میانمر کے فریقین ثالثی قبول کریں،آسیان کا مطالبہ

159
بندرسری بگاوان: امریکی صدر جوبائیڈن برونائی میں ہونے والے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے اجلاس سے آن لائن خطاب کررہے ہیں

بندر سری بگاوان (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان نے مطالبہ کیا ہے کہ میانمر کی فوج اور جمہوریت پسند قوتیں بات چیت ممکن بنانے کے لیے آسیان کے خصوصی ایلچی کی ثالثی کو قبول کریں۔ اجلاس کے بعد تنظیم کے سربراہ رکن برونائی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں میانمر کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی گئی، جس میں وہاں ہلاکتوں اور تشدد کے اعدادو شمار بھی شامل ہیں۔ رکن ممالک رہنماؤں نے میانمر سے مطالبہ کیا کہ وہ آسیان کے تحت اپریل کے اجلاس میں متفقہ طور پر طے کردہ 5نکاتی پالیسی پر فوری اور عمل کرے۔ منصوبے میں آسیان کے خصوصی مندوب کو میانمر بھیجنا شامل ہے جو وہاں فوج اور جمہوریت پسند قوتوں کے درمیان مذاکرات کے لیے ثالثی کرائے گا۔تنظیم نے اجلاس میں میانمر کے فوجی قائد کی بجائے وہاں کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو مدعو کیا تھا۔ تاہم میانمار کی فوج نے یہ کہتے ہوئے پیشکش رد کر دی تھی کہ یہ اقدام آسیان کے عدم مداخلت کے اصول کے منافی ہے۔ دوسری جانب جاپانی وزیر اعظم نے بھی آسیان کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم سے تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔ وزیراعظم کیشیدا فومیو نے رکن ممالک کے ساتھ آب ہوا میں تبدیلی سے متعلق کوششوں کو کو تقویت دینے سمیت دیگر موضوعات پرتعاون کو فروغ دینے کے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ۔ انہوں نے عزم کیا کہ آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل خطے کے حصول کے لیے وہ آسیان ارکان کے ساتھ کثیر جہتی کوششوں کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آسیان ممالک کو کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں مدد دینے کے لیے جاپان نے 28 کروڑ ڈالر سے زائد امداد دی ہے ، تاکہ وہ ویکسین کے حصول اور کم درجہ حرارت والے ترسیلی نظام کی تشکیل سے اس وبا کا توڑ کر سکیں۔اجلاس سے خطاب کے دوران کیشیدا نے کورونا وائرس کے بعد کے دور میں ماحول دوست توانائی کو ترقی دینے اور عالمی سپلائی چین کو مستحکم کرنے جیسے معاملات میں تعاون کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ انہوں نے آسیان رہنماؤں کو 2023 ء میں جاپان میں خصوصی سربراہ اجلاس میں مدعو کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ واضح رہے کہ جاپان اور آسیان کے درمیان سفارتی مراسم کا پچاسواں سال ہے۔