حقوق طلبہ روڈ کارواں کراچی تا خیبر

105

 ( اسسٹٹ سیکرٹری جنرل اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان)

اچھے نعرے متعارف کروانا ہمیشہ سیاسی جماعتوں کی ترجیح رہا ہے۔اور ایسے نعرے جو نوجوانوں کو متوجہ کریں ان کی اہمیت ہی الگ ہوتی ہے۔موجودہ حکومتی جماعت نے بھی اپنی کمپین کے دوران نوجوانوں اور بالخصوص طلبہ کو متوجہ کرنے کے لئے کئی نعرے متعارف کرائے جنہیں سن کر محسوس ہوتا تھا کہ ان کا حکومت حاصل کرلینادراصل طلبہ کی ترقی و خوشحالی کی نویدثابت ہوگا۔لیکن جو ہوا اس پہ خود نعرے متعارف کرنے والے بھی پشیمان ہیں۔ایک نظر اعداد و شمار کو دیکھتے ہیں تاکہ اس بدقسمتی اور بدحالی کا اندازہ کرنا آسان ہو جس کا سامنا اس دورِ حکومت طلبہ کر رہے ہیں۔
یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں 22.8ملین بچےتعلیم کی نعمت سے محروم ہیں ۔جو کہ آئین پاکستان کی روشنی میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ترقی یافتہ تو بہت دور ، دیگر پسماندہ ممالک سےہی وطن عزیز کا موازنہ کرلیا تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کا 2.6 فیصد سے نہیں بڑھایا جاسکا ہےجو کہ بنگلہ دیش،سری لنکا،ہندوستان حتیٰ کہ مالدیپ سے بھی کم ہے۔
اعلیٰ تعلیم کی صورت حال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے ایچ ای سی کے بجٹ میں مسلسل کمی کی ہے جس کا نتیجہ فیسوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہےاور ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی بڑی جامعات میں 30سے65 فیصد فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے جب کہ ایچ ای سی اپنے ناجائز اقدامات(دو سالہ ڈگری پروگرام کا خاتمہ،GATکا انعقاد) سے مسلسل جامعات کی خودمختاری کو سلب کرتی جارہی ہےجس سے جامعات کی کارکردگی پر منفی اثرات اور Drop Out Ratio میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور مزید اضافےکے خدشات ہیں۔
میڈیکل کا شعبہ جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس پر شب خون مارا گیا ہےاور حکومت وقت نے میڈیکل کے شعبے کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔PMDCکا خاتمہ،NLE اور MDCAT جیسےاقدامات نے پوری میڈیکل کمیونٹی میں اضطراب اور بے چینی پیدا کی ہےاور طلبہ وڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں۔
ایک جمہوری ملک میں ،جمہوری آئین کی موجودگی میں طلبہ کے سب سے اہم ادارے طلبہ یونین انتخابات کا نہ ہونا تمام جمہوری قوتوں کے منہ پر طمانچہ ہےجس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں بد امنی کو فروغ ملا ہےجبکہ طلبہ مسائل میں بے تحاشہ اضافے کے ساتھ پاکستان کی سیاست سرمایہ داری،موروثیت اور جاگیرداری کی نظر ہوگئی ہے۔
درج بالا اعداد و شمار استحصال کے اس بڑے سلسلے کی ایک چھوٹی سی کڑی ہے جس نے اس وقت پورے تعلیمی نظام کو اپنی جکڑ میں لے رکھا ہے۔ موجودہ حکومت کے گزشتہ تنب سالوں مںی تعلیت بجٹ مں اضافے کے بجائے مسلسل کمی ہوتراہی ہے۔گلپا سروے کے مطابق 75 فصد طلبہ کے لےل تعلم تک رسائی مشکل ہے۔دیکھا جائے تویہ قوم کے مستقبل کے ساتھ سخت نا انصافی اور حکومتی ترجحاوت پر سوالہ نشان ہے۔ایچ ای سی نے مالی سال 2020 – 21 کے لے 104.789 بلن کا انتظامی بجٹ حکومت سے طلب کاٹتھا لیکن حکومت نے اس کی فراہمی میں پہلو تہی سے کام لیا۔انتظامی امور اور تنخواہوں کے بجٹ کے لے سال 2021 – 22 کے صرف 66 ارب مختص کے گئے۔ 138 جامعات اور 92 کمپس کے لےکیہ انتہائی کم بجٹ ہے، جبکہ ترقارتی بجٹ کے لے صرف 42 ارب مختص کےب گئے ہںا۔ سال 2018-19 کے بجٹ کے مقابلے مںے 4 ارب کم ہیں۔
ایچ ای سی ایک طرف عالمی معابر کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف یونوسرسٹورں کی آٹونومس حتکو کو ختم کر رہی ہے۔عالمی معیار کے تمام ادارے آٹونومس باڈی کی حت ل رکھتے ہںم۔لکنے ایچ ای سی آئے دن اس حتحت کو کم کر رہی ہےاور معا ر تعلمک کو گرا رہی ہے۔ایچ ای سییکساں ٹسٹے لے کر جامعات کے نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔ اس سے ڈراپ آؤٹ ریشو مںہ بھی مزید اضافہ ہوگا ۔ہر یونومرسٹی کا اپنے پروگرام کے مطابق ٹسٹ ہوتا ہے اور وہی طلبہ کے لئے بہتر اور مفدے ہے۔ایچ ای سی اپنے ٹسٹص کی فسا 1200 لے رہی ہے جو محض پسےا کمانے کا ایک دھندہ ہے۔مزید برآںایچ ای سی کی جانب سے بی ایس پروگرام اور ایسوسی ایٹ پروگرام کے لئے ایسوسی ایٹ انڈرگریجویٹ اسٹڈیز ایڈمیشن ٹیسٹ لازم کرنا یونیورسٹیوں کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ایچ ای سی اپنے بناکدی اختاٹرات سے مسلسل تجاوز کر رہی ہے۔.
اسی طرح شعبہ میڈیکل کو مذاق کا نشان بنا دیا گیا ہے۔ این ایل ای ٹیسٹکا اجراء مڈفیکل کے طلبہ کے لے ڈگری کے بعد مزید ایک ٹسٹ کا اضافہ اور اپنے تعلیا اداروں پر عدم اعتماد ہے۔ آپ اس گنجلک نظام پہ غور کیجئے کہ داخلہ سے پہلے انٹری ٹسٹ لیا جاتا ہےاور اسکے بعد ہر سال بعد انتہائی مشکل امتحان لاع جاتا ہے۔تعلیم کے دوران پانچ سال مںا حکومت تقریباً ایک طالب علم پر سرکاری کالجز مں 80 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے۔ اس سارے عمل کے بعد ایک ٹسٹن لنا انٹری ٹسٹل اور پانچ امتحانات پر عدم اعتماد نہیں تو کیا ہے۔ اس سارے عمل کوکوئی بھی باشعور ذہن قبول کرنے کو تیار نہیں۔
اسی طرح میڈیکل کے شعبہ کے ساتھ ایک اور زیادتی یہ کی گئی سپریم کورٹ نے جومڈنیکل کالجز کی فسولں کا تعنٹ کات تھا،اس کو پی ایم سی آرڈیننس کے ذریعےتبدیل کر دیا گاے، جس کی وجہ سے پرائوسیٹ مڈٹیکل کالجز نے موقع سےفائدہ اٹھایا اور فسو ں مںخ بےتحاشا اضافہ کردیا۔اس ناانصافی پر اسلامی جمعتت طلبہ پاکستان نے 16 مختلف شہروں مں احتجاجی مظاہرے مظاہرے بھی کئے کہ شاید اسی سے سوئے ہوئے فیصلہ سازوں کے کان پہ جوں رینگ جائے۔
اس سارے منظرنامے میں اسلامی جمعیت طلبہ کی جدوجہد قابلِ تعریف ہے ۔ جمعیت کے تحت پاکستان میڈیکل کمیشن کے خلاف پی ایم سے کے سامنے قومی مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میںطلبہ نمائندوں، ڈاکٹرز، ساتسی و سماجی راہنماؤں نے شرکت کی اور پی ایم سی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلامہم جاریکیا۔
اجلاس مں سٹرم مشتاق احمد خان ، حمزہ صدییا ناظم اعلیٰ اسلامی جمعتی طلبہ پاکستان ، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن ، صحافی برادی ، وکلاء برادری اور طلبہ نمائندے شریک ہوئے۔سنجیدہ طرز پہ مسائل کا حل سوچنا اور ایک شفاف جدوجہد کے ذریعے حکومت کو یہ باور کرانا کہ ان مسائل پر غور کیا جائے واقعی قابل تعریف عمل ہے۔
اسی طرح اسلامی جمعیت طلبہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں “تعلیم سے تعمیر” کے عنوان تلے طلبہ مسائل کے حل کی جدوجہد کرنے جا رہی ہے۔ اس مہم کے تحت ہر تعلیمی ادارے میں طلبہ کو ان کے مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے پروگرامات کئے جائیں گے ۔ کئی شہروں میں چھوٹے بڑے احتجاج اور ریلیاں بھی اس منظم جدوجہد کا حصہ ہے۔ اور 17 نومبر کو جمعیت پورے پاکستان کے طلبہ کی نمائندگی کے لئے اسلام آباد میں ایک بڑا کنونشن کرنے جا رہی ہے۔
فی زمانہ درجنوں طرز کے مسائل نے ہر فرد کو بری طرح گھیرا ہوا ہے۔ اس لئے یقیناایسی جدوجہد جس میں نوجوان طبقہ شامل ہو اور نہ صرف مسائل بلکہ ان کے حل سے بھی آگاہی حاصل کررہا ہو قابل تعریف ہے۔ ایسی جدوجہد کا حصہ بننا ، ایسے لوگوں کے ساتھ چلنا بھی یقینا قابل توصیف ہے۔ انہی تحریکوں سے اور اسی طرز کی جدوجہد سے یہ معاشرہ اور بالخصوص ہمارا تعلیمی نظام بہتری کی طرف گامزن ہوگا۔