امانت اور قرب قیامت

220

سیدنا حذیفہؓ بیان کرتے ہیںکہ اللہ کے رسولؐ نے ہم سے دو باتیں بیان فرمائیں۔ ان میں سے ایک کو تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں۔ آپؐ نے فرمایا تھا: امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتری ہے۔ پھر قرآن مجید نازل ہوا۔ پس لوگوں نے امانت کو قرآن مجید اور سنت سے پہچان لیا‘‘۔ پھر آپؐ نے ہمیں امانت کے اٹھ جانے کے متعلق بیان فرمایا کہ آدمی سوئے گا اور امانت اس کے دل سے قبض کر لی جائے گی۔ پھر اس کا اثر ایک معمولی نشان کی طرح باقی رہ جائے گا۔ پھر وہ سوئے گا اور امانت اس کے دل سے اٹھا لی جائے گی۔ پس اس کا اثر آبلے کی طرح باقی رہ جائے گا۔ جیسے تم انگارے کو اپنے پائوں پر لڑھکائو تو اس پر آبلہ نمودار ہو جائے۔ پس تم اسے ابھرا ہوا تو دیکھتے ہو مگر اس میں کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پھر آپؐ نے ایک کنکر لیا اور اسے پائوں سے لڑھکایا۔ پس لوگ اس طرح ہو جائیں گے کہ آپس میں خرید وفروخت کرتے ہوں گے مگر ان میں کوئی امانت ادا کرنے کے قریب بھی نہ بھٹکے گا۔ یہاں تک کہا جائے گا کہ فلاں لوگوں میں ایک امانت دار آدمی ہے۔ یہاں تک آدمی کو کہا جائے گا کہ یہ کتنا مضبوط، ہوشیار، اور عقل مند ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔
سیدنا حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ مجھ پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا کہ میں پروا نہیں کرتا تھا کہ مجھ سے کس نے خرید وفروخت کی بشرطیکہ وہ مسلمان ہوتا۔ اس لیے کہ اس کا دین مجھے میری چیز کو ضرور واپس کر دے گا اور اگر وہ یہودی یا عیسائی ہوتا تو اس کا کارندہ مجھے میری چیز ضرور واپس کردے گا۔ مگر آج کل تو میں صرف فلاں اور فلاں سے ہی خرید و فروخت کا معاملہ کرتا ہوں۔ ( بخاری کتاب الفتن)
اس روایت میں سیدنا حذیفہؓ نے صاف طور پر یہ بیان کر دیا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ رفتہ رفتہ دلوں سے امانت رخصت ہو جائے گی۔ اور جس طرح حالت نیند میں کسی تبدیلی کا ہمیں پتا نہیں چلتا، اسی طرح امانت کے رخصت ہوجانے کا بھی ہمیں پتا نہیں چلے گا۔ وہ ایک ایسی نایاب چیز ہو جائے گی کہ کہیں کہیں کوئی شخص امانت دار ہوگا۔ لوگ اس کی مثال دے کر کہیں گے کہ فلاں شخص امانت دار ہے۔ لوگ باہم معاملات کریں گے لیکن اس میں امانت داری سے کام نہ لیں گے۔ اس کے بعد ایسا وقت آئے گا کہ لوگ امانت داری سے زیادہ کسی کی جسمانی مضبوطی، ہوشیاری اور عقل مندی کی مثال دیا کریں گے کہ فلاں شخص ہوشیار اور عقل مند ہے۔ لیکن دل اس کا ایمان سے خالی ہوگا۔ آخر میں وہ کہتے ہیں کہ پہلے میں کسی سے بھی بے دھڑک معاملہ کر لیا کرتا تھا، کیوں کہ ہر شخص کی امانت داری قائم تھی۔ مسلمان تھا تو اس کے ایمان پر اعتماد تھا اور غیر مسلم تھا تو نظام پر اعتماد تھا کہ نظام حکومت کسی کی امانت ضائع نہ ہونے دے گا۔ لیکن اب یہ حال ہو گیا ہے کہ گن کر بتا سکتا ہوں کہ صرف فلاں اور فلاں سے ہی معاملہ کرتا ہوں۔ ورنہ باقی لوگ اب اس لائق نہیں رہے کہ ان کی امانت داری پر بھروسا کیا جا سکے۔
امانت کے اس طرح ضائع کیے جانے کو اللہ کے رسولؐ نے قیامت کی نشانی قرار دیا ہے:
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: جب امانت ضائع کی جانے لگے تو قیامت کا انتظار کرنا۔ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! امانت کا ضائع ہونا کس طرح ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جب معاملات نا اہل لوگوں کے سپرد کیے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرنا‘‘۔ (بخاری، کتاب العلم)
یعنی قیادت ایسے لوگوں کے پاس آجائے جو اس کے اہل نہ ہوں۔ سیاست ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے جو اس کے اہل نہ ہوں، مال ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے جو اس کا صحیح استعمال نہ جانتے ہوں، علم اور تعلیم گاہیں ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آ جائیں جو علم اور تعلیم کا صحیح طرح سے حق ادا نہ کر سکیں۔ حکمراں ایسے لوگ بنا دیے جائیں جو ملک و قوم کے خیر خواہ نہ ہوں۔ جب یہ سب باتیں نظر آنے لگیں تو سمجھ لو کہ قیامت برپا ہونے کا وقت قریب آ چکا ہے۔ اب اس کا انتظار کرو۔
امانت کی اہمیت یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ قیامت برپا ہو جانے کے بعد آخرت میں امانت وہ چیز ہوگی جو لوگوں کے لیے یا تو جنت میں جانے کا سبب بنے گی یا جنت میں جانے کے لیے رکاوٹ بن جائے گی۔ چنانچہ ابوہریرہؓ اور حذیفہؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیںکہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:
’’قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالی لوگوں کو جمع کرے گا۔ اہل ایمان ایک طرف کھڑے ہوں گے حتی کہ جنت ان کے قریب لے آئی جائے گی۔ پھر اہل ایمان آدمؑ سے جنت کا دروازہ کھولنے کی درخواست کریں گے لیکن وہ فرمائیں گے کہ کیا تمھیں جنت سے تمہارے باپ آدم کی غلطی ہی نے نکالا تھا؟ مجھے جنت کو کھولنے کا اختیار نہیں، جائو میرے بیٹے ابراہیم کے پا س جائو‘‘۔ روایت میں ہے کہ اس کے بعد اہل ایمان ابراہیمؑ، موسیؑ اور اخیر میں عیسیؑ کے پاس جائیں گے، لیکن سب کے سب معذرت کر لیں گے۔ آخر میں وہ اللہ کے رسولؐ کے پاس آئیں گے۔ اور آپ کو جنت کو وا کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ لیکن اسی وقت امانت داری اور صلہ رحمی کو وہاں بھیج دیا جائے گا۔ یہ دونوں چیزیں جنت کی طرف جانے والے راستے کے دونوں طرف دائیں بائیں کھڑی ہو جائیں گی۔ اس کے بعد اللہ کے رسولؐ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اس راستے سے گزر جائیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ بجلی کی طرح گزرنا کیا ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ (آسمان سے) بجلی کس طرح آتی ہے اور پلک جھپکتے ہی پلٹ جاتی ہے؟‘‘ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اس کے بعد کچھ لوگ ہوا کی طرح گزر جائیں گے۔ اور اس کے بعد کچھ لوگ پرندے کی رفتار سے گزر جائیں گے۔ کچھ لوگ دوڑ کر گزر جائیں گے۔ ان کے اعمال انھیں جنت کی طرف لیے جا رہے ہوں گے اور تمھارا نبی وہیں جنت کے راستے میں کھڑا ہوگا اور کہہ رہا ہوگا: ربِّ سلِّم سلِّم (’’اے میرے رب! حفاظت فرما، حفاظت فرما‘‘۔) یہاں تک کہ بندوں کے اعمال اس قدر رکاوٹ بن جائیںگے کہ آدمی چلنے پر قاد ر نہ ہوگا اور لڑکھڑاتا ہوا جنت کی طرف جائے گا۔ اور راستے کے دونوں طرف میخیں لگی ہوں گی جو اس بات پر مامور ہوں گی کہ جس کے متعلق انھیں حکم دیا جائے، اسے اچک لیں۔ چنانچہ جو مخدوش ہوا وہ بچ جائے گا اور جسے دھکیل دیا گیا وہ آگ میں گرے گا‘‘۔ (مسلم: کتاب الایمان)
راستے کے دونوں طرف امانت اور صلہ رحمی کا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال کا اچھا خاصا ذخیرہ ہونے کے باوجود یہ دونوں چیزیں جس کے نامہ اعمال میں نہ ہوں گی وہ اس کے لیے جنت کے راستے میں رکاوٹ بنیں گی۔