ٹی ایل پی کو بھارتی مالی معاونت حاصل ہے،حکومت،عسکریت پسند گروہ کے طور پر نمنٹنے کا اعلان

1266
سادھوکے: کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنان پولیس پر پتھرائو کررہے ہیں، چھوٹی تصاویر میں مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے جارہے ہیں ،ایک کارکن کو گرفتار کیا جارہاہے

اسلام آباد/لاہور/راولپنڈی( نمائندگان جسارت+آن لائن+صباح نیوز) وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی کو بھارتی مالی معاونت حاصل ہونے کا الزام عاید کرتے ہوئے عسکریت پسند گروہ کے طور پر نمٹنے کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مظاہرین کو جہلم سے آگے کسی صورت نہیں آنے دیا جائے گا، مظاہرین کوروکنے کے لیے رینجرز کو بھی استعمال کیاجائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی سربراہی میں وزراء کی کمیٹی نے کالعدم ٹی ایل پی سے مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ دی اورموجودہ ڈیڈ لاک سے آگاہ کیا۔کابینہ کو معاملہ سے متعلق قانونی امور سے بھی آگاہ کیا گیا۔ کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ جانی و ملکی املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو رعایت نہیں دینی چاہیے، مظاہرین کو روکنے کے لیے پشاور جی ٹی روڈ کو بھی بند کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے کالعدم تنظیم کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا اور فیصلہ کیا کہ ریاست کی رٹ ہر حال میں قائم رکھی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ احتجاج کی آڑ میں پولیس والوں کو مارنا ظلم ہے، حکومت چاہتی ہے مذاکرات سے معاملات حل ہوں، راستے بند کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا، ایسے مطالبات تسلیم نہیں کیے جا سکتے جو پاکستان کے مفاد میں نہ ہوں۔ ذرائع کے مظابق وفاقی کابینہ اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعظم نے دورہ سعودی عرب پر کابینہ کو اعتماد میں لیا اور سعودی کی جانب سے مالی معاونت پر بریفنگ دی ۔بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم ٹی ایل پی کو بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے، جس طرح دوسری دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کیا ہے ان کا بھی کریں گے، کالعدم ٹی ایل پی بلیک میل کرنے کی جسارت نہ کرے، ان کے ساتھ سیاسی جماعت جیسابرتاؤنہیں کریں گے، یہ تنظیم مذہبی جماعت نہیں عسکریت پسند گروپ ہے اوراس سے شدت پسند تنظیم کی طرح نمٹاجائے گا، کوئی بھی ریاست کوکمزورسمجھنے کی غلطی نہ کرے، 6 بارتماشالگ چکا ہے، ریاست کے صبر کی کوئی حد ہوتی ہے، یہ لوگ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر سڑکوں پر آجاتے ہیں،طاقت کے زور پر کسی کو اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کرنے دیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرجھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہپنجاب میں امن وامان قائم کرنے اور کالعدم تنظیم سے نمٹنے کا اختیار60 روز کے لیے رینجرز کے حوالے کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی والوں سے 6 مرتبہ رابطے کیے،ان کی قیادت سے کافی مذاکرات کیے لیکن اب یہ تنظیم عسکریت پسند ہوچکی ہے، احتجاج کرنے والوں سے اب بھی کہتا ہوں کہ ہوش کے ناخن لیں۔ فرانس کے سفارتخانے کو بند نہیں کرسکتے، فرانسیسی سفیر پاکستان میں نہیں ہے۔کالعدم تنظیم یہ بات سمجھنے کی کوشش کرے کہ ایسا نہ ہو کہ ان پر عالمی پابندی لگ جائے اور وہ دہشت گردوں کی عالمی تنظیم میں آجائیں پھر ان کے لوگوں کے کیسز ہمارے بس میں نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ کالعدم ٹی ایل پی کی فائرنگ سے 3پولیس اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہوچکے ہیں،پنجاب حکومت کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ جہاں چاہیں رینجرز کو استعمال کریں،پنجاب حکومت کو اینٹی ٹیررس ایکٹ سیکشن 5997 کے بھی اختیارات دے رہا ہوں۔مظاہرین سے کہتا ہوں کہ واپس چلے جائیں، یہ محض مذہب کے جھنڈے تلے آرہے ہیں، بنیادی طور پر انہوں نے جلوس عید میلاد النبی ﷺ نکالا تھا اور اس کو دھرنے میں تبدیل کردیا، اس کے باوجود بھی میں سیاسی ورکر ہوں اور چاہتا ہوں ملک میں امن ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر بہت زیادہ دباؤ ہے، غیر ملکی طاقتیں ہم پر پابندیاں عاید کرنا چاہتی ہیں، غیر ملکی طاقتیں ہماری جوہری اور معیشت پر نظریں جمائے بیٹھی ہے، یہ ٹی ایل پی کی چھٹی قسط ہے اور مجبوری کی حالت میں کہہ رہا ہوں کہ یہ اب عسکریت پسند ہوچکے ہیں،ان کا ہم سے وعدہ تھاکہ ہم راستے کھول دیں گے لیکن انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن ملک کی سنجیدگی کو سمجھنے کی کوشش کریں،جو لوگ ان کو آگے کرکے یہ سمجھ رہے ہیں حکومت کی رٹ چیلنج ہوجائے گی اور حکومت کہیں جارہی ہے تو حکومت کہیں نہیں جارہی ہے۔مزید برآں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے مطابق کالعدم تحریک لبیک کے کارکنوں کی فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید جبکہ 253 زخمی ہوگئے ہیں۔دوسری جانب تحریک لبیک کے لانگ مارچ کے شرکا کی اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے باعث جڑواں شہر راولپنڈی کو ایک بار پھر مکمل سیل کر دیا گیا۔اسلام آباد ایکسپریس وے کو عارضی طور پر کھلا رکھنے کے ساتھ راولپنڈی کے تمام داخلی و خارجی راستوں کے علاوہ مری روڈ اور اہم شاہراہوں سمیت اندرون شہر کو مکمل سیل کر دیا گیا۔