سوڈان میں فوج کے خلاف احتجاج ، 7 افراد ہلاک

137
خرطوم : سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح برہان ٹی وی پر ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کررہے ہیں‘ فوجی بغاوت کے بعد سے دارالحکومت خرطوم سمیت کئی شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے‘ مشتعل مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کردی ہیں

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں فوج کی جانب سے عبوری کونسل تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد احتجاجی مظاہروں میں 7 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہو گئے ۔ فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح برہان نے سرکاری ٹی وی پر اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے افراتفری و بحران کے خاتمے کے لیے ہنگامی حالات کا اعلان کیا۔ دوسری جانب امریکانے سوڈان میں سیاسی بحران کے باعث 70کروڑ ڈالر امداد کو التوا میں ڈال دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے فوجی اقدام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عوامی انتظامیہ کی زیر قیادت عبوری حکومت کی بحالی کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم معاملے پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان میں فوجی بغاوت کی اطلاعات پر تشویش ہے اور امریکا اس مذمت کرتا ہے۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ معزول وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے متعلق کسی قسم کی اطلاع نہیں کہ انہیں کہاں اور کس حال میں رکھا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق افریقی یونین کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بھی حراست میں لیے گئے تمام افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی بند کمرہ اجلاس طلب کیا ہے،جس میں سوڈان کی صورت حال پر بحث کی جائے گی۔ اجلاس میں برطانیہ، آئرلینڈ، ناروے، امریکا، اسٹونیا اور فرانس کے علاوہ دیگر ممالک کے نمایندے شریک ہوں گے۔ مقامی خبررساں اداروں کے مطابق فوجی بغاوت کے بعد سے دارالحکومت خرطوم اور دیگر شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ڈاکٹروں اور سرکاری اہلکاروں نے عام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ نیشنل سوڈان ڈاکٹرز سینٹرل کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر ملک بھر کے تمام اسپتالوں میں کام روک دیں گے اور اب مریضوں کو صرف ایمرجنسی میں ہی دیکھا جائے گا۔ سرکاری اہلکاروں کی جانب سے بھی عام ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق سوڈان میں کئی تنظیموں کے رہنماؤں اور حکومتی عہدے داروں کو بھی حراست میں لینے کی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت خرطوم میں انٹر نیٹ سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔ مقامی صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے مطابق سوڈان کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ سوڈان میں تجارتی یونین کی جانب سے پیر کے روز عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ گھروں سے باہر نکلیں اور فوجی بغاوت کو ناکام بنائیں۔ واضح رہے کہ سوڈان طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے سابق صدر عمر بشیر کا 2019 ء میں تختہ اْلٹنے کے بعد سے ہی سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔