معاشی دبائو کا علاج کیا ہے؟

220

وزیراعظم عمران خان نے منگل کے روز چین کے صدر شی جن پنگ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان چین اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے کے بارے میں گفتگو کی گئی۔ ایوان وزیراعظم سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم نے چین کو غربت سے نکالنے اور چار دہائیوں میں اصلاحات اور ترقی پر مبارک باد بھی دی، وزیراعظم نے چین کے صدر کو دورۂ پاکستان کی دعوت کی تجدید بھی کی۔ اس موقع پر علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنمائوں نے معاشی مشکلات کو کم کرنے، چین پاکستان آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے سے بھرپور فائدہ اٹھانے، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے چینی صدر سے سی پیک کے منصوبوں کی کامیابی اور اس کے منصوبوں کے بارے میں پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے تحت ایم ایل ون ریلوے منصوبے کے فوری آغاز سے پاکستان کے قومی اور علاقائی ترقی کے جیو اکنامکس وژن کے لیے اہم پیش رفت ہوگی۔ سی پیک کے منصوبوں پر عملدرآمد کے علاوہ افغانستان کی صورتِ حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ چین اور پاکستان کے تعلقات کی جہت صرف اقتصادی تعاون پر ہی نہیں ہے بلکہ تزویراتی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ چین کے صدر کا دورہ ٔ پاکستان کافی عرصے سے زیر غور ہے لیکن بوجوہ ملتوی ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے وزیراعظم کی جانب سے چینی صدر کو دورہ ٔ پاکستان کی دعوت کی تجدید ایک مثبت خبر ہے۔ وزیراعظم نے چین کے صدر سے ٹیلی فون پر براہ راست گفتگو سعودی عرب کے دورے سے واپسی پر کی ہے، جس دوران میں وزیراعظم سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر گئے تھے۔ اس وقت وزارت خزانہ کا وفد آئی ایم ایف کے قرض کی قسط کے لیے مذاکرات کے لیے واشنگٹن میں موجود تھا۔ وزارت ِ خزانہ کے وفد کی قیادت مشیر خزانہ شوکت ترین کررہے تھے جنہیں امریکا سے سعودی عرب طلب کرلیا گیا تھا۔ واشنگٹن آئی ایم ایف سے مذاکرات اور ایف اے ٹی ایف کے اجلاس بیک وقت جاری تھے۔ ابھی تک آئی ایم ایف سے مذاکرات کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی سخت شرائط تسلیم کرلینے کے باوجود پاکستان کو کسی بھی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہے۔ اس کا سبب عالمی حالات میں تبدیلی ہے۔ آئی ایم ایف اور فیٹف دونوں سیاسی وجوہ کی بنیاد پر پاکستان سخت ترین شرائط ماننے پر مجبور کررہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی تباہ شدہ معیشت کی بحالی کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔ پاکستان پر امریکا اور عالمی اداروں کے دبائو کے بڑھنے کے دو اسباب سب کو معلوم ہیں۔ سب سے بڑا سبب افغانستان سے امریکی اور ناٹو فوجوں کی ذلت آمیز پسپائی ہے۔ اب تو سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد نے بھی اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ امریکا کو افغانستان میں شکست ہوئی ہے، امریکا نے افغانستان میں ڈاکٹر اشرف غنی اور افغان فوج پر جو سرمایہ کاری کی تھی وہ بھی ضائع ہوگئی اور غیر متوقع طور پر اشرف غنی کابل سے فرار ہوگئے اور کھربوں ڈالر خرچ کرکے تیار کی جانے والی فوج تحلیل ہوگئی۔ دوسرا سبب چین بی آر آئی منصوبہ ہے جس کا ایک حصہ سی پیک ہے جس کے خلاف امریکا اور آئی ایم ایف اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرچکے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان اور چین کے تعلقات اقتصادی ہی نہیں بلکہ تزویراتی نوعیت میں بھی تبدیل ہوگئے ہیں اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے چین واضح موقف اختیار کرچکا ہے۔ اس مرحلے پر پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری اس کا اقتصادی بحران ہے۔ پاکستان کے اقتصادی بحران کے بہت سے اسباب ہیں۔ سب سے بڑا سبب امریکی وار آن ٹیرر کا آلہ کار بننا ہے۔ سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکی عالمی جنگ میں کرائے کا سپاہی بن کر پاکستان کی زبردست مزاحمتی قوت کو زنجیر پہنچادی۔ پھر این آر او کے ذریعے برسراقتدار آنے والی سیاسی حکومتوں نے پاکستانی معیشت کو آئی ایم ایف کی زنجیروں میں جکڑ دیا جس کے بعد ایک ایسا منحوس سلسلہ شروع ہوا ہے جس نے پاکستان کے عوام کو تاریخ کی بدترین مہنگائی کا شکار کردیا ہے۔ ڈالر کی شرح میں پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے نے سارا اقتصادی توازن درہم برہم کردیا ہے۔ اس وجہ سے پاکستان کے عوام سی پیک کے منصوبوں سے بھی مستفید نہیں ہو پارہے ہیں۔ ایک طرف حکومت پاکستان نے قرض کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ دوسری طرف اپنے دوستوں کی طرف رحم کی نظروں سے ہمارے حکمراں دیکھ رہے ہیں۔بدترین اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے سعودی عرب نے ایک بار پھر بڑا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم اور مشیر خزانہ سعودی عرب کے دورے سے واپس آچکے ہیں۔ ان کی واپسی کے بعد سعودی عرب کی حکومت نے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق سعودی عرب 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے گا اس کے علاوہ سعودی عرب ایک سال میں 1.2 ارب ڈالر سالانہ مالیت کا تیل موخر ادائیگی پر فراہم کرے گا۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پیکیج سے معیشت میں بہتری لانے اور روپے کی قدر میں استحکام لانے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ دوسرا مالی امدادی پیکیج ہے جو سعودی عرب نے دیا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر سہارا تو مل گیا ہے لیکن یہ مدد آئی ایم ایف کے معاہدوں کا متبادل نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب نے سہارا دیا تھا اس دوران میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں سرد مہری بھی واقع ہوچکی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے ملنے والا یہ سہارا بھی قرض کی ایک صورت ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ آئی ایم ایف اپنے سخت مطالبات کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مفلوج کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ کوئی آزادانہ فیصلہ نہ کرسکے۔ اس وقت حکومت پاکستان دوراہے پر کھڑی ہے، ملک خطرناک معاشی تباہی کے دہانے پر ہے اور اس کے ساتھ ہی حکمرانوں پر امریکی دبائو بڑھ گیا ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ چین اور سعودی عرب جیسے دوستوں کے ساتھ تزویراتی شراکت قائم کرکے پاکستان کے عوام کے لیے حالات سازگار بناسکیں۔ بڑی طاقتوں کے سامنے سر اٹھا کر اپنی بات منوانا تو ان کے بس میں نہیں۔ لیکن اگر کچھ کر سکتے ہیں تو اپنے ملک کی زراعت کے ذریعے عوام کو کسانوں کو اور ملکی معیشت کو سنبھال سکتے ہیں۔ گندم، چاول، شکر وغیرہ کو مافیا کے نرغے سے نکال کر عوام کی فلاح پر خرچ کریں رفتہ رفتہ آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔