کوئی عدالت یا جرگہ شرعی وراثتی قانون کو تبدیل نہیں کرسکتا،جسٹس فائز کا اہم فیصلہ

86

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جائداد کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کوئی عدالت یا جرگہ شرعی وراثتی جائداد کی تقسیم کے قانون کو تبدیل نہیں کر سکتا،جرگے کا فیصلہ دین الٰہی سے بڑا نہیں ہو سکتا، جرگے کے فیصلے کے ذریعے دین الٰہی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جائداد کی تقسیم کا شرعی اصول ساڑھے 14 سو سال پہلے طے ہو چکا ہے۔ منگل کے روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ جائداد کی تقسیم سے متعلق دستاویزات پر 7 سالہ بچے کے انگوٹھے کا نشان لگایا گیا، 7 سالہ بچے کو تو قتل کیس میں پھانسی بھی نہیں ہوسکتی،ایسی دستاویزات کے ذریعے قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں، پاکستان میں سچ بولنے کے حالات سب کو علم ہے۔ اس موقع وکیل درخواست گزار مؤقف اپنایا کہ عدالت علاقائی زمینی حقائق کو بھی سامنے رکھے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس علاقے کی زمینی حقیقت کی آپ بات کر رہے ہیں وہاں تو عورت کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا، زمینی حقائق دیکھتے دیکھتے فوجی آمروں نے ملک میں مارشل لا لگائے ، زمینی حقائق دیکھتے دیکھتے فوجی آمروں نے ججوں سے جبری دستخط بھی کرا لیے،پھر کہا جاتا ہے ہم زمینی حقائق دیکھیں۔ سعودی عرب میں جائداد کی تقسیم کا فیصلہ ایک دن میں ہوتا ہے،پاکستان میں جائداد کی تقسیم کا فیصلہ ہوتے ہوتے 40سال لگ جاتے ہیں،بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے جائداد کی تقسیم سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سوات کے حبیب اللہ مرحوم کی جائداد کو تمام قانونی ورثاء کے مابین شرعی اصول کے تحت تقسیم کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔