مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں شدت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے‘محمد جاوید قصوری

99

 امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ڈاکٹر سمیت 3 افراد کو شہید کرنے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ قابض فوج نے تلاشی کے دوران نوجوانوں کو شہید کیا ۔ طاقت کا بے تحاشا استعمال اور نام نہاد پابندیاں کشمیریوں کی آواز نہیں دبا سکتے ۔   ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز منصورہ میں مختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتا، حالانکہ یہ دنیا کی سب بڑی دہشت گرد اور اقلیتوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے حوالے سے بد نام ریاست ہے۔ مودی حکومت نے کشمیریوں سمیت اقلیتوں پر بھی اپنے مظالم کی انتہا کر رکھی ہے۔ اقلیتوں کو جانوروں سے بھی بد ترسمجھا جاتا ے۔ ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ شائننگ انڈیا کے نعرے کی قلعی کھل چکی ہے۔ ہندو توا کی سوچ نے دنیا بھر میں تشدد کو فروغ دیا ہے۔ ہندوں کی انتہا پسندی نے اپنی تمام حدود کو عبور کرلیا ہے ،صرف ہندئوں کو حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خالصتان سمیت 50سے زائد علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں۔ مودی حکومت کی شر انگیزیوں سے کوئی محفوظ نہیں، جلد بھارت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ دنیا انڈیا کے گھنائونے چہرے کو پہچان چکی ہے۔ بھارت دنیا کا واح دملک ہے جہاں خواتین کی عصمتیں سر بازار پامال ہورہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ حکومت پاکستان بھارت کے ساتھ پس پردہ تعلقات استوار کرنے سے باز رہے۔ بھارت کے ساتھ اس وقت تک تعلقات بحال نہیں ہونے چاہیں جب تک وہ بلوچستان میں مداخلت کرنا بند ، دہشت گردی کا خاتمہ، کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ ختم اور ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہیں کردیتا ۔