جوہری آبدوزو،چین کے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان تعاون پر شدید تحفظات

192

 چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چا لی جیان نے میڈیا بریفنگ میں امریکہ۔برطانیہ۔آسٹریلیا نیول نیوکلیئر پاور انفارمیشن ایکسچینج معاہدے کی حالیہ منظوری کے حوالے سے کہا کہ چین نے جوہری آبدوزوں سے متعلق  امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان تعاون پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔یہ علاقائی امن و استحکام اور بین الاقوامی جوہری عدم پھیلا کی کوششوں کے لیے تباہ کن ہے ۔ کئی ممالک نے اس تعاون کے ممکنہ منفی نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انیس تاریخ کو وائٹ ہاس کی ویب سائٹ سے ملنے والی خبر کے مطابق امریکی صدر نے مذکورہ معاہدے سے متعلق ایک یادداشت کی منظوری دے دی ہے۔چا لی۔

جیان نے کہا کہ موجودہ حفاظتی نظام کے تحت، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی جوہری توانائی ری ایکٹرز اور ہتھیاروں کے ایسے جوہری مواد کی موثر نگرانی نہیں کر سکتی ہے جو امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو فراہم کرنا چاہتے ہیں، اور نہ ہی متعلقہ جوہری مواد اور ٹیکنالوجیز کے مناسب استعمال کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ لہذا، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے اس اقدام سے جوہری پھیلا کا بہت بڑا خطرہ لاحق ہو گا، این پی ٹی کے اغراض و مقاصد کی صریح خلاف ورزی ہو گی، اور بین الاقوامی جوہری عدم پھیلا کا نظام شدید طور پر  متاثر ہو گا۔ترجمان نے عالمی مخالفت کے باوجود جوہری آبدوزوں کے تعاون کو آگے بڑھانے سے متعلق تینوں ممالک کے رویوں کو  انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔