وزیراعظم کو کشمیر یاد آگیا

192

وزیراعظم عمران خان نے تو قوم کا مسئلہ ہی حل کردیا۔ بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کردے تنازعہ ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے پاکستان کی کامیابی کے حوالے سے بھی کہا کہ یہ تاریخی کامیابی ہے۔ اس لیے یہ موقع بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی بات کرنے کا نہیں ہے۔ خان صاحب عجیب آدمی ہیں جب بھارت نے 5 اگست کا اقدام کیا تھا تو عمران خان کا خیال تھا کہ اس سے کشمیر پر بات کرنے کا یہ وقت نہیں۔ کشمیر پر بھارتی قبضے کے وقت بات نہیں ہوسکتی، کرکٹ میں پاکستانی فتح کے وقت بات نہیں ہوسکی، تو پھر کس وقت ہوسکتی ہے۔ اب تک ایک مرتبہ بھی او آئی سی کا اجلاس طلب کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ وزیراعظم نے مزید دلچسپ بات یہ کہی ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے تیار ہے، سعودی عرب کو دفاع کی ضرورت پڑی تو پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ لیکن یہ ساتھ کھڑا ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کو 73 برس ہوگئے اور کم و بیش اتنے ہی برس اسرائیل کو ہوگئے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے رہتے ہیں لیکن کشمیر کا مسئلہ حل ہوا نہ اسرائیل کی توسیع پسندی اور قبضے ختم ہوئے۔ ان سارے حقائق سے قطع نظر یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ وزیراعظم کو آج کشمیر کیوں یاد آیا جب ملک میں مہنگائی کا ریکارڈ روز ٹوٹ رہا ہے۔ ڈالر ایک دن سے زیادہ ایک سطح پر نہیں رہتا۔ ہر 15 روز بعد پٹرول کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ نتیجتاً پورے ملک میں مہنگائی ہورہی ہے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے ملک گیر احتجاج شروع کردیا ہے۔ سیاسی اختلاف کے باوجود تینوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حکومت گھر جائے۔ ایسے حالات میں حکومت کو نیا شوشا چھوڑنا تھا لیکن اس کی جتنی صلاحیت ہے اس نے اتنا ہی نیا شوشا چھوڑا۔ یعنی یہ بہت پرانی حکمت عملی ہے کہ جب قوم حکومت کے خلاف ہوجائے تو بھارت کے ساتھ محاذ گرم کردیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی یہی کوشش کی ہے، لیکن اسے بے وقت کی راگنی کہا جائے یا گھبراہٹ کے عالم میں دی جانے والی دہائی کہا جائے۔ یہ وقت واقعی کشمیر کی بات کرنے کا نہیں۔ وزیراعظم کرکٹ میں بھارت کی شکست کو جواز بنارہے ہیں لیکن پاکستان میں جو حال ہے اس کی روشنی میں پاکستانی حکومت کو صرف مہنگائی ختم کرنے، ملک کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکالنے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ اب تو اعداد و شمار بھی مستقل نہیں روز نئی خبر آجاتی ہے۔ کل تک خبر تھی کہ مہنگائی 14 فیصد بڑھی ہے لیکن تازہ خبر یہ ہے کہ 70 سالہ ریکارڈ تین سال میں توڑ دیا گیا اور مہنگائی جن شعبوں میں ہوئی ہے وہ سب عام آدمی کے استعمال کی اشیا کے شعبے ہیں۔ وزیراعظم کشمیر اور سعودی عرب کے تحفظ کی بات ضرور کریں لیکن کسی مناسب وقت پر اور وہ یہ یقین رکھیں دونوں کے لیے پاکستان کا بچہ بچہ جان دینے کو تیار ہے۔ مسئلہ تو یہی ہے کہ کشمیر کے لیے جدوجہد کرنے والوں پر عرصہ حیات حکومت خود تنگ کرتی ہے، اسرائیل کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو اسرائیل سے کم گولیاں لگتی ہیں اپنے ہی ملک کی افواج، زیادہ لگتی ہیں۔ یہی معاملہ کشمیر کا ہے۔ جن لوگوں ے کشمیر میں بھارتی سے افواج کی زندگی تنگ کردی۔ پاکستانی حکمرانوں نے ان کی زندگی پاکستان میں تنگ کر دی لہٰذا وزیراعظم اس وقت کشمیر کے بجائے پاکستان کی بات کریں۔ ان حکمرانوں کو جب دل چاہتا ہے سب سے پہلے پاکستان یاد آتا ہے اور جب دل چاہتا ہے حرمین کے تحفظ کی قسمیں کھانے لگتے ہیں۔ ملک میں کوئی قانون نہیں، لوگ بری طرح پریشان ہیں، ان مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔