پولیس حملہ آوروں کے بجائے عوام کا تحفظ کرے ،حافظ نعیم الرحمن

194
کراچی: رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید پر حملے کیخلاف امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا جارہاہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لیاری کے عوام کے لیے پانی کی بحالی کی کوششوں پر جماعت اسلامی کے ایم پی اے سید عبد الرشید‘ ان کے ساتھیوں اور لیاری کی مائوں، بہنوں پر شر پسندوں اور غنڈوں کا حملہ انتہائی افسوسناک ، شرمناک اور قابل مذمت ہے ، پولیس کی ذمہ داری ہے کہ حملہ کرنے والوں کو تحفظ دینے کے بجائے لیاری کے عوام کا تحفظ یقینی بنائے۔فوری طور پر غوثیہ کالونی کے لیے پانی کی بحالی کے اقدامات کیے جائیں ، سید عبد الرشید پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے، سید عبد الرشید نے لیاری سمیت پورے کراچی کے عوام کے لیے اسمبلی میں مقدمہ لڑا ہے۔پیپلز پارٹی گزشتہ 25 سال سے سندھ میں حکومت کررہی ہے اور طرز سیاست وہی آمرانہ اور غنڈہ گردی کا رہا ہے، پیپلز پارٹی کے غنڈے اور شر پسند عناصر تشدد کے ذریعے ہمارا راستہ نہیں روک سکتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کراچی پریس کلب پر گزشتہ روز جماعت اسلامی کے ایم پی اے سید عبدالرشید پر لیاری میں پیپلز پارٹی کے غنڈوں کے حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔حملے میں خاتون سمیت کئی افراد زخمی ہوئے ۔مظاہرے سے سید عبد الرشید، ضلع جنوبی کے نائب امراء فتح محمد، سفیان دلاور ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے ۔مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ ایم پی اے سید عبد الرشید پر حملہ کرنے والے غنڈہ عناصر کو گرفتار کرو،عبد الرشید تیرے چاہنے والے لیاری والے لیاری والے، پانی پر انسان کا بنیادی حق ہے، پانی پر سیاست بند کرو، نہیں چلے گی نہیں چلے گی غنڈہ گردی نہیں چلے گی، سندھ حکومت لیاری کے 40 چوروں کو لگام دے، سندھ حکومت شرم کرو پانی اور گٹر کی سیاست ختم کرو۔ مظاہرے میں حملے میں زخمی ہونے والوں سمیت لیاری کی خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ماضی میں کسی بھی پارٹی کے نمائندے نے سید عبد الرشید کی طرح کراچی کے لیے اسمبلی میں اور میدان ِ عمل میں اتنی جدوجہد نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ نعمت اللہ خان نے لیاری کے عوام کے لیے پینے کا صاف پانی فراہم کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے پانی کوبھی سیاست کی نظر کردیا۔پیپلز پارٹی لیاری کو پیرس بنانے کا دعوی کرتی ہے لیکن عملاً صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ 40 سال سے لیاری پیچھے کی طرف جارہا ہے۔ لیاری کے صرف ایک آر او پلانٹ پر کروڑوں روپے کی کرپشن کی گئی۔آج لیاری میں آر او پلانٹ کا نام و نشان تک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نسلہ ٹاور کے مکینوں پر ظلم کیا جارہا ہے،لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے ، ارباب ِ اختیار کو بھی یہ بات سمجھنا چاہیئے کہ آخر کب تک کراچی کے لوگوں کا استحصال کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ لیاری سمیت کراچی میں جگہ جگہ منشیات کے اڈے چل رہے ہیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری آئی جی سندھ اور وزیر اعلی سندھ پر عائد ہوتی ہے۔تھانوں کی ملی بھگت کے بغیر یہ نہیں چل سکتے ، جماعت اسلامی لیاری سمیت پورے کراچی کے عوام کے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے،پیپلز پارٹی جان لے کہ لیاری کے عوام جماعت اسلامی کے ساتھ ہیںاور پیپلز ہارٹی کو مسترد کرتے ہیں ۔ سید عبد الرشید نے کہا کہ لیاری کے عوام کی نمائندگی کرنے پر پیپلز پارٹی کے غنڈ وں نے مجھ پر حملہ کیا، پتھراو کرکے زخمی کیا۔ پولیس ، رینجرز اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی اور پیپلز پارٹی کے غنڈوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ اگر پیپلز پارٹی کے غنڈوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی زخمیوں کو انصاف نہیں دیا گیا تو لیاری عوام پولیس تھانے کا گھیراو کریں گے۔ لیاری کے عوام کی شرافت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ لیاری کے عوام غنڈوں سے خوف زدہ ہو کر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی جی سندھ سے کہتے ہیں کہ لیاری کے عوام کا تحفظ کیا جائے اگر ہمارے کسی کارکن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو پھر حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ پانی پر سیاست بند کی جائے، اے پی ڈی کی اسکیموں پر جھنڈے لگانے کا نوٹس لیا جائے۔ آج لیاری کے بسنے والے پریس کلب پر لیاری میں غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہے۔ پیپلز پارٹی نے گینگسٹر کی سرپرستی کرتے ہوئے لیاری کے لوگوں کا قتل کروایا اور لیاری کے عوام پر گینگسٹر کو مسلط کیا۔ لیاری کے باسیوں کوان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔ لیاری میں شر پسند عناصر پیپلز پارٹی کی سرپرستی میں غنڈہ گردی کرتے رہے۔ پیپلز پارٹی نے ان لوگوں کے ذریعے لیاری میں بھتہ خوری کا بازار گرم کررکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی ایک نشست لینے پر بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں نے ایک بار بھی لیاری کے مسائل کا ذکر تک نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی نے لیاری کے عوام کا استحصال کیا ۔لیاری کے مسائل حل کرانے پر پیپلز پارٹی کو تکلیف ہونے لگی۔ لیاری کے عوام پر دھونس دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگاوگے تو پانی ملے گا۔ منشیات کے کاروبار نہیں چلاوگے تو لیاری میں رہنے کا حق نہیں دیا جائیگا۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد سے غوثیہ مسجد اور اس علاقے کو پانی ملنا شروع ہوگیا۔ 10 دن بعد لیاری دشمن حکومت نے غوثیہ چوک کے رہائشیوں کے لیے پانی بند کردیا۔ رابطہ کرنے پر کہا گیا کہ 10 دن میں مسئلہ حل ہوجائے گالیکن 6 ماہ گزرنے پر بھی پانی نہیں دیا گیا۔ غنڈہ گردی کی سیاست لیاری کے عوام کسی صورت کرنے نہیں دی جائے گی۔