غزنی سے نواکھلی تک ردعمل کی لہریں

319

بنگلا دیش میں مشتعل مسلمان آبادی اپنی ہم وطن ہند و آبادی پر حملے کررہی ہے۔ حقیقت میں یہ حملے بڑے ارمانوں سے اُگائے گئے اُس شجر پر ہیں جس کی ایک مشترکہ شاخ پر ہندو اور مسلمان آبادی کو ’’امار دیش تمار دیش بنگلا دیش‘‘ کا مسحور کن نعرہ لگایا تھا۔ خلاصہ یہ تھا کہ بنگال کا ہندو اور مسلمان ایک ہے اور اس کا مغربی پاکستان کے مسلمان سے کیا واسطہ؟ پرتشدد واقعات کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک مندر میں مورتی کے قدموں میں قرآن پاک رکھنے کا واقعہ سامنے آیا۔ جس کے بعد کئی اضلاع اور شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور کئی مندروں کو جلا گیا۔ کئی افراد تشدد میں جاں سے گزر گئے اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ حسینہ واجد بھارت اور بنگالی ہندوئوں کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں اس لیے بنگلا دیشی عوام کے اس طرز عمل پر ان کا مضطرب ہونا حکمران سے زیادہ احسانات کا فطری نتیجہ تھا مگر وہ مسلمانوں کے احتجاج کے آگے بس ہو گئیں۔ سب سے دلچسپ بات حسینہ واجد کا تبصرہ ہے جس میں انہوں نے کہا بھارت اپنے ہاں انتہا پسندوں کو روکے اور یہ کہ بھارت میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جو ہمارے ملک کو متاثر کرے اور اس کے نتیجے میں ہمارے ملک میں اقلیتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ حسینہ واجد کے اس تبصرے کا صاف اور آسان مطلب یہ ہے کہ بنگلا دیش میں اس وقت ہندو آبادی کے خلاف تشدد کی جو لہر چل پڑی ہے وہ بھارت میں انتہا پسندی کا ردعمل ہے یا اس انتہا پسندی سے آکسیجن حاصل کرتی اور نمو پاتی ہے۔ اس طرح حسینہ واجد ماضی کے تمام احسانات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ملک میں رونما ہونے والے واقعات کی جڑ بھارت کی ہندو توا پالیسی میں تلاش کرکے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔ یہ چنداں غلط بھی نہیں آسام میں ایک مسلمان کی لاش پر اُچھلنے والے صحافی کی وڈیو نے دنیا کو دہلا دیا ہے۔ آسام میں ہندو توا پالیسی کا نشانہ بننے والے اکثر لوگ بنگالی مسلمان ہوتے ہیں۔
یہ وہ بنگلا دیش ہے جہاں اندرا گاندھی نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کردینے کا فاتحانہ اعلان کیا تھا۔ نریندر مودی کی شخصیت کا ’’اعجاز‘‘ ہے کہ وہ اس ٹائٹینک کی باقیات کی طرح دوقومی نظریے کو خلیج بنگال کی تہہ سے دوبارہ نکال کر لائے ہیں۔ سونار بنگلا میں آج ہندو اور مسلمان کی اُبھرتی ہوئی تقسیم مودی کے اس کارنامے کی داستان سنارہی ہے۔ کچھ ہی دن پہلے افغانستان کے شہر غزنی میں طالبان لیڈر انس حقانی نے سومناتھ کا مندر گرانے والے سلطان محمود غزنوی کے مزار کا دورہ کرکے تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کیں تھیں اور ان کے ٹویٹ کا یہ جملہ معنی خیز تھا کہ سلطان محمود غزنوی نے سومناتھ کے بت توڑے تھے۔ افغانستان کے شہر غزنی سے بنگلا دیش کے شہر نواکھلی تک یہ سب بوتل کے اس جن کا تعاقب اور ردعمل ہے جسے نریندر مودی نے نکالا ہے۔ وہ اس خطے کی بدقسمتی کا دن تھا جب بھارتیا جنتا پارٹی نے اپنے طویل المیعاد نظریاتی مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے ہندوتوا کے جن کو بوتل سے نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ کہنا بہت سطحی ہوگا کہ بھارتیا جنتا پارٹی نے یہ راستہ محض اقتدار کے غرض سے اپنایا تھا حقیقت میں یہ اپنی تہذیب اور نظریہ کو بالادست بنانے کا خواب تھا۔ مہا بھارت کا تصور اور فرزندان زمین ہونے کے تصور کے تحت باقی تہذیبوں سے برتر کا خبط تھا۔ اسی جنون نے بابری مسجد کو نگل لیا۔ بابری مسجد کے قدیم گنبدوں کے ساتھ ہی بھارت میں گاندھی اور نہرو کا سیکولر ازم بھی زمیں بوس ہو گیا تھا۔ بابری مسجد کے ملبے تلے نہرو کے جدید خیالات اور گاندھی کے انسانی مساوات کے تصورات بھی دب کر رہ گئے۔ اس کے بعد بھارتیا جنتا پارٹی نے اس راہ میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ نفرت، بالادستی اور فرقہ پرستی کا جن بوتل سے نکال دیا گیا اور جو کوچہ کوچہ پھر کر اپنا سودا بیچتا چلا گیا۔
برصغیر کی تقسیم کے وقت بھی نفرتوں کی ایک لہر آئی تھی مگر یہ زخم مندمل ہونے لگے تھے۔ فریقین کو احساس ہونے لگا تھا کہ بچھڑنا ضروری تھا تو بھی بقول ساحر لدھیانوی اس افسانے کو ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑ دینا اچھا تھا۔ بھارتیا جنتا پارٹی نے ہندو بالادستی کے نظریے کو ریاست کی طاقت اور وسائل میں گوندھنے کا عمل شرو ع کیا۔ یوں رفتہ رفتہ بھارت کا سیکولرازم دستور کی کتاب میں لکھے ہوئے بے جان لفظوں تک محدود ہوتا چلا گیا۔ سرکاری اور عوامی سطح پر نفرت سے بھرپور ہندوآئیڈلوجی طاقت پکڑتی چلی گئی اور جس پر ایک دور میں بھارت کی مداح اور جلاوطنی کے لیے بھارت کو پسند کرنے والی معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض بھی بے ساختہ کہنے پر مجبور ہوئیں۔ تم بالکل ہم جیسے نکلے۔ جب تک بھارت میں ہندو توا نظریہ اور ہزاروں سالہ غلامی کا بدلہ لینے کی سوچ پرائیوٹائز تھی زیادہ مسئلہ پیدا نہ ہوا جب یہ سوچ ریاست کے اندر سرایت کرگئی تو پھر اس کا ردعمل آنا فطری تھا۔ ہندو توا جن کو بوتل سے نکال کر مسند اقتدار پر بٹھانا ایک نظریاتی حماقت تھی۔
بھارت کے اندر کروڑوں مسلمان، مشرق میں بنگلا دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا، مالدیپ، مغرب میں پاکستان، افغانستان ایران، وسط ایشیائی ریاستیں اور سمندروں سے پرے خلیجی ممالک کی طویل پٹی جو یورپ کے ساتھ جا کر ختم ہو تی ہے۔ ر
پچھواڑے میں کنفیوشس تہذیب ہے جسے خود بھارت ’’ڈریگن‘‘ کہہ رہا ہے۔ اس جزیرے میں سخت گیر نسل اور فرقہ پرست پرستانہ انداز سراسر گھاٹے کا سودا تھا۔ نفرت بھی کس سے اپنی کروڑوں کی آبادی کے ساتھ اور اپنے ہمسایوں اور ہمسایوں کے ہمسایوں کی ایک طویل زنجیر کے ساتھ۔ اسرائیل کا کام تو چل گیا تھا مگر اسرائیل اسٹائل دنیا کا رول ماڈل اور قابل تقلید مثال نہیں بن سکتا تھا۔ ہندو توا کا نظریہ اپنے لوگوں سے لڑا پھر کشمیریوں سے لڑائی چھیڑی، سکھوں سے نبرد آزما ہوا، پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ بنگلا دیش اور افغانستان سے بنا کر رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی۔ جو ہندو توا کی جو پالیسی بھارت کے اندر اپنائی جا رہی تھی یہ ممکن ہی نہ تھا کہ گردوپیش اس کے اثرات سے الگ رہتا۔ افغانستان میں طالبان لوٹ آئے تو انتہا پسند ہندو ذہنیت نے یہ ماتم شروع کردیا کہ کابل انتہاپسندوں کے قبضے میں چلا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کا بھارت دنیا میں کسی اور انتہا پسندی کا طعنہ دے خدا کی شان ہے۔ اب بنگلا دیش میں ردعمل پھوٹا تو بھارت چیخ رہا ہے کہ بنگلا دیش ایک اور ’’افغانستان‘‘ بن گیا ہے۔