امریکا اور یورپ نے ترکی سے معافی مانگ لی

420

انقرہ (انٹر نیشنل ڈیسک) امریکا، فرانس، جرمنی، کینیڈا سمیت 10 یورپی ممالک نے تُرک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے سفیروں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی کے بعد معافی مانگ لی۔ ترکی میں امریکی سفارتخانہ نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 41 کی پاسداری کرتا ہے۔ امریکا نے کہا کہ ترکی کے قوانین کا احترام کرتے ہیں اور سفارتی تعلقات پر ویانا کنونشن کے آرٹیکل 41 کی تعمیل کو برقرار رکھتے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق کینیڈا ، نیدر لینڈز اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک نے بھی اسی طرح کا پیغام بھیجا ہے جب کہ ناروے اور فن لینڈ نے امریکی سفارت خانے کے پیغام کو دوبارہ ٹوئٹ کیا۔ ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے سفارت خانوں کے بیانات کا خیر مقدم کیا اور ملک بدری کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 41 کے تحت کوئی ایسا شخص ، جسے کسی ملک میں سفارتی استثنااور مراعات حاصل ہوں وہ اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔امریکاسمیت 10یورپی ممالک کے سفیروں کی جانب سے سماجی کارکن عثمان کوالہ کی فوری رہائی کے مطالبے کے بعد ترک صدر نے ان سفیروں کوناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ ترکی میں یورپی سفیروں کے تازہ بیان کو بڑی فتح سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ سماجی کارکن عثمان کوالہ 2017 ء سے ترکی کی جیل میں ہیں۔ پہلے انہیں 2013 ء میں حکومت مخالف احتجاج کو منظم کرنے کے الزام میں جیل میں بند کیا گیا تھا۔ عثمان کوالہ کو گزشتہ برس 2013 ء میں ملک گیر احتجاج کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا ،تاہم 2016 ء کی فوجی بغاوت کے الزامات کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ یورپی کورٹ آف ہیومین رائٹس نے 2019 ء میں اپنے ایک فیصلے میں عثمان کوالہ کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ گزشتہ ہفتے امریکا، کینیڈا، فرانس، فن لینڈ، ڈنمارک، جرمنی، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے اور سوئیڈن نے سماجی کارکن کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ان میں سے 7ممالک ترکی کے نیٹو اتحادی ہیں۔ یورپ میں انسانی حقوق کے مرکزی ادارے کونسل آف یورپ نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ وہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے عثمان کوالہ کی رہائی کے حکم کی تکمیل کرے۔