انسانی حقوق کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے،عبدالسمیع

110

شکارپور(نمائندہ جسارت) بزرگ شہریوں کے حقوق ایکٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایس آر ایس او (سرسو) کی جانب سے بزرگ شہریوں کی بہبود والے ایکٹ 2014 کے حوالے سے شکارپور کے ایک مقامی ہوٹل میں ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا،سیمینار میں صحافی برادری کو انسانی حقوق اوربزرگ شہریوں کے حقوق کے حوالے سے کردار ادا کرنے کے لیے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر عبدالسمیع انڑ ،میڈم ساجدہ میرانی اور دیگر نے کہا کہ انسانی حقوق کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے، معاشرے میں عمر رسیدہ بزرگ افراد مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ، جن کو صحت،تفریح اور معاشی حقوق سمیت کوئی حقوق حاصل نہیں ، جس کی وجہ سے بزرگ شہریوں کے بہبود والا ایکٹ 2014 سندھ اسمبلی سے2016 ء میں پاس کیا گیا،لیکن اس ایکٹ کو ابھی تک عمل میں نہیں لایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ عمر رسیدہ افراد کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،اس وجہ سے ضروری ہے کہ اولڈ ایج سٹیزن ایکٹ 2014 کو عمل میں لایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سینئر سٹیزن ایکٹ 2014 ایک مکمل قانونی دستاویز ہے، جس کے تحت بزرگ شہریوں کی بہتری اور مدد کے لیے فنڈز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگہداشت، علاج معالج،مالی ضروریات،روزگار،تربیت،اولڈ ایج ہوم اور بیت المال و زکوٰۃ میں کچھ حصہ مقرر کیا جائے اور بزرگ شہریوں کے لیے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور ادویات خریدنے پر رعایت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ بزرگ عورتیں اور مرد معاشرے میں بہت مایوس کن تکالیف سے گزر رہے ہیں اس لیے ان کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ایکٹ کے تحت ان کو آزادی کارڈ کے ساتھ بینیوویلینٹ فنڈز بھی قائم کر کے مدد کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ سینئر سٹیزن ایکٹ 2014ء سندھ کی بزرگ عورتوں اور بزرگ افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اس لیے سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ایکٹ کو عمل میں لائے تاکہ مایوسی اور مشکلات میں مبتلا بزرگ افراد اچھی زندگی گزار سکیں۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی حاصلات کے لیے میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، اس پروگرام کا مقصد ہے کہ صحافی انسانی حقوق اور بزرگ شہریوں کے حقوق کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اس موقع پر شکارپور پریس کلب کے صدر سوڈھو جیمس، جنرل سیکرٹری رحیم بخش جمالی سمیت دیگر صحافیوں کی بڑی تعداد ورکشاپ میں موجود تھی۔