اورنگی ٹاؤن میں رفاہی پلاٹ پر قبضے و تعمیرات جاری ،جماعت اسلامی کا احتجاج

330

کراچی (رپورٹ: محمد انور) ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی اورنگی ٹاؤن میں پبلک بلڈنگ کے لیے مختص کیے گئے متعدد پلاٹوں کو خلاف قانون لیز کرکے ان پر تجارتی تعمیرات کی جا رہی ہے‘ غیر قانونی تعمیرات کی بد عنوان افسران پشت پناہی کر رہے ہیں۔ جبکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی ٹاؤن رضا رضوی کا کہنا ہے کہ خلاف قانون کی گئی لیز کو بھی پروجیکٹ ڈائریکٹر منسوخ نہیں کر سکتا ایسے تمام پلاٹوں کی لیز کی منسوخی صرف عدالت کے حکم کے ذریعے ہی ممکن ہے‘ بلدیہ کراچی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 6 سال کے دوران سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر نے متحدہ قومی موومنٹ کے بعض رہنماؤں کے ایما پر اورنگی ٹاؤن کے مختلف سیکٹر میں عوامی عمارتوں کے لیے مختص کیے گئے 400 ،800 اور 1000 گز کے ایس ٹی پلاٹوں پر غیر قانونی قبضہ کرادیا گیا ہے‘ اس کے بعد مبینہ طور پر متعلقہ اداروں کے افسران اور لینڈ مافیا کی ملی بھگت سے ان پلاٹوں پر غیر قانونی تجارتی
تعمیرات شروع کرا دی گئی ہیں۔ جماعت اسلامی کراچی کی پبلک ایڈ کمیٹی نے اورنگی ٹاؤن سیکٹر 14 اے کے ایسے ہی پلاٹ نمبر ایس ٹی ایک کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس 400 مربع گز کے پلاٹ پر غیر قانونی کمرشل تعمیرات کو روکا جائے اور اس کام میں ملوث افراد اور قبضہ مافیا سے سختی سے نمٹا جائے‘ عوامی عمارت کی تعمیر کے لیے مختص کیے جانے والے اس پلاٹ پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بدعنوان افسران اور لینڈ مافیا کے کارندے عوامی پلاٹوں پر تجارتی تعمیرات بڑی تیزی سے کر رہے ہیں جسے فوری رکوانے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی واضح ہدایت کے باوجود پبلک بلڈنگ کے لیے مختص پلاٹوں پر تجارتی تعمیرات کا ہونا انتہائی شرم کی بات ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران اورنگی ٹاؤن پروجیکٹ کے کرپٹ افسران نے متعدد ایسے پلاٹوں کو جو صرف عوامی عمارتوں کی تعمیر کے لیے مختص کیے گئے تھے، پر لینڈ مافیا کی ملی بھگت سے قبضہ کرایا اور پھر ان پلاٹوں کو لاکھوں روپے کی لاگت سے فروخت کردیا۔ بعد ازاں ان پلاٹوں پر تجارتی تعمیرات بھی شروع کرادیں جس کے باعث اہم عوامی عمارتوں کی تعمیرات کے منصوبے مکمل نہیں کیے جا سکے۔ موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر رضا رضوی کا بھی کہنا ہے کہ بدعنوان افسران نے انتہائی چالاکی سے ایس ٹی پلاٹوں کو تجارتی پلاٹوں کے طور پر لیز بھی کر دیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ان پلاٹوں کی لیز منسوخ کرنا ناممکن ہے بلکہ مذکورہ لینڈ مافیا کے کارندوں کے خلاف کارروائی کرنا بھی مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیز شدہ پلاٹوں کی لیز صرف عدالت کے حکم پر ہی منسوخ کی جا سکتی ہے تاہم عدالت عظمیٰ کے واضح احکامات کے باوجود متعلقہ ادارے لیز منسوخ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔