پست معیار تعلیم کا سبب تربیت کا فقدان اور اچھی ملازمت نہ ملنا ہے

657

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) پست معیار تعلیم کا سبب تربیت کا فقدان اور قابل احترام ملازمت کے مواقع نہ ملنا ہے‘ بجٹ میں تعلیم کے لیے کم حصہ رکھا جاتا ہے‘ اساتذہ سفارش پر بھرتی کیے جاتے ہیں‘ غیر ملکی زبان میں تعلیم نہیں ہونی چاہیے‘ کرپشن و نااہلی نے نظام کو خراب کردیا ہے‘ مولانا مودودی کی رائے میں تعلیم کا حقیقی مقصد کردار سازی ہے۔ان خیالات کا اظہارآغا خان یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ کراچی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پاکستان ایسوسی ایشن فار ریسرچ اینڈ ایجوکیشن (پی اے آر ای) کے جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر ساجد علی، تعلیم و تربیت کے معروف ادارے طفلی ایجوکیشن کے سی ای او عبدالحئی ثاقب، پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹی آف انفارمیشن اینڈ میڈیا اسٹڈیز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، کریکٹر ایجوکیشن فائونڈیشن پاکستان کراچی کے ایمبیسیڈر، پاکستان ترکی بزنس فورم کے بانی و صدر معروف ماہر معاشیات محمد فاروق افضل اور ایجوکیشنل ریسورس ڈیولپمنٹ سینٹر (ای آرڈی سی) میں سلمان آصف صدیقی کے ٹیم ممبر اور اسٹریٹجک ڈیولپمنٹ کے سربراہ محمد حسان فہد صدیقی نے جسارت کے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کیا کہ’’ملک میں پست معیار تعلیم کے اسباب کیا ہیں؟ ڈاکٹر ساجد علی نے کہا کہ معیار تعلیم مختلف عناصر کا مجموعہ ہے جن کی بہتر کارکردگی کے باعث ہی ترقی ممکن ہے‘ سب سے پہلے معیاری تعلیمی نصاب کی ضرورت ہے‘ یہ تعلیمی نصاب ایک معیاری تعلیم ماحول میں ہی پڑھایا جاسکتا ہے‘ ان سب سے بڑھ کر ایک اچھا استاد یا استانی ان عناصر کو بروئے کار لا کر بچوں اور بچیوں کی معیاری تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں‘ صرف پڑھانا ہی اہم نہیں بلکہ معیاری امتحانات اور جانچ کے طریقے اس بات کے ضامن ہیں کہ معیاری تعلیم کو معیاری طریقے پر جانچا جاسکے‘ ان تمام عناصر یعنی نصاب، ماحول، استاد، استانی اور امتحانات کو موثر بنانے کے لیے بہترین پالیسی اور لیڈر شپ ایک کلیدی حیثیت رکھتے ہیں‘ رہا جواب اس بات کا کہ پست معیار تعلیم کے اسباب کیا ہیں تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اوپر بتائے گئے تمام عناصر ایک مجموعے کے طور پر ہی کام کرتے ہیں اور ایک عنصر میں خرابی دیگر عناصر میں خرابی کا باعث بنتی ہے اور یہ سب مل کر تعلیم کے معیار کی پستی کا سبب بنتے ہیں‘ اگر آپ یہ جاننے پر اصرار کریں کہ بہتری کہاں سے شروع کی جائے تو میں اس بات پر زور دوں گا کہ معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے بہترین اساتذہ اولین ترجیح ہونے چاہئیں‘ ہمارے ملک میں گزشتہ برسوں میں اساتذہ کی تیاری کے لیے بہت کاوشیں بھی کی گئی ہیں‘ جیسا کہ4 سالہ بی ایڈ Bed پروگرام اور 2 سالہ ADE پروگرام جو کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی شراکت سے جاری کرایا ہے‘ گزشتہ چند برسوں میں ان پروگرامز سے فارغ اساتذہ سے ملنے کا موقع بھی ملا ہے اور ان کی کارکردگی قدرے بہتر نظر آئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت بجائے ان بہتر تربیت یافتہ افراد کو بھرتی کرے انہوں نے موجودہ بھرتیوں میں کسی بھی طرح کی پروفیشنل تعلیم (Bed/ADE) کی شرط ہی ختم کردی ہے‘ حکومت سنگل نیشنل کریکولم (SNC) بنانے میں بڑی جانفشانی سے کام کر رہی ہے۔ عبدالحئی ثاقب نے کہا کہ تعلیم کی ناقدری کی 3 بڑی وجوہات ہیں‘ ان میں سب سے بڑی وجہ اساتذہ کا تربیت یافتہ نہ ہونا ہے اور اگر تربیت لے بھی لیں تو اس کے مطابق تنخواہ کا نہ ملنا ہے‘ کالج اور یونیورسٹی لیول تک تو ٹیچرز کو اچھی تنخواہوں مل جاتی ہیں لیکن پرائیوٹ اسکول کے بہت کم ٹیچر ایسے ہوتے ہیں جو اس شعبے کو مستقبل کے طور پر نہیں اپناتے ہیں‘ اکثریت اپنے وقت کو گزارنے اور اپنے جیب خرچ کو نکالنے کے لیے اسکولوں میں ملازمت کر رہی ہوتی ہے‘ خواتین اساتذہ ایک سے 2 سال میں یا تو اسکول بدل لیتی ہیں یا وہ اسکول مجبوراً چھوڑ دیتی ہیں۔ ان ٹیچرز کو پڑھانے کا اتنا شوق نہیں ہوتا ہے‘ پاکستان میں مزدوروں کی کم ازکم تنخواہ 20 ہزار روپے ہے‘ اساتذہ کو اس سے بھی کم تخواہ ملتی ہے‘ ان کو مناسب تنخواہ دی جائے تاکہ وہ اس کو اپنا کیرئر بنائیں‘ سرکاری تعلیمی اداروں میں اس سے بھی برا حال ہے‘ یہاں اساتذہ سفارشی بنیاد پر بھرتی کیے جاتے ہیں اسکول اور کالج کے ٹیچرز کو الیکشن سسٹم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے‘ سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی کامیابی کے لیے ان ٹیچرز کو ایجوکیشن سسٹم میں شامل کراتی ہیں اور پھر ٹیچرز کی بھری کا وہ معیار نہیں رہتا ہے جو ہونا چاہیے‘ اگر ٹیچرز کی میرٹ پر بھرتیاں اور تربیت کا مؤثر انتظام ہو اور اچھی تنخواہیں ملیں تو جس سے ایک ٹیچر تعلیمی شعبے کو اپنا مستقبل بنائے گا‘ اس طرح تعلیمی اداروں میں ٹیچرز کا غیر معیاری ہونے کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ دوسرا مسلئہ یہ ہے کہ سرکاری، پرائیویٹ اسکولز اور کالجز میں لیکچرر بیسڈ تعلیم نہیں دینی چاہیے وہاں سرگرمیوں کی بنیاد پر بچوں کو تعلیم دینی چاہیے‘ دنیا بھر میں اسکولوں کا جوماحول ہوتا ہے وہ ایک گھر کی طرح کا ہوتا ہے اور ٹیچرز کو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہر وقت بچوں کو پڑھا رہا ہو بلکہ مختلف قسم کی سرگرمیاں کر رہا ہے ہو‘ وہ اسکول والا ماحول ہمارے یہاں بن ہی نہیں پاتا ہے‘ ہمارے یہاں صرف کلاس روم ہوتی ہے اور اس میں ٹیچرز اپنا لیکچرر دے رہا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عقل کو 3 حصوں میں تقسیم کرتا ہوں ایک ہے میموری دوسرا ہے انڈسٹرنگ اور تیسرا ایمپلی کیشن ہے‘ ہمارے اسکول اور کالج صرف میموری کی حد تک محدود ہیں وہ انڈسٹرنگ پر تھوڑے بہت آجاتے ہیں اور ایمپلی کیشن پر تو بہت دور ہوتے ہیں‘ اس حوالے سے ہمیں والدین کی تربیت کی ضرورت ہے کہ وہ نمبر کے چکر میں پڑنے کے بجائے تفہیم اطلاق اور تخلیقی صلاحتیں پیدا کرنے والے تعلیمی اداروں میں بچوں کو داخل کرائیں۔پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ پاکستان میں معیار اور مقدار تعلیم دونوں ہی بہت پست ہیں‘ نہ پاکستان میں معیار کے لحاظ سے ایجوکیشن بہتر ہے اور نہ ہی مقدار کے لحاظ سے تعلیم کا معیار اچھا ہے‘ جتنی تعلیمی سہولیات طلبہ کو فراہم کرنی چاہئیں وہ انہیں میسر نہیں ہیں‘ پاکستان میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو پڑھنے کے لیے تیار ہیں لیکن سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں‘ قومی سطح پر تعلیم کو معیاری بنانے کے لیے حکومت کی کبھی کوئی ترجیحی نہیں رہی ہے‘ کسی حکومت نے کبھی یہ طے ہی نہیں کیا کہ تعلیم کا معیار کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے‘ بجٹ کا سب سے کم حصہ تعلیم کے لیے رکھا جاتا ہے‘ اس میں اضافے کی ضرورت ہے ۔ سرکاری اور عوامی سطح پر پاکستانیوں کی بڑی تعداد یا تو کرپٹ ہے یا پھر نااہل ہے‘ پاکستانی معاشرے کے ساتھ کرپشن اور نااہلی کا مسئلہ بہت زیادہ سنگین ہوگیا ہے جب یہ2 بیماریاں عام ہوںگی تو ایجوکیشن سسٹم بہتر کیسے ہو سکتا ہے‘ اس طرح جو تھوڑا سا بجٹ تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا ہے اس کو بھی خرچ نہیں کیا جاتا ہے‘جب تک ان 2 بڑی بیماریوں کو جڑ سے ختم نہیں کیا جاتا‘ اس وقت تک تعلیم کا معیار پست ہی رہے گا۔محمد فاروق افضل نے کہا کہ ہمارے یہاں تعلیم کے ساتھ تربیت کا فقدان بھی ہے اور تربیت صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کلام ترجمہ کے ساتھ پڑھنے سے آئے گی‘ جاپان میں5 سال کے بچے کو اسکول میں لیتے ہیں اور اگلے 5 سال وہ صرف تربیت کرتے ہیں۔جس میں وہ بچوں کو مدد کرنا، بہادری، صفائی کرنا، عزت کرنا، قانون کا احترام کرنا، ساتھیوں سے احترام سے پیش آنا، کھانے میں شئیر کرنا، اٹھنے بیٹھنے کھڑے ہونے کے آداب، چھوٹے بڑے کا احترام اور بہت کچھ سکھایا جاتا ہے‘ پھر جا کر تعلیم کا آغاز کیا جاتا ہے‘ ہمارا تعلیمی نظام مکمل طور پر اردو میں ہونا چاہیے‘ آج تک کسی بھی ملک نے غیر ملکی زبان میں پڑھ کر ترقی نہیں کی ہے ۔ حسان فہد صدیقی نے کہا کہ ہم موجودہ نظام تعلیم سے یہ امید رکھتے ہیں کہ تعلیمی اداروں سے کوئی اچھی پروڈکٹ نکل کر آئے تو یہ ناممکن ہے‘ ہماری ذہنی، فکری پستگی اور ہمارا علمی انحطاط اس کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ہمارا معاشرہ اس کی عکاسی کر تا ہے ‘ ہمارے حکمرانوں کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ ہمارے تعلیمی نظام کو درست سمت میں گامزن کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی رائے میں تعلیم کا حقیقی مقصد تعمیر کردار ہے‘ تعلیم کا مقصد محض معاشی ضروریات کی تکمیل نہیں ہے بلکہ اس کا حقیقی مقصد تہذیب و تمدن کی ترقی اور انسانوں کو اچھا شہری بنانا ہے‘ مسلمانوں کے تعلق سے اس کی اور بھی اہمیت ہے جو تعلیم انہیں ان کے مذہب سے بے گانہ اور ان کی نئی نسل کے اخلاق کو پراگنداکردے وہ کس کام کی ہے؟۔