وزیراعظم کمنٹری نہیں کریں

178

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لینڈ مافیا نے سیاسی اشرافیہ کی مدد سے 6 ہزار ارب کی زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کی کوشش کی تو اسی طرح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جیسی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے اطلاع دی کہ اراضی کی پیمائش (میپنگ) کے پہلے مرحلے میں حیران کن حقائق سامنے آئے۔ لینڈ مافیا اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ایکشن لیں گے۔ وزیراعظم نے جو بات بتائی ہے وہ ملک کا ایک عام آدمی بھی جانتا ہے۔ اب تو ان مافیاز سے بھی واقف ہے جو چند سو ایکڑ زمین الاٹ کروا کے ہزارہا ایکڑ پر منصوبے کا اعلان کر دیتے ہیں اور آج تک کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ وزیراعظم خود اس حوالے سے شبہات کا سامنا کر رہے ہیں کہ بنی گالا میں ان کی زمین کی پیمائش درست تھی یا نہیں۔ بہرحال وہ تو ریگولرائز ہو گیا لیکن 6 ہزار ارب کی زمین پر قبضے کی خبر پا کر وزیراعظم کمنٹری نہیں کرتا بلکہ ایکشن لیتا ہے۔ قبضہ چھڑانا تو دور کی بات کیا وہ بحریہ ٹائون سے عدالت عظمیٰ کا عاید کردہ جرمانہ باقاعدگی سے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ یہ نہیں کر سکتے۔ لیکن وہ کم از کم کمنٹری تو نہ کریں۔وہ مافیاز کے خلاف ایکشن لوں گا والے اعلانات بھی کرتے رہتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مافیاز مزید طاقتور بن کر وزیراعظم اور حکمران پارٹی کے گرد اپنا گھیرا تنگ کر لیتے ہیں۔ حکومت کا کام عوام کو ایسے مسائل سے بچانا ہے۔ وزیراعظم اپنے حصے کا کام کریں۔