دنیا بدل رہی ہے

232

جب روس افغانستان سے شکست خوردہ ہو کر نکلا تو اس کے نتیجے میں پانچ مسلم ریاستیں آزاد ہوئیں اور دنیا سرد جنگ سے نکل کر یونی پولر میں داخل ہوگئی یعنی پچھلے تقریباً 50سال امریکا اور روس کے درمیان جو سرد جنگ چل رہی تھی وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی اور دنیا امریکا کے نیو ورلڈ آرڈر کے زیر اثر آگئی۔ ویسے تو روس کی وہ حیثیت جو افغان جنگ سے پہلے تھی وہ تو ختم ہو گئی لیکن ایک طاقتور ملک کی پوزیشن تو اب بھی برقرارہے۔ روس تو افغانستان میں دس برس رہا اسی مدت میں اس کی عسکری قوت جواب دے گئی لیکن امریکا بیس سال افغانستان میں رہا وہ بھی تھک چکا تھا پہلے جب امریکا سے کہا جاتا کہ افغان مجاہدین سے مذاکرات کرلیں تو امریکی لیڈر جواب دیتے تھے کہ دہشت گردوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے پھر ایک وقت آیا کہ یہی امریکا پاکستان کے منت ترلے کرنے لگا کہ افغان مجاہدین کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے چناںچہ پاکستان کی کوششوں سے دوحا میں مذاکرات کا آغاز ہوا اور ایک سال کی گفت وشنید کے بعد یہ مذاکرات کامیاب ہوئے اور امریکا نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لیں۔
روس نے دس سال میں افغانستان کا انفرا اسٹرکچر تباہ کرکے رکھ دیا تھا اور جب جنیوا مذاکرات کے تحت افغانستان چھوڑا تو بڑی اور معروف جہادی تنظیموں کو اقتدار دینے کے بجائے چھوٹی چھوٹی جہادی تنظیموں کو افغانستان کا اقتدار منتقل کیا جس کے نتیجے میں پورا افغانستان شدید خانہ جنگی کا شکار ہو گیا یہی خانہ جنگی جب طول پکڑ گئی تو ردعمل میں مدرسوں کے طلبہ کی اجتماعیت طالبان کی شکل میں سامنے آئی۔ امریکا جو بیس سال افغانستان میں رہا تو اس نے وہاں انفرا اسٹرکچر کی تشکیل نو کی۔ اربوں ڈالر خرچ کرکے افغانستان کی فوج تیار کی، ان کی جدید انداز میں تربیت کی لیکن ان میں گھوسٹ فوجی زیادہ تھے کاغذات میں تعداد کچھ تھی اور عملاً فیلڈ میں فوجیوں کی تعداد کچھ اور تھی یہ فوج اور ان کے کمانڈر اشرف غنی طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے امریکی صدر بائیڈن کا خیال تھا کہ ان کی بنائی ہوئی فوج کچھ دن تو طالبان کا مقابلہ کرے گی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ 15اگست کو بہت آرام سے طالبان نے کابل پر قبصہ کرلیا اشرف غنی جتنی دولت لوٹ سکتے تھے اتنی لے کر فرار ہو گئے۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکا افغانستان سے نکلنے کے بعد اتنا ہی کمزور ہو گیا جتنا کے روس ہوا تھا کہ اس کے کئی ٹکڑے ہو گئے اور معاشی طور پر کچھ عرصے کے لیے مفلوج ہوگیا ایسا نہیں ہے امریکا اب بھی مضبوط ہے لیکن امریکا کا زوال شروع ہو چکا ہے امریکا چار حوالوں سے پوری دنیا پر فوقیت رکھتا ہے پہلی تو اس کی فوجی قوت سب سے زیادہ ہے دوسری اس کی معاشی طاقت تیسرا اس کی جدید اسلحے کی طاقت تعداد کے اعتبار سے بھی اور جدت کے اعتبار سے بھی چوتھے اس کی کرنسی یعنی ڈالر کی طاقت پچھلے کم و بیش پچاس برسوں میں کئی ممالک میں امریکا نے اپنی فوجیں اتاریں اور وہاں زیادہ تر جنگیں بھی لڑیں صرف ویت نام کے تیس سال اور افغانستان کے بیس سال جمع کردیے جائیں تو ان ہی دو ملکوں میں امریکا نے پچاس سال اپنے فوجیوں کو جنگ میں جھونکے رکھا، کتنی ہی بڑی اور مضبوط فوج ہو پچاس سال تک جنگ لڑنے کے بعد بہت حد تک کمزور ہو جاتی ہے اس لیے اس وقت امریکی فوجی اضمحلال کا شکار ہے دوسری امریکا کی معاشی طاقت پہلے ہی سے کمزوری کا شکار تھی افغانستان کی جنگ میں اس کو کئی ہزار کھرب ڈالر کانقصان ہوا ہے لہٰذا اس وقت امریکا کی جہاں فوجی قوت کمزور ہوئی ہے وہیں اس کی معاشی طاقت بھی کمزوری کا شکار ہو چکی ہے۔
تیسری قوت امریکی جدید اسلحہ اور سائنسی ایجادات جس میں امریکا سب سے آگے تھا لیکن ابھی دو دن قبل چین نے سپر سانک ایٹمی میزائل کا تجربہ کرکے پورے امریکا میں سراسیمگی پھیلا دی، خبر کی تفصیل یہ ہے کہ چین نے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز میزائل کا چند مہینے قبل تجربہ کیا ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ یہ خلائی جہاز کا معمول کا تجربہ تھا جبکہ امریکا نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے بین الاقوامی جریدے فنانشیل ٹائمز کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی جہاں امریکا کے خفیہ اداروںکو اس بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور وہ یہ جان کر حیران رہ گئے تھے ہائپر سانک میزائل عام میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی تیز رفتار اور سبک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا توڑ کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس خبر سے چین کی جوہری صلاحیت کے بارے میں پہلے سے پائی جانے والی تشویش میں مزید زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اس میزائل کو ٹریس کرنا مشکل ہے ایک پروگرام میں معروف صحافی ہارون رشید بتا رہے تھے ایسے میزائل پاکستان کے پاس بھی ہیں۔ بیلسٹک اور کروز میزائل کو تو ٹریس کیا جاسکتا ہے لیکن اس کو نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح چین نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں بھی مہارت حاصل کر لی ہے جس پر امریکا میں پہلے ہی کام ہو چکا ہے یعنی مشینیں جنگ لڑیں گی اور یہ ایک دوسرے کو میسج بھی دے سکیں گے۔ چین کی جس سرکاری کمپنی نے اسے بنایا ہے اس نے کہا ہے کہ وہ اسے اوپن مارکیٹ میں فروخت بھی کرسکتی ہے، وہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو دے سکتی ہے اور پاکستان کو بھی دے سکتی ہے۔ اسی پروگرام میں ہارون رشید بتا رہے تھے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے حوالے سے پاکستانی سائنس دانوں نے بھی تربیت حاصل کی ہے اور کررہے ہیں پاکستان میں اس کا مرکز بھی قائم ہو چکا ہے۔ لداخ کے مسئلے پر بھارت اسی لیے پریشان ہے کہ چین کی جدید ٹکنالوجی کا مقابلہ کیسے کرسکے گا۔ ہمارا موضوع ہے کہ دنیا بدل رہی ہے امریکا کی معیشت اب بھی دنیا کے تمام ملکوں میں سب سے بڑی ہے لیکن پچھلے تین عشروں سے چین جس طرح اپنی معاشی قوت میں اضافہ کررہا ہے امکان ہے کہ وہ بہت جلد امریکا سے آگے نکل جائے گا بلکہ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ چین آگے جاچکا ہے فوجی قوت چین کی اب بھی محفوظ ہے لیکن اب تو مشینیں جنگیں لڑیں گی اسی طرح سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی چین امریکا کے مقابلے پر ہے۔ اب ایک کرنسی کا مسئلہ ہے جس میں امریکا اب بھی ڈرائیونگ سیٹ پر ہے لیکن جب قوموں پر زوال آتا ہے تو قدرتی طور پر کچھ بھی ہو سکتا ہے بہر حال روس کے بعد امریکا بھی زوال پزیر ہو رہا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ دو چار سال میں یہ معرکہ ہو جائے گا اس میں دو چار عشرے بھی لگ سکتے ہیں۔
قوموں کے عروج و زوال کی داستان صدیوں پر محیط ہوتی ہیں۔ نبی اکرمؐ کے زمانے میں روم اور ایران دو بڑی طاقتیں تھیں جس طرح آج کے زمانے میں امریکا اور روس تھے روم اور ایران کی سلطنتیں صدیوں قائم رہیں یہ آپس میں جنگیں بھی لڑتے رہے کسی کو فتح اور کسی کو شکست بھی ہوتی رہی ان کی حدود بھی کم زیادہ ہوتی رہیں لیکن یہ دونوں سلطنتیں قائم دائم رہیں لیکن پھر جب ان کا مقابلہ اسلام سے ہوا تو پھر یہ دونوں سلطنتیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں اور پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرایا۔ انیسویں صدی عیسوی میں اس صدی کی بڑی قوت برطانیہ اسلام (افغانستان) سے ٹکرایا تو پاش پاش ہو گیا بیسویں صدی میں بڑی قوت روس اسی طرح ٹکرائی وہ بھی ختم ہو گئی اکیسویں صدی میں امریکا اسلام سے ٹکرایا تو وہ بھی زوال کی طرف گامزن ہے اب یہ یا اگلی صدی اسلام کی ہوگی ان شاء اللہ