بھارت: اُردو کو مذہبی زبان قرار دینے کی مہم

90

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں اردو کے خلاف نفرت انگیز مہم چل پڑی اور انتہا پسندوں نے اردوکو مسلمانوں کی زبان قرار دے دیا ۔ بھارتی میں اردو زبان کیخلاف نفرت انگیز مہم کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب ایک بھارتی کمپنی نے دیوالی کے ملبوسات کے اشتہار میں اردو الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ہندی پر ترجیح دی تھی۔ اس پر بی جے پی کے رکن پارلیمان اور حامیوں نے کمپنی کی بائیکاٹ کی مہم چلائی اور کمپنی کو اشتہار واپس لینے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد اردو کے خلاف منظم طور پر نفرت انگیز مہم کا آغاز ہوگیا ہے اور سوشل میڈیا پر اردو جملوں کو ہندی میں تبدیل کرکے پوسٹ کیا جارہا ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیوسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ اردو کا استعمال مکمل ختم کرنا انتہا پسندوں کا بڑا مشن بن چکا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے سربرا اکھلیش یادو نے کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ان تمام طبقات کا مستقبل طے ہوگا، جن کے مفاد کو بی جے پی کے دور میں دبایا اور کچلا گیا ۔ ادھر امریکی ریاست نیوجرسی میں ٹیچر کو مسلمان طالب علم سے نفرت انگیز رویہ مہنگا پڑ گیا اور اسکول انتظامیہ نے اسے معطل کردیا۔ نیوجرسی ہائی اسکول کے ایک مسلم طالب نے سوال پوچھا تو جواب میں ٹیچر نے کہ ہم دہشت گردوں سے با ت نہیں کرتے۔