ایڈمنسٹریٹر حیدرآباد و میونسپل کمشنر کااسپتال اور شہر کا دورہ

48

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر حیدرآباد سید اکبرعلی شاہ معصومی نے میونسپل کمشنر فاخر شاکر صدیقی کے ہمراہ سٹی ایریا میں واقع بلدیہ اعلیٰ حیدر آباد کے حافظ مبارک علی شاہ (تارا چند) اسپتال ، شہید عنایت اللہ فائر اسٹیشن اور شہر میں صفائی ستھرائی اور انکروچمنٹ کے حوالے سے سرپرائز وزٹ کیا ،وزٹ کے دوران ایڈمنسٹریٹر حیدرآباد نے حافظ مبارک علی شاہ اسپتال میں صحت و صفائی کے کاموں پر جائزہ لیا تاہم انہوں نے اسپتال میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالسلام دائو پوتہ کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میونسپل کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ اسپتال کے ایم ایس کو وارننگ لیٹر جاری کریں،ایڈمنسٹریٹر حیدرآباد نے فقیر کا پڑھ چوک پر واقع بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے شہید عنایت اللہ فائر اسٹیشن کا بھی وزٹ کیا اور وہاں موجود عملے سے کی حاضری اور ان کے کاموں کے حوالے سے بات چیت کی اس کے علاوہ ایڈمنسٹریٹرحیدرآباد نے فقیر کا پڑ، کلاتھ مارکیٹ روڈ اور میمن اسپتال چوک کے علاقوں میں صحت و صفائی کے کاموں کے کا جائزہ لیا۔انہوں نے مختلف علاقوں میں موجود کچرے کے ڈھیروں کو فوری لفٹ کرنے او ر صفائی ستھرائی کے کاموں کو بہتر بنانے کی ہدایت کی او ر صفائی کی ابتر صورتحال پرانچارج کمپلنٹ سیل سٹی مہتاب کو سرزنش بھی کی۔انہوں نے سینیٹشن اسٹاف کو تاکید کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں صحت و صفائی سے متعلق مسائل پیدا نہ ہوں۔ ایڈمنسٹریٹرحیدرآبادسید اکبرعلی شاہ معصومی اور میونسپل کمشنر فاخر شاکر نے گرونگر چوک تا فقیر کا پڑھ چوک اور کلاتھ مارکیٹ تا نشاط چوک کا انکروچمنٹ کے حوالے سے بھی دورہ کیا اور انکروچمنٹ کی صورتحال انچارج اینٹی انکروچمنٹ سیل سٹی ناصر لودھی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تمام سافٹ انکروچمنٹ کو ہٹانے کے احکامات دیے اور انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ شہر کے اہم بازار اور مارکیٹس کی وجہ سے انتہائی اہم او رمصروف علاقہ ہے یہاں انکروچمنٹ کے باعث شہریوں کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا ایسے مقامات پر تمام سافٹ تجاوزات کا فوری خاتمہ نہایت ضروری ہے۔
سجاول کے گوٹھ بچل کہرانی کے رہائشی کازمینی معاملے پر احتجاج
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) سجاول کے گوٹھ بچل کہرانی کے رہائشی ریٹائرڈ ٹیچر عبدالرزاق کہرانی نے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے زمین کے کاغذات میں ہیرا پھیری کرکے زمین پر قبضہ کئے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کے علاقہ کے باعث افراد رحیم ڈیتھو ، محمد جمن، مشتاق شاہ اور مقبول کہرانی سمیت دیگر نے محکمہ ریونیو کے عملے سے ملی بھگت کر کے میری زرعی زمین کے جعلی کاغذات بنوا کرزمین پر قبضہ کر لیا ہے جس پر میں نے متعلقہ تھانہ پر کیس درج کرایا تو مذکورہ قبضہ کرنے والے ملزمان مجھے کیس سے دستبردار نہ ہونے کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ میری زمین کے جعلی کاغذات بنوا کر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے مجھے تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔