ٹک ٹاک نے ممکنہ نقصان دہ چیلنجوں اور دھوکا دہی کے اثرات پر عالمی رپورٹ جاری کر دی

226

ممتاز عالمی ویڈیو پلیٹ فارم، ٹک ٹاک تفریح میں اضافے، رابطے اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایک ایسے ماحول کو فروغ دیتے ہوئے جہاں تخلیقی اظہار کی کوششوں کے فروغ کو ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے جہاں آن لائن کمیونٹی ، بالخصوص کمیونٹی کے نوجوان افراد کے،تحفظ کو ترجیح دی جاتی ہو ۔ اس مشن میں ٹک ٹاک والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کے مفادات  میں شریک ہے اور اُنھیں سننے اور ان کوششوں کے بارے میں مطلع کرنے کے لیے بیرونی ماہرین کے ساتھ کام کر رہا ہے۔اس کے نتیجے میں، ویڈیو پلیٹ فارم نے عالمی رپورٹ جاری کی ہے تاکہ نوجوان افراد کی،ممکنہ طور پر نقصان دہ چیلنجوں اور دھوکا دہی کی مشغولیت کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔اگرچہ یہ بات کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم کے لیے منفرد نہیں ہے لیکن اس کے اثرات اور خدشات تمام فریقین کو محسوس ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹک ٹاک یہ بات جاننے کے لیے تیار ہے کہ یہ کس طرح زیادہ مؤثر رد عمل تیار کیے جاسکیں کیوں کہ یہ نوعمر افراد ، والدین اور اساتذہ کی بہتر اعانت کے لیے کام کر رہا ہے۔اسے امید ہے کہ وہ اس شعبے میں وسیع تر تفہیم پیدا کر سکے گا۔رپورٹ کے شرکاء میں سے31فیصد نو عمر افراد،جن کو ان دھوکا دہی کا سامنا کرنا پڑاتھا، منفی اثرات مرتب ہوئے جبکہ 63 فیصد نے کہا کہ اِن منفی اثرات نے اُن کی ذہنی صحت کو متاثرکیا ہے۔اس کے نتیجے میں ٹک ٹک نے وارننگ اور خود اپنے ساتھ دھوکا دہی کی ویڈیوز ہٹا کر تحفظ کو مضبوط بنایا ہے۔اس رپورٹ کی تیاری کا مقصد کمیونٹی کو محفوظ رکھنے میں مدد کرنا اور اسی کے ساتھ ٹک ٹاک پر تفریح کرنا ہے۔اس پہلے قدم کے ذریعے اور اس موضوع پرمذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے، ٹک ٹاک کا مقصد اس کام کو دنیا کے ممتاز ماہرین کے ساتھ استعمال کرنا ہے  تاکہ آن لائن خاندانوں کے تحفظ اور دفاع کے لیے با معنی حصہ بنانا ہے۔ کمیونٹی کی جانب سے ٹک ٹاک مزید اقدامات تلاش کرتا اور عمل درآمد کرتا رہے گا۔مزید برآں، ٹک ٹاک نے سوشل میڈیا سے آگاہی کی مہمیں مثلاً #AapSafeTohAppSafe بھی چلائیں تاکہ پلیٹ فارم پر تحفظ کو فروغ دیا جا سکے اور ، حال ہی میں، اس نے اردو زبان میں بھی آن لائن سیفٹی سینٹرقائم کیا ہے جو استعمال کرنے والوں کو تحفظ ، سیکیورٹی اورپرائیویسی پروسائل، راہنمائی اور پالیسیاں فراہم کرتا ہے۔ ٹک ٹاک نے پاکستان کی ممتازپبلیکیشنزسے مل کرعوامی ویبی نارز بھی منعقد کیے ہیں تاکہ تحفظ کو فروغ دیا جا سکے اورایسی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جن سے پلیٹ فارم کا اپنے استعمال کرنے والوں کیلیے محفوظ جگہ بنائی جا سکے۔اس مطالعے میں 10,000 سے زائد افراد نے شرکت کی جن میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، جرمنی ، اٹلی ، انڈونیشیا، میکسکو ، برطانیہ، امریکا اور ویتنام سے تعلق رکھنے والے نو عمر افراد، والدین اور اساتذہ شامل تھے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی۔ مطالعے کے دوران ہونے  والے اہم انکشافات اور سفارشت پر مبنی رپورٹ لکھنے کے لیے ایک خودمختار سیف گارڈنگ ایجنسی پرائیزیڈیو سیف گارڈنگ ((Praesidio Safeguarding) کی خدمات حاصل کی گئیں۔یہ رپورٹ پرائیزیڈیو سیف گارڈنگ کے بانی اور ڈائریکٹر ، ڈاکٹر زوئے ہلٹن نے تحریر کی ہے۔اس مطالعے میں دنیا بھر سے نوجوانوں کے تحفظ کے 12ممتاز ماہرین نے شرکت کی جس نے ڈاکٹر ہلٹن کی رپورٹ کا جائزہ لیا اور اپنی رائے دی۔اُن کے ساتھ کلینکل چائلڈ سائیکاٹرسٹ ،جو صحت مند نو عمرافراد کی بہتری میں اسپیشلائزیشن رکھنے والے ڈاکٹر رچرڈ گراہم اور نو عمر افراد کے رسک پریوینشن میں اسپیشلائزیشن رکھنے والی بی ہیورل سائنٹسٹ، ڈاکٹر گریچین برائن-مائسلس(Dr. Gretchen Brion-Meisels)بھی شریک تھے جنھوں نے نوعمر افراد کی رسک پریوینشن میں راہنمائی فراہم کی اور ہمیں مشورے فراہم کیے۔