منافقین کی صفات

231

منافقین اپنے اعمال اور مظاہر کے اعتبار سے مختلف ہیں لیکن عام صفات میں وہ مشترک ہیں ان کی چند صفات کا یہاں ہم ذکر کرتے ہیں۔
1۔برائی کا حکم دینا اور بھلائی کے کاموں سے روکنا:
منافقین کی یہ بہت ابھری ہوئی پہچان ہے، اگرچہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے اس کا اظہار نہ کریں، کیوںکہ ان کا اصل حربہ حقیقت پر پردہ ڈالنا اور بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس صفت کو بہت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
’’منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں۔ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں‘‘۔ (التوبہ: 67)
2۔گومگو اورانتظار کی صفت:
منافقین عام طور پر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کون سا فریق غالب آتا ہے۔ وہ اپنی راہ رسم حق اور باطل دونوں سے بنائے رکھے ہیں، تاکہ جو فریق غالب آئے، اس کے ساتھ جا ملیں اور اس سے اپنی خیر خواہی کا صلہ حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس رویے پر تبصرہ فرماتا ہے:
’’تم میں سے ایسے بھی ہیں جو لڑائی سے جی چراتے ہیں، اگر تم پر مصیبت آجائے تو کہتے ہیں اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا ہے کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا، اور اگر اللہ کا فضل تم پر ہو تو کہتا ہے اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا‘‘۔ (النساء: 72-73)
سورہ عنکبوت میں ہے:
’’اور لوگوں میں سے ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب وہ اللہ کے معاملے میں ستائے گئے تو انہوں نے لوگوں کی ڈالی ہوئی مصیبت کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا‘‘۔ اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آئی تو یہ کہیں گے: ’’ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو معلوم نہیں ہے ؟‘‘ (آیات: 9-10)
ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو ہر حال میں فائدہ چاہیے۔ اگر مسلمان غالب ہوں تو ان سے، اور اگر مشرکین غالب ہوں تو ان سے۔ اللہ نے ان کی اس کیفیت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے:
’’یہ منافق تمہارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح حاصل ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچالیا؟ بس اللہ ہی قیامت کے روز تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا‘‘۔ (النساء: 141)
’’یہ لوگ کفر اور ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں نہ پورے اس طرف نہ پورے اْس طرف‘‘۔ (النساء: 143)
3۔خوف اور اندیشوں میں گرفتار:
منافقین کے لیے اپنے مادی مفاد کا تحفظ اور ذاتی مصلحت غالب ہوتی ہے اس وجہ سے وہ تذبذب کی راہ اختیار کرتے ہیں چنانچہ ان کی زندگی خوف سے پُر ہوتی ہے اور ہر وقت اندیشوں میں گرفتار رہتے ہیں۔
’’وہ خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہیں میں سے ہیں۔ حالاںکہ وہ ہرگز تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل میں وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوف زدہ ہیں۔ اگر وہ کوئی جائے پناہ پائیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ تو بھاگ کر اس میں جاچھپیں‘‘۔ (التوبہ: 56-57)
وہ دنیا کی محبت میں اس قدر گرفتار ہوتے ہیں، دولت پر اس قدر ریجھے ہوئے ہوتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا انہیں نہایت ناگوار ہوتا ہے۔
’’اور وہ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ خرچ کرتے ہیں‘‘۔ (التوبہ: 54)
’’اور یہی لوگ ہیں جوکہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کردو، تاکہ یہ منتشر ہوجائیں، حالاںکہ زمین وآسمان کے خزانوں کا مالک اللہ ہے مگر منافق سمجھتے نہیں ہیں‘‘۔ (المنافقون: 7)
منافقین کے کام اورحربے:
٭جھوٹی قسمیں کھانا:
منافقین کو اندیشہ ہوتا ہے کہ لوگ ان کی باتوں پر یقین نہیں کریں گے، اس لیے وہ جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں اور یہ ان کا بہت بڑا حربہ ہوتا ہے۔ قرآن ان کے اس پردے کوچاک کرتا ہے:
’’یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی، حالاںکہ انہوں نے ضرور کافرانہ بات کہی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے۔ انہوںنے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کرنہ سکے‘‘۔ (التوبہ: 74)
’’انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے اور اس طرح وہ اللہ کی راہ میں خود رکتے ہیں اور دوسروں کو روکتے ہیں، کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کررہے ہیں‘‘۔ (المنافقون: 2)
٭فریب اور دھوکا دینا:
منافقین کی بنیاد فریب اور دھوکے پر ہے ، وہ اہل ایمان کو اپنے نقلی چہروں سے دھوکا دینا چاہتے ہیں۔
’’وہ اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ دھوکے بازی کرتے ہیں مگر دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے‘‘۔ (البقرہ: 9)
٭مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنا:
منافقین کوجب بھی موقع ملتا وہ مسلمانوں کے درمیان فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے، وہ اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے جس سے فائدہ اْٹھا کر مسلمانوں کے درمیان آگ بھڑکادی جائے تا کہ آپس میں لڑ پڑیں اور وہ باہر سے تماشہ دیکھیں۔ اس طرح مسلمانوں کی قوت کمزور ہو اور اس کا انہیں فائدہ ملے۔ قرآن ان کی اس کیفیت پر تبصرہ کرتا ہے:
’’پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دو رائیں پائی جاتی ہیں حالاںکہ جو برائیاں انہوں نے کمائی ہیں۔ ان کی بدولت اللہ انہیں پھیر چکا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے ہدایت نہ بخشی اسے تم ہدایت بخش دو؟ حالاںکہ جن کو اللہ نے راستے سے بھٹکا دیا اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے‘‘۔ (النساء: 88)
٭خود کو عقل مند اور مسلمانوں کو بیوقوف سمجھنا:
منافقین خود کو عقلمند سمجھتے ہیں کہ جہاں جیسی ضرورت پیش آئی وہاں اس طرح کی بات کرکے خود کو بچالیا ہے۔ مسلمانوں کے پاس گئے تو ان جیسی بات کرلی، اور کافروں کے پاس گئے تو ان کے مطابق بات کرکے خود کو ان کا خیر خواہ ظاہر کیا۔ اس طرح وہ خود کو عقل مند اور حقیقی اہل ایمان کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید ان کی اس کیفیت پر یوں تبصرہ کرتا ہے :
’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں۔ اسی طرح تم بھی ایمان لے آؤ، تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ’’کیا ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں؟‘‘خبردار حقیقت میں تو یہ خود بے وقوف ہیں مگر یہ جانتے نہیں‘‘۔ (البقرہ: 13)
٭زمین میں فساد پھیلانا اور اصلاح کا دعویٰ کرنا:
فساد پھیلانے والوں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے زمین میں اصلاح کا کام کررہے ہیں۔ خواہ ان کا فساد علم و آگہی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی کی بنیاد پر ہو۔ یا خود اپنی روحانی اور سیاسی لیڈروں کی تقلید میں ہو۔ دونوں حالتوں میں وہ اپنے ماننے والوں کو اپنے پروپیگنڈا سے دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں، حقائق پر پردہ ڈال کر مغالطہ دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیںکہ وہ حقیقت میں مصلح ہیں منافقین کی اس صورت حال پر قرآن تبصرہ کرتا ہے:
’’اورجب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد نہ برپا کرو، تو انہوں نے یہی کہا کہ ’’ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں‘‘۔ خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے‘‘۔ (البقرہ: 12)