جماعت اسلامی نے انتخابی اصلاحات کا ڈرافٹ چیف الیکشن کمشنر کو پیش کردیا

135

لاہور(نمائندہ جسارت) نائب امرا جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم اور ڈاکٹر فرید پراچہ پر مشتمل وفد نے اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا سے ملاقات کی اور انھیں جماعت اسلامی کی طرف سے تیار کی گئی الیکشن اصلاحات کا ڈرافٹ پیش کیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی شفاف انتخابات چاہتی ہے۔ ہم نے الیکشن میں اصلاحات کے لیے ایک جامع پیکج تیار کیا ہے جو چیف الیکشن کمشنر کو پیش کر دیا۔ اس سے قبل انتخابی اصلاحات کا ڈرافٹ تمام سیاسی جماعتوں سے بھی شیئر کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی سب سے اہم ضرورت شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔ الیکشن میں دھونس، دھاندلی،زور اور زر کو ختم کیے بغیر ملک آگے نہیں جا سکتا۔ ملک میں ہر الیکشن میں دھاندلی ہوتی ہے۔ دولت کی ریل پیل کے بغیر کوئی امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم نے الیکشن کمیشن ہی نہیں دیگر آئینی اداروں سے بھی تصادم کی راہ ہموار کی ہے۔ حکمرانوں کے اقدامات سے ادارے کمزور ہوئے۔ وزیراعظم کی الیکشن کمیشن پر چڑھائی قابل مذمت ہے۔ موجودہ حکومت نے نیب کو نشانہ بنایا، صوبوں کے حقوق کو پامال کیا۔ پی ٹی آئی انتخابی اصلاحات کے معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی قائل نہیں، پارلیمنٹ کو بھی نظرانداز کیا گیا۔ ایوان صدر آرڈیننس فیکٹری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ تمام قانون سازی پارلیمنٹ کے بجائے صدارتی آرڈیننسز سے ہو رہی ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے تابع کیے بغیر ترقی کی منزل حاصل نہیں کی جاسکتی۔ موجودہ حکومت ماضی کی حکومتوں کا تسلسل ہے۔ حکومت ہر میدان میں ناکام ہو چکی ہے۔ اس حکومت نے کشمیر کا سودا کیا۔ پاکستان کی کمزور معیشت کو تباہی کے دھانے پر پہنچایا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے بیڈ گورننس کی تاریخ رقم کی۔ وزیراعظم تمام تر دعوئوں کے باوجود کرپشن کا خاتمہ نہیں کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ہم عوام کا مقدمہ ہر فورم پر لڑیں گے۔