فلسطین میں آبادکاری امن کیلئے خطرہ ہے،امریکا

82

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیرکی سخت مخالف ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کی کھل کر حمایت کیا کرتے تھے ،تاہم صدربائیڈن نے اپنے پیش رو کے متنازع اقدامات سبوتاژ کرنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری اور مقبوضہ اراضی پر تعمیرات کے سخت خلاف ہے۔ تل ابیب کی کارروائیوں پر شدید تشویش لاحق ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم فلسطین میں بستیوں کی توسیع کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ یہ اقدامات کشیدگی کو کم کرنے اور امن کو یقینی بنانے کی کوششوں سے قطعی طور پر مطابقت نہیں رکھتے اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ یاد رہے کہ اتوار کے روز اسرائیل نے فلسطین کے مقبوضہ علاقے غرب اردن میں 1350مزید مکانات کی تعمیر کو منظوری دی تھی ، جس کے بعد امریکا نے یہ سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ فلسطین کے وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں واشنگٹن سے بستیوں کی توسیع کے معاملے میں اسرائیل کو لگام دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکا میں سابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے متعلق خارجہ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر آبادکاری کو فروغ دینے کی پالیسی اپنا رکھی تھی۔ ٹرمپ نے تو اپنے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو ان غیر قانونی بستیوں میں سے ایک کا دورہ کرنے کے لیے بھی بھیجا تھا، لیکن اب صدر بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے بیشتر ارکان اسرائیل سے متعلق وائٹ ہاؤس کی بلا مشروط حمایت کی پالیسی سے نالاں ہوتے جا رہے ہیں۔ جون میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی قانون سازوں نے صدر جو بائیڈن کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایسی تمام کارروائیوں کی مذمت کریں جو خطے میں امن قائم کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیت کا تعلق انتہائی دائیں بازو کی جماعت سے ہے، جو ان علاقوں میں تعمیرات کی لابی گروپ کے سربراہ ہوا کرتے تھے۔ وزیر اعظم فلسطینی ریاست کے قیام کے بھی سخت مخالف ہیں۔ وہ اپنے عہدے کی مدت کے دوران فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ با ضابطہ امن مذاکرات کو بھی مسترد کر چکے ہیں۔لیکن ان کی مخلوط حکومت میں شامل وزیر خارجہ یائر لپید کی جماعت اس معاملے میں اپنے امریکی حامیوں کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتی ہے۔