اسوہ رسول ؐ ہر نسل کیلیے مشعل راہ ہے،رخشندہ ناز

195
حیدر آباد، جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے تحت جلسہ سیرت نبیﷺ سے ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ ناز خطاب کررہی ہیں۔رخسانہ تنویر،سائرہ خلیق و دیگر بھی موجود ہیں

 حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی حلقہ خواتین شہر زون کے تحت نعمان گارڈن رحمن ٹاؤن پھلیلی میں جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد گیا گیا۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ ناز،ناظمہ ضلع حیدرآبادرخسانہ تنویر نے خصوصی خطاب کیا ۔اس موقع پر نائبین ضلع حیدآباد سائرہ خلیق، فرزانہ ایوب،رکن شوری نگراں شعبہ رابطہ عوام اور الخدمت کی نائب صدر سعدیہ رضوان،نگران حرم فورم عائشہ وحید،ایڈمن قرآن انسٹی ٹیوٹ کیمپسllامیر بی بی اور ناظمہ شہر زون شگفتہ طاہر سمیت خواتین کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔جماعت اسلامی حلقہ خواتین ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ نازنے جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسوہ حسنہ پر عمل کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گذاری جائے، بلاشبہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرکے ہم دنیا اور آخرت میں سرخرو
ہوسکتے ہیں۔خواتین اسلام اللہ کے کلمے کی سربلندی، نظام مصطفیؐ کے نفاذاور حرمت رسول پرکبھی بھی پیچھے رہی ہیں نہ رہیں گی بلکہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کلمہ حق بلند کرتی رہیں گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے گھروں میں بھی سکون و اطمینان اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے سے ہی آئے گا۔نبی کا اسوہ مبارک ہر زمانے اور ہر نسل کے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے،رسول اللہ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اس محبت کا تقاضہ ہی کہ اسلامی نظام کے قیام کی کوشش کی جائے، نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے دعوت وتربیت کے ذریعے اعلی ترین کردارواخلاق کے حامل افراد تیار کیے اور پھر انکے ذریعے مدینہ کی مثالی ریاست قائم کی۔انسانیت کے تمام مسائل کا حل اتباع اسوہ رسول ؐمیں ہے،رسول ؐکا مشن دین حق کو غالب کرنا تھا اور اب امت مسلمہ کا ہر فرد اس مشن کو پورا کرنے کا ذمہ دار ہے اور امانتدار اور باصلاحیت قیادت کے ذریعے پاکستان کو اسلامی اور فلاح ریاست بناناہی جماعت اسلامی کا مشن ہے۔جلسہ میں بچوں کے لیے گوشہ اطفال کا بھی اہتمام کیا گیا۔جلسہ کے اختتام پر قرارداد منظور کرائی گئی جس میں مطالبات کیے گئے کہ آپؐ نے 23 برس کی مختصر ترین مدت میں اپنے اعلی کردار اور اسلام کے بہترین قوانین کے سبب لاکھوں انسانوں کو اللہ رب العالمین کے سامنے برضاورغبت سراطاعت جھکانے پر آمادہ کیا۔ اسلام کے ان ہی سنہری قوانین کے مضبوط نفاذ کے لیے یہ ارض پاکستان وجود میں آیا تھا جسے تمام دنیا کے لیے ایک خوبصورت مثال بنناتھا۔ آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے حکمران نبی محترمؐ کی طرح مثالی ریاست قائم کرنے کے بجائے بدترین مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ تعلیمی کتب سے اللہ اور اسکے پیار نبیؐ کی تعلیمات گم کردی گئی ہیں۔ انسانیت سسک رہی ہے، ظلم وبربریت کا راج ہے۔عوام کی اکثریت بنیادی ضروریات زندگی سے محرومی کے سبب خودکشیوں اور جرائم کے عادی ہوگئے ہیں۔مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگ ڈپریشن اور مایوسیوں میں اور حکمران طبقہ عیاشیوں میں ڈوب چکا ہے۔ جلد ازجلد مقاصد پاکستان کو پوراکرے،اسلام اور انسانیت کی تکریم کرے، شرعت محمدیؐ کونافذ کرے، مہنگائی کو ختم کرے،غریب پرور بجٹ بنائے،مزدو اور حاکم کی تنخواہ برابر کرے۔قومی خزانے سے لوٹ مار اور کرپشن کو فی الفور بند کرکے ریاست مدینہ قائم کرنے سمیت اپنے تمام وعدے پورے کرے، قرارداد اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔