!مہنگائی، رُسوائی اور حکومتی ڈھٹائی

296

پہلے زمانے میں جب کبھی لطیفوں کی بات ہوتی تو شیخ چلی اور ملّا نصر الدین کے مزاح سے بھرپور واقعات اور باتیں لبوں پر مسکان بکھیرنے کا باعث ہوتی تھیں۔ مگر جب سے اس ملک میں کپتان اور ان کی ’’باصلاحیت‘‘ ٹیم کی حکمرانی قائم ہوئی ہے، اس قوم کے لیے شیخ چلی اور ملّا نصر الدین جیسے کردار ذہنوں سے اوجھل ہوتے جارہے ہیں۔ پچھلے کئی عرصے سے ہر مرحلے پر ناکام نظر آنے والے کپتان اپنے نامناسب فیصلوں پر پردہ ڈالنے کے چکر میں کئی ایسی باتیں کہہ گئے ہیں جنہیں جہاں کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کرکے افسردہ اور مایوس عوام کو مزاح کے نئے عکس سے محظوظ کیا، وہیں قلم کاروں نے ان لطائف کو تحریر میں لاکر مہنگائی اور معاشی بحران سے متعلق خبریں پڑھ کر غمگین نظر آنے والے قارئین کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیردی ہیں۔ یہ واحد ایسا کارنامہ ہے جس کا اظہار موجودہ حکومت کو سینہ تان کر چوک چوراہوں پرکھڑے ہوکرکرنا چاہیے۔ گویا لطائف کے کرداروں کو یکسر بدل کرنئے موضوعات اور نئی جہتیں عوام کے سامنے لانے کا ہنر اس حکومت کا خاصہ معلوم ہوتا ہے اور یقینا اس امر میں دیگر سیاسی جماعتیں بہت پیچھے نظرآتی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل خان صاحب اپنی حکومت کی ’’کامیاب‘‘ معاشی پالیسیوں کے بارے میں فرمارہے تھے کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں اقتصادی ترقی کو بامِ عروج پر پہنچا دیا ہے۔ خان صاحب جب کبھی دوچار شبد بولنے کے لیے اپنے لبوں کو حرکت دیتے ہیں تو زبان پوری تقریر کرکے ہی خاموش ہوتی ہے۔ دراصل خان صاحب خاموش رہیں یہ ہونہیں سکتا۔ کیوں کہ آپ موٹیویشنل اسپیکر جو ٹھیرے۔ اب گویا ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ:
چپ ہوں تو کلیجہ جلتا ہے
بولوں تو ’’میری‘‘ رسوائی ہے
جب کہ عوام ان تقریروں کو سنتے جارہے ہیں اور دگرگوں حالات سہتے جارہے ہیں اور مَن ہی مَن میں یہ کہتے جارہے ہیں کہ:
میں تو اس واسطے چُپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گِلا کچھ بھی نہیں
اب ذرا اندازہ لگائیں کہ جب ایک غریب مزدور نے آٹا مہنگا ہونے کے بعد صدر عارف علوی کا یہ پُراعتماد جملہ سنا ہوگا کہ ’’ملک میں ہرچیز درست سمت میں جارہی ہے‘‘ تو وہ مزدور اپنا غم بھلا کر صدرصاحب کے لیے یقینا ’’دعائیں‘‘ تو کرتا ہی ہوگا۔
تضاد کا عالم یہ ہے کہ ایک طرف خان صاحب ببانگ ِ دہل اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتے نظرآتے ہیں کہ معیشت کا پہیا چل پڑا ہے، عالمی اقتصادی فورم ہماری معاشی پالیسیوں کے گُن گارہا ہے، اب خوش حالی کا گھوڑا دوڑنے لگا ہے، جب کہ دوسری طرف اس بات کا رونا روتے پائے جاتے ہیں کہ انہیں ملنے والی تنخواہ میں ان کا گزارہ نہیں ہورہا۔ ’’حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگرکو میں!‘‘ دوسری طرف حکمران جماعت سے وابستہ افراد اپنے قائدین کے ان لطیفوں اور چٹکلوں کا دفاع کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ ملک کی موجودہ معیشت کے نیچے گرتے گراف کو دیکھ کر اور ملک میں کسی بھی طرح کے عوام دوست پروجیکٹ کا وجود نہ دیکھ کر بھی گڈگورننس کے نعرے مارنا کوئی آسان بات نہیں ہے، یہ تکلیف سہنے کے لیے آپ کو تحریک ِ انصاف میں شمولیت اختیار کرنا ہوگی۔ موجودہ حکومت کی بیڈ گورننس کو دیکھ کر ایک لطیفہ یاد آگیا۔ ایک شخص اپنے گدھے پر الٹے سوار ہوکر جارہا تھا۔ کسی خیر خواہ نے پوچھا کہ بھائی! تم گدھے پر الٹے کیوں سوارہو؟ یہ سن کر اس نے جواب دیا کہ تاکہ میں پیچھے سے آنے والے خطرات کو دیکھ سکوں اور اپنا دفاع کرسکوں۔ اس خیرخواہ نے حیران ہوکر استفسار کیا کہ پھر سامنے سے آنے والے خطرات کا کیسے پتا چلے گا؟ اس شخص نے بڑی متانت سے جواب دیا کہ سامنے سے آنے والے خطرات گدھا خود دیکھ لے گا۔
کچھ عرصہ پہلے ٹماٹر کی قیمتیں بڑھنے کے نتیجے میں ایک صحافی نے عبدالحفیظ شیخ سے سوال کیا تو وہ اس مہنگائی سے صاف مُکرگئے اور کہنے لگے کہ ٹماٹر سبزی منڈی میں صرف سترہ روپے کلو فروخت ہورہے ہیں۔ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس بے چارے ماہرِ معیشت نے پتا نہیںکب ٹماٹر کی شکل دیکھی ہوگی۔ شاید وہ کچھ اور سمجھے ہوں۔ کسی نے بہت خوب کہا کہ ان وزیروں اور مشیروں کے لطائف ِ عجیبہ سن کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں ہر کوئی سُکھ کی بانسری بجا رہا ہے اور ہر نہر، جھیل اور دریا پر پریاں اتررہی ہیں اور عوام ان کے دیدار سے شاداں وفرحاں ہیں۔
مختصر یہ کہ فی الوقت ملک سنگین معاشی بحران اور اس کے نتیجے میں عوام غربت کی بلند ترین سطح کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ اگر حکومت ِ وقت نے زمینی حقائق کو تسلیم نہ کیا اور اپنے عجیب وغریب فیصلوں کا غیرضروری دفاع کرنے کے بجائے مضبوط حکمت ِ عملی نہ اپنائی اور عوام کو ریلیف نہ دیا تو پھر اس ملک میں ایک ہی صدا گونجے گی:
کھیت وڈیروں سے لے لو
مِلیںلٹیروں سے لے لو
ملک اندھیروں سے لے لو
رہے نہ کوئی عالی جاہ!
پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ