نسلہ ٹاور کا مسئلہ پیچیدہ نہ بنایا جائے

226

اب جبکہ عدالت عظمیٰ نے حکم جاری کردیا ہے کہ حکومت نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو مالک سے رقم دلوائے اور ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور کو بارود سے اڑا دیا جائے۔ یہ پاکستان میں غالباً پہلا واقعہ ہوگا جس میں کسی عمارت کو اس بنیاد پر اڑادیا جائے گا کہ وہ غیر قانونی زمین پر یا تجاوزات پر بنی ہوئی ہے۔ اس معاملے میں بہت سے امور گڈ مڈ ہورہے ہیں لیکن پھر بھی ایسا محسوس ہورہا ہے کہ معاملہ حل کی طرف جارہا ہے۔ زور دار تبصروں کے باوجود ایک کام تو یہ ہونے جارہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے نتیجے میں آئندہ کوئی بھی ادارہ کسی زمین کی حیثیت کو ازخود تبدیل نہیں کرے گا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ متاثرین ہیں ان کو کس حساب سے رقم ادا کی جائے گی۔ متاثرین کے نمائندوں نے تو یہ امید باندھ لی ہے کہ انہیں مارکیٹ ریٹ سے رقم ملے گی۔ اگر ایسا ہوجائے تو یہ بھی ایک نظیر ہوگی۔ اس معاملے کو مزید آسان اور اچھے طریقے سے نمٹانے کے لیے پلاٹ کے مالک کو بھی کچھ ریلیف دیا جانا چاہیے۔ یہ بات یا تو واضح نہیں ہوسکی ہے یا ہے تو اخبارات تک نہیں پہنچی کہ دھماکے سے نسلہ ٹاور کی تباہی کے بعد پلاٹ کا کیا ہوگا۔ اگر مالک کو اس پلاٹ پر اس نام سے دوبارہ عدالت عظمیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے نئی عمارت تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے تو مالک متاثرین کو کسی متبادل عمارت میں سال دو سال کے لیے قیام کروائے اور ان کو نسبتاً چھوٹے فلیٹ فراہم کردے۔ اس طرح تمام متاثرین بھی واپس اس فلیٹ میں آجائیں گے اور بلڈر پر بھی بہت زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا۔ لیکن اس قسم کے حل پیچیدہ صورتحال میں ممکن نہیں لہٰذا حکومت اپنی ذمے داری ادا کرے پلاٹ مالک کے ساتھ رہائشیوں کو لے کر بیٹھے اور ان کو رقم دلوائے تاکہ عمارت توڑنے کا کام کیا جا سکے ۔ نسلہ ٹاور ایک علامت ہے ۔ اگر عدالت عظمی نے یہ کام کروا دیا تو پہھر اس کے لیے مزید چیلنجر سامنے کھڑے ہیں کراچی میں عسکری اپارٹمنٹ سے متصل سینما اور شاپنگ مال ۔ اس سڑک پر شادی ہالز، شہر میں جگہ جگہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے عمارتوں اور پارکوں پر قبضے ، نالے پر سرکاری عمارتوں کی تعمیر وغیریہ یہ سب بھی عدالت عظمیٰ کی توجہ کے مستحق ہیں۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثا اور موجودہ چیف جسٹس نے ان منصوبوں اور عمارتوٍں کے بارے میں بھی بڑے گرما گرم تبصرے کیے ہیں ۔ ان تبصروں پر عمل کا وقت آ گیا ہے ۔ یہ ٹھیک ہے نسلہ ٹاور توڑ دیا جائے گا ۔ لیکن کیا آنے والے دنوں میں حکومتوں اور سو سائٹیوں کو زمین کی ہیثت تبدیل کرنے اس کی پیمائش میں گھپلے کرنے سے روکنے کا کوئی طریقہ وضع کیا جا سکے گا ۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے نسلہ ٹاور ، گجر نالہ اور دیگر تجاوزات کو ریگولرائز کرنے والے سرکاری افسروں اور ان کے سر پرست سیاسی مافیا کو عدالت طلب کر لیا جائے ۔ اگر مر گئے ہیں تو بعد از مرگ مقدمہ چلا کر سزا سنانی چاہیے ۔اگر عدالت اس قدر مضبوط دل کی ہے کہ عمارت بارود سے اُڑانے کی بات کر دی ہے تو چائنا کٹنگ ، ڈی ایچ اے اور فوج کے زیر اہتمام شادی ہالز اور کاروباری اداروں کے معاملات پر بھی ایسیہی احکامات جاری کرے ۔ جب تک کرپٹ سرکاری افسروں کو سزانہیں ملیں گی اس وقت تک نسلہ ٹاور بنتے رہیں گے ۔