٹھکانے پر پہنچائیں، عہدیداران نے کہا کہ ایک طرف تو مہنگائی اور بیروزگاری نے اہل آزادکشمیر کو بے بس و لاچار کردیا ہے اور دوسری طرف تقسیم کشمیر کے فارمولوں کو پیش کیا جارہا ہے ، ہر روز نت نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں اور ہمارے حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر پر پسپائی اختیار کر لی ہے، کمزور پالیسیوں نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کا موقع فراہم کیا، بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے بھارتی ایجنڈے کو تقویت دی جارہی ہے، ہم کسی صورت وحدت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اگر کسی طرح کے فارمولے کو لاگو کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے، کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق صرف کشمیری کرسکتے ہیں ، حق خود ارادیت اور رائے شماری ہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے اور اس کے بعد ہی کشمیری اپنے مستقبل کا تعین کریں گے،

انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر میں قائم پی ٹی آئی کی حکومت نے تین ماہ سے اقتدار کی کشمکش میں ہی مصروف ہے ، ایک ریاست کے اندر ہر کسی کی اپنی حکومت ہے اور پی ٹی آئی کئی دھڑوں میں تقسیم ہو کر محض اقتدار کیلئے کوشاں ہے، انہیں عوامی فلاح سے کوئی غرض نہیں، اقتدار کی کشمکش کے باعث سیز فائر لائن  کے اس پار انتہائی غلط پیغام جارہا ہے جس کا تمام تر فائدہ ہمارا ازلی دشمن اٹھارہا ہے، تعلیمی اداروں کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچادیا گیا، این ٹی ایس کے نام پر نوجوانوں کا استحصال کیا جارہا ہے، جو امیدواران انتظاریہ فہرست میں تھے ان کے معاملات کو یکسو نہیں کیا جا رہا،

ان عہدیدارن نے مزید کہا کہ ضلع پونچھ کے تمام میگا پراجیکٹس التواء کا شکا ر ہیں، پونچھ یونیورسٹی کااربوں روپے کا منصوبہ ادھورا ہے، جگہ جگہ دکانوں میں یونیورسٹی کے کیمپس کھولے گئے ہیں جو کہ تعلیم کے نام پر مذاق ہے، چک ہسپتال کا تعمیراتی کام بھی درست نہج پر نہیں، آزاد پتن روڈ کے حوالہ سے بھی حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے، پونچھ ڈویژن کے لاکھوں لوگ اس سڑک کی وجہ سے پریشانیوں اور سخت مالی و سفری صعوبتوں کا شکار ہیں، سی ایم ایچ راولاکوٹ میں سٹاف، ادویات اور سہولیات کی کمی کے باعث مریضوں کو راولپنڈی منتقل کرنا پڑتا ہے، حکومت فوری ہسپتال میں جملہ سہولیات فراہم کرے تاکہ لوگوں راولپنڈی اسلام آباد جانے کی زحمت و مشکل سے نجات مل سکے، بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ بھی باعث تشویش ہے، آزادکشمیر سے پیدا ہونے والی بجلی کا یہاں کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں، حکومت فوری طور پر اہل آزادکشمیر کو بجلی پر سبسڈی دینے کی پالیسی مرتب کرے ، انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی پونچھ کے مسائل پر ایک تحریک شروع کی جائے گی تاکہ لوگوں کے مسائل میں کمی واقع ہو سکے ۔