افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

353

امانت :امانت اصل میں دو آدمیوں کے درمیان باہمی اعتماد کی بنا پر ہوتی ہے۔ جو شخص کسی کے پاس کوئی امانت رکھتا ہے وہ گویا اس پر یہ اعتماد کرتا ہے کہ وہ اپنی حد استطاعت تک پوری ایمانداری کے ساتھ اس کی حفاظت کرے گا۔ اور جو شخص اس امانت کو اپنی حفاظت میں لینا قبول کرتا ہے وہ بھی امانت رکھنے والے پر یہ اعتماد کرتا ہے کہ وہ ایک جائز قسم کی امانت اس کے پاس رکھ رہا ہے، کوئی چوری کا مال یا خلاف قانون چیز نہیں رکھ رہا ہے، نہ اس امانت کے ذریعے سے کسی قسم کا دھوکا یا فریب کر کے اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پس دونوں پر اس کے سوا کسی اور چیز کی پابندی لازم نہیں ہے کہ وہ اس اعتماد کا پورا پورا حق ادا کریں۔
قرض :قرض دینے اور لینے میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ حتٰی الامکان فریقین کے درمیان شرائط قرض صاف صاف طے ہوں، مدت کا تعین ہوجائے، تحریر اور شہادت ہو، جو شخص قرض دے وہ اس قرض کے دباؤ سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ مقروض کو احسان رکھ کر نہ ذلیل کرے اور نہ اذیت پہنچانے کی کوشش کرے۔ اور اگر مدت گزر جائے اور فی الواقع مقروض شخص قرضہ ادا کرنے کے قابل نہ ہو تو اس کو جہاں تک ممکن ہو مہلت دے اور اپنے قرض کی وصولی میں زیادہ سختی نہ کرے۔ دوسری طرف قرض لینے والے کو لازم ہے کہ جس وقت وہ قرض ادا کرنے کے قابل ہو اسی وقت ادا کردے اور جان بوجھ کر ادائے قرض میں تساہل یا ٹال مٹول نہ کرے۔
صلہ رحمی :صلہ رحمی کا مفہوم رشتے داری کے تعلق کی بنا پر ہمدردی، معاونت، حسن سلوک، خیر خواہی اور جائز حدود تک حمایت کرنا ہے۔ اس کی کوئی حد نہ مقرر ہے، نہ کی جاسکتی ہے، دراصل یہ عام معروفات میں سے ہے جنہیں لوگ خود ہی جانتے ہیں۔ اور صلہ رحمی میں کوتاہی کرنا یا قطع رحمی کرنا ان بڑے گناہوں میں سے جن کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں کی گئی ہے۔
(ترجمان القرآن، اپریل 46ء)
لاوارث قاتل :اگر قاتل ایک لاوارث آدمی ہو یا اس کا قریب تر حلقۂ اولیا دیت کرنے کے قابل نہ ہو تو اس صورت میں صحیح یہ ہے کہ اس کی دیت کا بوجھ وسیع تر حلقۂ اولیا پر ڈالا جائے، حتیٰ کہ بالآخر اس کا بوجھ ریاست کے خزانے پر پڑنا چاہیے۔ کیوں کہ ایک شہری کا وسیع تر علاقہ اس کی ریاست ہی ہے۔ اس قول کا ماخذ وہ حدیث ہے جس میں نبیؐ نے رئیس مملکت ہونے کی حیثیت سے فرمایا ہے:
’’اگر کوئی شخص بے سہارا اہل و عیال چھوڑے تو ان کی کفالت میرے ذمے ہے اور اگر کوئی مال و دولت چھوڑے تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے، اور میں لاوارث کا وارث ہوں، اس کی طرف سے دیت بھی دوں گا اور اس کا ورثہ بھی لوں گا‘‘۔ (ابودائود، کتاب الفرائض)
اس حدیث کی رو سے ریاست ہر اس شہری کی وارث ہے جو لاوارث مرگیا ہو اور ہر اس شہری کی عاقلہ ہے جس کی دیت ادا کرنے والا کوئی نہ ہو۔ خود عقل کی رو سے بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کیوں کہ ریاست ملک میں امن کی ذمے دار ہے، اگر وہ قتل کو روکنے میں ناکام رہی ہے تو مقتول کے وارثوں کے نقصان کی تلافی یا تو اسے قاتل کے وارثوں اور حامیوں سے کرانی چاہیے یا پھر خود کرنی چاہیے۔
دیت ادا نہ کرسکنے کی صورت میں قاتل کو کوئی متبادل سزا دینے کا ثبوت کتاب و سنت میں مجھے کہیں نہیں ملا، نہ اس بارے میں سلف سے کوئی معتبر قول منقول ہوا ہے۔
قاتل کے لیے رحم کی اپیل :یہ بات اسلامی تصور عدل کے خلاف ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کسی کو سزا معاف کرنے یا بدلنے کا اختیار حاصل ہو۔ عدالت اگر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں غلطی کرے تو امیر یا صدر حکومت کی مدد کے لیے پریوی کونسل کی طرز کی ایک آخری عدالت قائم کی جاسکتی ہے جس کے مشورے سے وہ ان بے انصافیوں کا تدارک کرسکے جو نیچے کی عدالتوں کے فیصلوں میں پائی جاتی ہوں مگر ’’مجرد رحم‘‘ کی بنا پر عدالت کے فیصلوں میں ردو بدل کرنا اسلامی نقطہ نظر سے بالکل غلط ہے۔ یہ ان بادشاہوں کی نقالی ہے جو اپنے اندر کچھ شان خدائی رکھنے کے مدعی تھے یا دوسروں پر اس کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔
(ترجمان القرآن، جون و جولائی 1952ء)