خوردنی تیم درآمد بر آمد کرنے والے ممالک ٹیکس کم کریں ، عاطف اکرام

149

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر مسٹر ایڈم ٹوگیو نے اپنے گھر پر جمہوریہ انڈونیشیا کے یوم آزادی کی 76ویں سالگرہ اور 54ویں آسیان ڈے منایا۔ تقریب محدود شرکاء کے ساتھ منعقد کی گئی جس میں جڑواں شہرمیں مقیم انڈونیشیائی باشندوں، سرکاری افسران اور کاروباری برادری نے شرکت بھی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انڈونیشیاء کے سفیر نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان عالمی اور علاقائی معاملات میں مکمل ہم آہنگی اور قریبی تعاون موجود ہے۔ انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان تاریخی تعلقات کی جڑیں علاقائی اور عالمی سطح پر باہمی احترام پر مبنی ہیں۔دونوں ممالک نے ہم نے 1950 میں سفارتی تعلقات قائم کیے اور 2020 میں سفارتی تعلقات کے قیام کو ستر سال ہو گئے جس پر تقریبات منعقد کی گئیں۔ اس موقع پر پام آئل کے معروف درآمد کنندہ اور سابق چیئرمین پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے دس بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔انڈونیشیا 2018 میں پاکستان کا آٹھواں سب سے بڑا تجارتی پارٹنر تھا جبکہ2020 میں دوطرفہ تجارتی حجم 2.6 بلین امریکی ڈالر تھا جو اب تین ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں پاکستان کی تاجر برادری کی جانب سے آپ کو اور انڈونیشیا کے عوام کے لیے تمام خوشیاں، نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔ پاکستان انڈونیشیاء سے تعلقات کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہماری درمیان قریبی شراکت داری قائم ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہم اپنے اقتصادی اور عوامی کے تعلقات کو گہرا کرنے اور امن اور خوشحالی کے مشترکہ مقصد کی طرف بڑھنے کے لیے مل کر کام کررہے ہیں۔ ہم باہمی تجارت، امن اور استحکام کو فروغ دیں گے۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ہم نے حکومت سے پام آئل پر درآمدی ڈیوٹی کم کرنے کا کہا ہے تاکہ عوام کو کم قیمت پر گھی اور کوکنگ آئل مل سکے۔انہوں نے پام آئل برآمد کرنے والے ممالک سے بھی کہا کہ وہ پیداوار میں اضافہ کریں اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایکسپورٹ ٹیکس میں کمی کریں کیونکہ اربوں لوگ اس تیل کا استعمال کرتے ہیں۔