تیرہواں موسم

265

ہمیں آج کل حفیظ جالندھری مرحوم یاد آرہے ہیں۔ متحدہ ہندوستان میں انہوں نے کسی ریاست کے نواب کی مدح میں ایک قصیدہ لکھا۔ قصیدہ اتنا پسند آیا کہ نواب صاحب نے خوش ہوکر انہیں ایک ہاتھی عطا کردیا۔ حفیظ صاحب ہاتھی کو گھر تو لے آئے لیکن وہ چند ہفتے بھی اسے گھر پر نہ رکھ سکے اور اونے پونے بیچ کر جان چھڑائی۔ اس کی خوراک کا بندوبست ان کی جیب کی سہار سے باہر تھا۔ چھ سات سال پہلے ہم نے پیسہ پیسہ جوڑ کر ایک پرانی موٹر سائیکل خریدی تھی اور شہر میں اُڑے اُڑے پھرتے تھے لیکن اب گھر سے اس درس گاہ تک جہاں ہم معلم ہیں آنا جانا بھی بھاری پڑگیا ہے۔ اللہ کی پناہ کچھ کم تین سو روپے میں دولیٹر پٹرول۔
ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہم ایک بے کار آدمی ہیں جسے پیسہ کمانا نہیں آتا۔ معلمی اور کالم نگاری دونوں ہی وہ کام ہیں جن کی کوئی طلب نہیں۔ پیسہ زیادہ اور جلد کمانے کے لیے حکمرانوں سے قربت ایک طریقہ ہے۔ بیش تر کالم نگار یہ کام اپنی تحریروں سے لیتے ہیں۔ ان کے ایک ہاتھ میں مکھن ہوتا ہے اور دوسرے میں چونا۔ حسب موقع وہ مکھن اور چونا استعمال کرتے ہیں اور دولت میں کھیلتے ہیں۔ ہمیں یہ کام بھی نہیں آتا۔ جہاں مکھن ضروری ہو وہاں ہم چونا لگا دیتے ہیں اور جہاں چونا لگانا ہو وہاں مکھن۔ حکمرانوں سے قریب ہونے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کی جائے۔ علم نجوم میں دسترس حاصل کی جائے۔ ہمزاد سے اس بارے میں مشورہ کیا تو وہ بولا ’’بیوقوف! حکمرانوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے لیے علم نجوم سے زیادہ فوجی قیادت سے قریب ہونے کی ضرورت ہے۔ غالب بھی تو اگلے برس کے بارے میں جاننے کے لیے برہمنوں سے دوستی رکھتے تھے، تمہاری طرح علم نجوم میں سر کھپانے کا تھوڑی سوچتے تھے‘‘۔
پنڈت ہری چند اختر کا شعر ہے:
بس اتنی بات کی خاطر ترا محشر بپا ہوگا
ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا
کسی صاحب نے یہ شعر مشفق خواجہ مرحو م کو دکھا کر کہا کہ پنڈِت اخترؔ نے دوزخ کو مذکر باندھا ہے، کیا یہ ٹھیک ہے۔ خواجہ صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا کہ ’’ہر دو صورت میں اس سے پناہ مانگنی چاہیے‘‘ پھر کچھ توقف سے فرمایا، ’’دوزخ مؤنث ہے، کیونکہ لوگ اِس کے عذاب سے واقف ہوتے ہوئے بھی اس کے حصول میں لگے ہوئے ہیں‘‘۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اقتدار کا ہے۔ اقتدار کانٹوں کی وہ سیج ہے جہاں کسی کل چین نہیں آتا۔ اقتدار کو ’’تتہ توا‘‘ بمعنی گرم توا بھی کہا جاسکتا ہے لیکن پھر بھی جسے دیکھو اس تتے توے پر بیٹھنے کے لیے بے چین۔ چاہے پہلو بدلتے بدلتے ایک پل چین نہ آئے۔ تشریف شریف جل کر سیاہ ہوجائے۔ پلیٹیلٹس کم پڑ جائیں۔ نوٹیفیکیشن پر دستخط کرنا گلے کا ہار بن جائے۔
اقتدار وہ کہانی ہے جس میں کردار بدلتے رہتے ہیں۔ ہر صورت نئے کرداروں نے آکر پرانے کرداروں کی جگہ سنبھالنا ہوتی ہے۔ وہ کردار یاد رہتے ہیں جنہوں نے فرات کنارے بھوکے کتے کو ہردم یاد رکھا ہو۔ خود کو مستقل کردار نہ سمجھا ہو اور خلق کی امیدوں پر پورے اُترے ہوں۔ وگرنہ وہ جنہیں کل تک کہا جاتا تھا قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں جب ایوان اقتدار سے باہر نکل کر پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو سوائے اڑتے ہوئے خشک پتوں اور ہوا کی سنسناہٹ کوئی ان کے ساتھ نہیں ہوتا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے معاملے کو دیکھ لیجیے شبلی فراز ہو یا فواد چودھری سب ہی فاصلے سے نظر آتے ہیں۔ شہباز گل جو اس کائنات کی ہر بات پر بکواس کرسکتا ہے کہتا ہے یہ میرا دائرہ کار نہیں ہے۔ اقتدار کے نشے میں ایک کے چار اور چار کے بارہ موسم نظر آتے ہیں لیکن اقتدار سے ہٹتے ہی تیرہویں موسم کا آغاز ہوجاتا ہے۔ وہ جو اقتدار کے دنوں میں اپنے نظر آتے ہیں ان کی اکتاہٹ، بے وفائی اور غداری کا موسم۔
ترے سرکس پہ پہلے رش بہت تھا
مگر اب شہر اکتایا ہوا ہے
ایک بحری جہاز ڈوب رہا تھا۔ ایک انگریز پوچھنے لگا: ’’یہاں سے زمین کتنی دور ہے؟‘‘۔ سردار بولا۔ ’’جی۔ ایک کلو میٹر‘‘۔ انگریز نے سمندر میں چھلانگ لگاتے ہوئے پوچھا: ’’کس طرف‘‘۔ سردار بولا ’’تھلّے نوں‘‘۔ اقتدار بھی ایک ایسا ہی جہاز ہے جس کے ڈوبنے کی صورت میں بدنامی اور ذلت کی تھاہ اور رسن ودار زیادہ دور نہیں ہوتے لیکن پھر بھی جسے دیکھو اس کے حصول کے لیے مرا جارہا ہے۔
1987ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے والے کامریڈ پیٹ وال نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا: ’’میں اس ایوان کا حصہ بننے کے لیے یہاں منتخب ہو کر نہیں آیا ہوں۔ میرا پہلا اور آخری مقصد اپنے ووٹروں اور محنت کش طبقے کے سامنے اس ایوان کے فریب دھوکے اور عیاری کو بے نقاب کرنا ہے‘‘۔ ہمارے حکمران ایسا نہیں کرتے۔ وہ پارلیمنٹ کے دھوکے اور عیاری کو بے نقاب نہیں کرتے کیونکہ وہ پارلیمنٹ میں جاتے ہی نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ میں جانا وہ اپنی تو ہین سمجھتے ہیں۔ عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں اور ان سے بھیڑ بکریوں والا ہی سلوک کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں اقتدار سے نکالا جاتا ہے تو پارلیمنٹ ان کی پشت پر ہوتی ہے اور نہ عوام اور نہ ان کی کچن کا بینہ۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ٹیلنٹڈ کزن ممتاز علی بھٹو، غلام مصطفی جتوئی، عبدالحفیظ پیر زادہ، غلام مصطفی کھر، مولانا کوثر نیازی اور نجانے کس کس کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا لیکن جب ان پر برا وقت آیا، وہ ایوان اقتدار سے باہر آئے تو جیل کی تاریک کوٹھڑی میں تنہا تھے۔ بے نظیر بھٹو کو بہت تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا۔ تینوں مرتبہ اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد ایسے ہی حالات کا سامنا نواز شریف کو کرنا پڑا۔ بھٹو کے برے وقت میں کوئی کام آیا تو وہ ان کی بیوی اور بیٹی تھی۔ بے نظیر بھٹو کو ان کے منہ بولے بھائی نے ایوان اقتدار سے نکال باہر کیا۔ انہیں جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑی اس موقع پر ان کے شوہر آصف علی زرداری اور شہادت کے بعد بیٹے بلاول نے ان کی پارٹی کو سنبھالا۔ نواز شریف وزیراعظم ہائوس سے نکل کر کال کوٹھڑی میں پہنچے تو ان کے ساتھ چودھری شجاعت اور دوسرے لوگ تھے اور نہ ان پر جان نثار کرنے والے۔ اس مرتبہ اگرچہ صورتحال مختلف ہے پارٹی اور عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ان کے فوج مخالف موقف پر اکثر کا کہنا تھا ’’میاں صاحب مروائیں گے‘‘۔ اس وقت اگر کسی نے آگے بڑھ کر ان کے بیانیے کا جرأت سے بوجھ اٹھایا تو وہ ان کی صاحبزادی مریم نواز ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ نہ پارلیمنٹ ہے نہ کچن کابینہ اور نہ ہی ان کے خاندان کا کوئی فرد کیونکہ اپنے گھر اور خاندان کے کسی فرد کی انہوں نے نہ کبھی عزت کی، نہ کبھی خوشی غمی میں شریک کیا اور نہ وہ کبھی اپنے خاندان کا حصہ رہے۔ رہے عوام! تو شاید ہی کبھی پاکستان کا کوئی سیاسی لیڈر ان کے جتنا عوام کی نفرت کا نشانہ بنا ہو۔ اقتدار میں آکر عوام کو عذاب دینے اور ان کی گالیاں کھانے کے سوا انہوں نے کچھ نہیں کھایا۔ اقتدار کے تیرہویں موسم میں ان سے زیادہ تنہا شاید ہی کوئی ہو۔