۔ 27 اکتوبر یوم سیاہ

205

۔27اکتوبر 1947ء کا دن مسلمانانِ کشمیر کے لیے ایک منحوس ساعت ثابت ہوا جب بھارت نے تقسیم ہند کے مسلمہ اصولوں کو اپنی فرعونیت اور انا کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے غالب مسلم اکثریت کی حامل ریاست جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جمالیا۔ نامہربان رُتوں کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور آزادی کشمیر کی لیے دی گئی قربانیوں کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت یہ بنیادی کلیہ طے ہوا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے جبکہ غیر مسلم اکثریتی علاقے ہندوستان کا مقدر ٹھیریں گے۔ اس اصول کے تناظر میں دیکھا جائے تو ریاست جموں وکشمیر کو بہرطور پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا کیونکہ مسلم اکثریتی آبادی کے علاوہ جغرافیائی اعتبار سے بھی کشمیرکا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ اعداد وشمار کے مطابق ریاست کی 87 فی صد آبادی مسلمان ہے اور پاکستان کے ساتھ تقریباً سات سو میل کی سرحد ملتی ہے جبکہ ہندوستان کے ساتھ کشمیر کی محض دوسو کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔ اس میں بھی تھوڑے سے میدانی علاقے کو چھوڑ کر باقی تمام سرحد ناقابل عبور پہاڑوں پر مشتمل ہے دوسری طرف جموں وکشمیر کی تینوں اکائیاں براہِ راست پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ یہی وہ اہم ترین وجوہات تھیں جن کی بنا پرقافلہ حریت کے سپہ سالاروں نے 19 جولائی 1947ء کو سری نگر میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے گھر ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے پاکستان کے ساتھ الحاق کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔
ہم ہر کشمیری کی قربانی اور اس کی جدوجہد کو تسلیم کرتے ہیں تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک میں پروفیسر الیف الدین ترابی کی سیاسی، قانونی، علمی، اور آئینی جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے، ایک وقت آئے گا کہ جب کشمیر کے تعلیمی اداروں کے تعلیمی نصاب میں ان کی جدوجہد شامل کی جائے گی اور نئی نسل کو ان کی قربانیوں سے آگاہ کیا جائے گا، جونہی ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے پاکستان کے ساتھ الحاق کا باضابطہ اعلان کیا گیا تو اسی وقت اس اعلان کے بعد راجا ہری سنگھ نے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا گیا آزادی کا خواب دیکھنے والوں کے جذبات کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنا چاہا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانانِ کشمیر کے جذبہ حریت کو جس قدر دبایا گیا، وہ اتنا ہی ابھر کر سامنے آیا۔ کشمیر کے عوام نے جبرو استبداد کی اس بے رحم آگ میں مزید جھلسنے سے انکار کردیا اور راجا ہری سنگھ کی مشق ستم کے خلاف علم ِ بغاوت بلند کردیا۔ چنانچہ مجاہدین آزادی نے ایک منظم لشکر کے ذریعے ریاست کے ظالم راجا کے خلاف جہاد شروع کر دیا۔ تحریک آزادی کشمیر ہر گزرتے پل کے ساتھ منظم ہوتی گئی اور مجاہدین کشمیر کے ایک بڑے حصے کو راجا کے دست ِ تطاول سے نجات دلانے میں کامیاب ہوگئے۔
24 اکتوبر 1947ء کو مسلمان ِ کشمیر نے جب اپنی آزادی کا علان کیا تو کشمیر کے معزول اور مفرور راجا ہری سنگھ نے ریاست سے بھاگ کر ہندوستان کی آغوش میں پناہ لی۔ وہاں اس نے انتہائی بھونڈے اور ناجائز طریقے سے 27 اکتوبر 1947ء کو ایک خفیہ معاہدے کے تحت کشمیر کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کر دیا جسے ریاست کے عوام نے فوری مسترد کردیا اور آج تک اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں۔ اسی پس منظر میں ہر سال دنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں۔ یوم سیاہ محض ایک روایت یا علامت نہیں ہے بلکہ اہل ِ کشمیر کی جانب سے اقوامِ عالم کے لیے ایک بھر پور پیغام ہے۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود اہل ِ جہان کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے۔ کتنی ہی دفعہ اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جاچکا ہے۔ ہندوستان کی ظالمانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا جاچکا ہے۔ تقریباً تمام عالمی اداروں کو اہل ِ کشمیر اپنی روداد قفس سنا چکے ہیں۔ شاید کبھی کوئی قبولیت کا لمحہ آئے اور اقوامِ عالم کو کشمیریوں کے کرب کا اندازہ ہو!
مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
ہوں در پر ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
طرفہ تماشا یہ کہ آئے روز مودی سرکار کی منافقت، شیطنت اور مکاری کے نئے نئے مظاہر دیکھنے کو مل رہے ہیں یہ تحریک آزادی کشمیر کے اسلاف کی توہین ہے۔ یہ ان شہداء کی قربانیوں اور غازیوں کی جہد مسلسل کا مذاق ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ آزادی کی راہ میں لٹا دیا یہ شہداء کے مقدس لہو کی بے قدری ہے۔ مودی سرکار ہر طرح سے اہل ِ کشمیر کو اذیت دینے کے درپے ہے۔ نہ صرف پیلٹ گنز کے ذریعے لوگوں کو بینائی سے محروم کیا جارہا ہے بلکہ آئے روز الٹے سیدھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ان کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچائی جارہی ہے۔ ہندوستان کے اس اقدام سے نہ صرف اہلِ کشمیر کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی گئی ہے بلکہ یہ اس کی سیاہ کاریوں میں ایک اور سیاہ کرتوت کا اضافہ بھی ہے۔ ہندوستان کے پوشیدہ ارادے طشت از بام ہو چکے ہیں۔ یہاں یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہندوستان کا اگلا ہدف آزاد کشمیر ہے۔ وہ بھر پور ریاستی پروپیگنڈ ے کا استعما ل کرتے ہوئے علاقائی اور عالمی سطح پر رائے عامہ ہموار کر کے یہاں اپنے خونیں پنجے گاڑنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کی قیادت کو اس مسئلے کی حساسیت کا ادراک کرتے ہوئے فوری ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے اقوامِ عالم کو یہ واضح پیغام ملے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ناگزیر ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا اور کل کو مودی سرکار نے کسی نئی مہم جوئی کا ارادہ کر لیا تو نتیجتاً ایسی خوفناک آگ بھڑک سکتی ہے جس سے نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔