نائیجیریا : مسجد پر فائرنگ سے 18نمازی شہید

128

ابوجا (انٹرنیشنل ڈیسک) نائیجیریا کے شمالی علاقے میں مسجد فجر کی نماز کے دوران مسلح افراد نے حملہ کر کے 18 نمازیوں کو شہید کردیا۔خبر رساں اداروں کے مطابق حملہ نائیجر کے علاقے ماشیگو کے گاؤں مزکوکا میں ہوا ۔حملہ آور وں کا تعلق مبینہ طور پر خانہ بدوش فولانی قبیلے سے بتایا جارہا ہے۔ نامعلوم افراد فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دوران نماز مسجد میں قتل عام چرواہوں اور کاشت کاروں کے درمیان دشمنی کا بدترین واقعہ ہے۔ واضح رہے کہ اسی طرح کے نسلی تشددکی وجہ سے رواں سال اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پانی اور زمین تک رسائی پر کئی دہائیوں سے جاری تنازع کا نتیجہ ہے۔اس تنازع میں فولانی خاندان کے چند افراد نے ہاؤسا کاشتکاری برادریوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ ماشیگو کے بلدیاتی نگرانی حسان عیسیٰ کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے مسجد کو گھیر کر اس پر فائرنگ شروع کی۔ واقعے میں 4افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ نائیجر یا کے پولیس کمشنر مونڈے کوریاس نے کہا کہ حملہ گاؤں والوں اور فولانی چرواہوں کے درمیان تنازع سے متعلق تھا ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق زیادہ تر واقعہ ایسے علاقوں میں پیش آتے ہیں، جہاں سیکورٹی اہل کاروں کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں مازاکوکا جو ریاستی دارالحکومت سے تقریباً 270 کلومیٹر دور ہے۔ حملہ آور بندوق برداروں کی تعداد اکثر سیکورٹی اہل کاروں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی عدم موجودگی اور ناقص اسلحہ سے لیس اہلکاروں کی وجہ سے اکثر ایسے حملے گھنٹوں تک جاری رہتے ہیں۔ اس سے قبل شمال مغربی ریاست سوکوٹو میں حملہ آوروں نے ایک دیہی علاقے پر حملہ کیا اور 12 گھنٹے تک جاری کارروائی کے دوران 40 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔