میرپورخاص، اینٹی کرپشن کے مختلف سرکاری دفاتر پر چھاپے

76

میرپورخاص(نمائندہ جسارت) اینٹی کرپشن میرپورخاص کے سرکل آفیسر کے مختلف سرکاری دفاتر پر چھاپے، سرکاری دفاتر سے ریکارڈ بھی اپنی تحویل میں لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سرکل آفیسر نے معاملات طے کرنے کیلیے چھاپا مار مہم شروع کر رکھی ہے، ماضی میں جن سرکاری محکموں کے دفاتر میں چھاپے مار کر ریکارڈ تحویل میں لیا گیا تھا ان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں ہو سکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص اینٹی کرپشن کے سرکل آفیسر منظور میمن نے ان دنوں مختلف سرکاری دفاتر میں چھاپا مار مہم شروع کر رکھی ہے تین روز قبل پبلک ہیلتھ انجیئنرنگ ڈیپارٹمنٹ کے دفتر پر چھاپا مار کر ریکارڈ تحویل میں لے لیا تھا اور دو روز قبل میونسپل کمیٹی میرپورخاص کی لینڈ برانچ میں چھاپا مار کر ریکارڈ تحویل میں لیا تھا جبکہ گزشتہ روز سرکل آفیسر نے سندھ ہاٹیکلچرز اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے دفتر میں چھاپا مار کر ریکارڈ تحویل میں لے لیا۔ واضح رہے کہ ماضی میں اینٹی کرپشن کی جانب سے مختلف سرکاری دفاتر میں چھاپے مار کر جو ریکارڈ تحویل میں لیا تھا ان میں نہ تو کوئی مقدمہ درج ہوا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آ سکی ہے۔ اس حوالے سے جب سرکل آفیسر اینٹی کرپشن منظور میمن سے ماضی میں چھاپوں کے دوران کارروائی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان پر تفتیش جاری ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ چھاپے کسی کی شکایت پر نہیں بلکہ خفیہ اطلاع پر مارے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکل آفیسر منظور میمن سے مختلف سرکاری دفاتر میں مارے جانے والی چھاپا مار مہم دراصل افسران سے معاملات طے کرنا ہے چھاپے کے دوران افسران اور ملازمین میں حراسمنٹ ہوتی ہے اور خبروں کے ذریعے اینٹی کرپشن کے بالا افسران کے سامنے ان کی کارکردگی بھی آ جاتی ہے اور بعدازاں سرکل آفیسر مذکورہ محکموں کے افسران کو اپنے دفتر میں طلب کر کے معاملات طے کر لیتے ہیں ۔شہری حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور اینٹی کرپشن کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی چھاپا مار کارروائیوں کا سلسلہ بند کروا کر کرپشن کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کر کے مؤثر کارروائی کی جائے۔